ڈی ایم سیز سے گھوسٹ ملازمین کا خاتمہ کیا جائے: وزیراعلٰی سندھ 

    ڈی ایم سیز سے گھوسٹ ملازمین کا خاتمہ کیا جائے: وزیراعلٰی سندھ 

  

 کراچی (اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے ضلعی میونسپل کارپوریشنز (ڈی ایم سیز) کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہیں اکاونٹنٹ جنرل سندھ کے ذریعے جاری کریں اور وہ اپنے ملازمین کی فزیکل ویری فکیشن شروع کریں تاکہ گھوسٹ اور رٹائرڈ ملازمین جو تنخواہیں لے رہے ہیں اور اسے POL اور دیگر شعبوں میں چوری کرنے کے عمل کو روکا جاسکے۔  یہ ہدایت انہوں نے وزیراعلی ہاس میں کے ایم سی اور ڈی ایم سی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی۔ اجلاس میں وزیر بلدیات ناصر شاہ، مشیر قانون مرتضی وہاب، ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی افتخار شہلوانی، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، کمشنر کراچی سہیل راجپوت اور ڈی ایم سی / ڈپٹی کمشنرز نے شرکت کی۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کو ڈی ایم سی کا ایڈمنسٹریٹر بنا دیا گیا ہے لہذا انہیں صفائی، اسٹریٹ لائٹ، پارکوں کی بہتری، سڑکوں کی بہتری، سیوریج نظام کے حوالے سے اپنے اپنے علاقوں میں واضح تبدیلی لانے کیلئے سخت محنت کرنی ہوگی۔ انہوں نے اجلاس میں شرکا کو ہدایت کی  کہ مجھے یقین ہے کہ آپ اپنے علاقوں میں تجاوزات روکنے کیلئے سخت اقدامات اٹھائیں گے۔ وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ انھیں اطلاع ہے کہ گھوسٹ ملازمین بلدیاتی اداروں میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا میں نے بلدیاتی سسٹم سے ان کی تنخواہوں کو اے جی سندھ میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ماضی کے ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین اور یہاں تک کہ جو ڈبل تنخواہ لے رہے ہیں انکی تنخواہوں کی ادائیگی کو روکا جاسکے۔ اور اگلے مرحلے میں اے جی سندھ کے اسی  تنخواہ ادائیگی کے نظام کو دوسرے ڈویژنوں جیسے لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد اور حیدرآباد میں متعارف کرایا جائے گا۔ وزیراعلی سندھ نے کے ایم سی، ایس بی سی اے، کے ڈی اے اور دیگر ترقیاتی اداروں سمیت تمام منتظمین کو ہدایت کی کہ وہ ہر ملازم کی فزیکلی ویریفکیشن کریں اور پھر انکی تنخواہیں جاری کریں۔ ہمیں اپنے بلدیاتی اداروں کو موثر اور ماڈل بنانا ہے۔ منتظمین نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ گھوسٹ ملازمین اور حتی کہ ریٹائرڈ ملازمین بھی باقاعدہ تنخواہ لے رہے ہیں اور نچلے درجے کے بیشتر ملازمین سینئر عہدوں پر فائز ہیں اور تنخواہیں لے رہے ہیں۔ ایک ایڈمنسٹریٹر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ایک ڈسپیجر ڈی ایم سی میں XEN کی تنخواہ لے رہا تھا۔ اس پر وزیراعلی سندھ نے منتظمین کو ہدایت کی کہ وہ ان تمام ملازمین کے ریکارڈ کی تصدیق کریں، ان کی تقرری، پروموشنز اور انکریمنٹس ایوارڈ جیسے بے ضابطگیوں کا پتہ لگائیں۔ وزیراعلی سندھ نے ڈی ایم سی ایڈمنسٹریٹرز کو بتایا کہ انہیں اپنے محصولات کے وسائل میں اضافہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم سی ٹریڈ لائسنس فیس، اشتہارات، چارجڈ پارکنگ سے اپنے محصولات کے وسائل میں اضافہ کرتے ہیں اور کے ڈی اے، ڈی ایم سیز کو بیٹرمینٹ چارجز دیتی ہے اورمزید بتایا کہ موجودہ خامیوں پر قابو پاکر کلیکشن کو بہتر بنانا ہوگا۔ 

مزید :

صفحہ اول -