صدر ٹرمپ کی ٹیکس ادائیگی کا مسئلہ شدت پکڑ گیا 

  صدر ٹرمپ کی ٹیکس ادائیگی کا مسئلہ شدت پکڑ گیا 

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) امریکہ کے صدارتی انتخابات میں تقریباً ایک ماہ کا عرصہ رہ گیا ہے اور ریپبلکن اور ڈیمو کریٹک پا ر ٹیوں کے نامزد صدارتی امیدوار صدر ٹرمپ اور سابق نائب صدر جوبیڈن کے درمیان منگل کی شب پہلے مباحثے سے قبل صدر ٹرمپ کی ٹیکس ادائیگی کا مسئلہ شدت پکڑ گیا۔ جوبیڈن کی انتخابی ریلیوں اور ڈیمو کریٹک لیڈروں کے بیانات میں اس سلسلے میں صدر ٹرمپ پر شدید تنقید جاری ہے۔ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کی طرف سے اس الزام کو بے بنیاد اور جعلی قرار دینے کی کوشش ضرور کی گئی ہے لیکن وہ اس کی تردید میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کرسکے۔ امریکی میڈیا بھی اس مسئلے کو برابر اچھال رہا ہے جو ان انتخابات کا ایک اہم موضو ع بن چکا ہے،صدرٹرمپ ایک ارب پتی بزنس مین ہیں لیکن وہ مبینہ طور پر ٹیکس ادا کرنے کیلئے ایسے حربے اختیار کرتے ہیں جن سے اس ادائیگی سے بچا جاسکتا ہو۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق انہوں نے پندرہ میں سے دس سال کے دوران کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا اور بقایا پانچ سالوں میں جو ادا کیا وہ کسی سکول ٹیچر یا نرس کی ادائیگی سے بھی کم تھا۔ مثال کے طور پر انہوں نے 2016ء اور 2017ء کے مالی سالوں کیلئے سالانہ  750ڈالر ادا کئے۔ ڈیمو کریٹک پارٹی کے مطالبے پر ٹیکس کے محکمے ”آئی آر ایس“ نے صدر ٹرمپ کے بزنس کی ٹیکس ادائیگیوں کی تفتیش شروع کردی ہے۔ محکمہ خاص طور پر اس ”مشکوک“ ٹیکس ریفنڈ کا جائزہ لے گا جس کی مالیت تقریباً 73ملین ڈالر ہے جو ٹرمپ کے بزنس نے 2010ء کے مالی سال میں حاصل کیا تھا۔ انہوں نے نیویارک ریاست میں بیڈفورڈ کے مقام پر اپنی 200 ایکڑ فیملی اسٹیٹ کو ”سرمایہ کاری کی جائیداد“ ظاہر کرکے ٹیکس بچایا جبکہ وہ دراصل ان کا فیملی ھوم ہے۔

ٹرمپ ٹیکس

مزید :

صفحہ اول -