آذر بائیجان اور آرمینیا میں جھڑپیں جاری عالمی برادری جنگ بندی کیلئے متحرک 

  آذر بائیجان اور آرمینیا میں جھڑپیں جاری عالمی برادری جنگ بندی کیلئے متحرک 

  

 آرمینیا (مانیٹرنگ ڈیسک)آذر بائیجان اور آرمینیا کی افواج کے درمیان متنازع علاقے ’نگورنو کارا باخ‘ میں تیسرے روز بھی شد یدجھڑ پیں جاری رہیں۔آذربائیجان کی وزارت دفاع کے مطابق نگورنو کارا باخ میں رات بھر جھڑپیں جاری رہیں، مخالف فورسز نے آذربائیجان کے زیر تسلط علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کیلئے مختلف سمتوں سے شدید حملے کیے۔ جھڑپوں میں آذربائیجان کے 9 اور آرمینیا کے 2 شہری ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ نگورنو کارا باخ کے 84 علیحدگی پسند ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔کاراباخ کی صورتحال پرترک صدر اور برطانوی وزیر اعظم کے درمیان رابطہ ہوا، دونوں رہنماؤں نے جنگ بندی سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔ صورتحال پر غورکیلئے سلامتی کونسل کا بند کمرہ اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور برطانوی وزیر اعظم نیکاراباخ میں جھڑپوں کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم نے بھی آذربائیجان پر آرمینیا کی 'جارحیت' کی مذمت کرتے ہوئے تنازعے کے سیاسی حل پر زور دیا ہے۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے آرمینیاسے مطالبہ کیاہے کہ وہ نگورنو کارا باخ سے قبضہ ختم کرتے ہوئے اس علاقے سے نکل جائے جوکہ عالمی طور پر آذربائیجان کا تسلیم شدہ حصہ ہے۔روسی صدارتی آفس سے جاری بیان میں کہاگیا فریقین اور ان کے اتحادی خاص طور پر ترکی جنگ بندی کیلئے ہرممکن اقدام کریں تاکہ اس مسئلے کا پرامن حل نکالا جاسکے۔عرب میڈیا کے مطابق روس ا ٓ ذربا ئیجان اور آرمینیا دونوں کو بڑی تعداد میں اسلحہ فروخت کرتا ہے۔

 اقوام متحدہ

مزید :

صفحہ اول -