فنڈز کٹوتی: 1200 سے زائد پیف سکولز بند ہونیکا خدشہ 

    فنڈز کٹوتی: 1200 سے زائد پیف سکولز بند ہونیکا خدشہ 

  

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر) کورونا وائرس کے بعد پیف کے سکولوں کے فنڈز کی کٹوتی کرلی گئی، پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن مالی خستہ حالی کا شکارہوگیا،اساتذہ کی تنخواہوں سمیت عمارتوں کے کرائے بھی ادا نہ کئے جا سکے،مالکان نے عمارتیں خالی کرانا شروع کرادیں،(بقیہ نمبر36صفحہ 6پر)

پیف انتظامیہ نے زیر انتظام سکولوں میں مزید بچوں کے داخلے بھی روک دیے، تفصیلات کے مطابق مارچ میں آنے والی کورونا وائرس وباء کے بعد جہاں ملکی سطح پر تمام ادارے اور کاروباری مراکز تباہ ہوئے ہیں وہاں حکومت پنجاب کے زیر انتظام چلنے والے پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے تعلیمی ادارے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں،مارچ میں کورونا کے باعث صوبائی وزیر تعلیم مراد راس نے ان اداروں کی قسطیں بند کر دی تھیں اور نئے داخلوں سے بھی روک  دیا گیا تھا جبکہ ماہانہ قسط بھی آدھی کردی، حکومت کی جانب سے فنڈز  میں کٹوتی کی وجہ سے صوبہ بھر میں پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے زیر انتظام چلنے والے12سو سے زائد سکولوں میں زیر تعلیم لاکھوں بچوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا، سکولوں کے مالکان بھی پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں،پیف کے تحت چلنے والے تحصیل کوٹ ادو کے 2سو سے زائد سکول  بند ہونے کے قریب پہنچ گئے،اس حوالے سے مالکان کا کہنا ہے کہ پیف کی جانب سے مالی خسارے کے اشارے اورفنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ہم اساتذہ کوتنخواہیں اور بچوں کو وظائف نہیں دے سکتے،پنجاب حکومت کی علم و تعلیم دشمن پالیسیوں کے باعث پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے ہزاروں اسکولوں کو گزشتہ6 ماہ سے پورے فنڈز ریلیز نہ ہوسکے جسکی وجہ سے لاکھوں اساتذہ و پیف اسکول مالکان کے گھروں کے چولھے بند کرکے ان پر عرصہ حیات مزید تنگ کردیاجبکہ کئی مالکان ان سکول کی عمارتوں کے کرائے بھی ادا نہ کر سکے جس پر عمارت مالکان نے ان سکولوں کی عمارتوں کو خالی کرانا شروع کردیا ہے،مالکان نے کہا کہ جب سے صوبہ پنجاب میں تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی ہے اور اب تک مسلسل پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن پیف کے زیرانتظام چلنے والے پیف و دیگر اسکولوں کے ماہانہ تنخواہیں 550 روپے فی طالبعلم مقرر ہیں اسے روکا جا رہا ہے اور نئے داخلوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، انہوں نے صوبائی وزیر تعلیم مراد راس سے فوری پورے فنڈز ریلیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مہنگائی کے اس طوفانی دور میں ان کے گھروں کے چولہے روشن ہو سکیں۔

کٹوتی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -