ہنگو، اہلسنت والجماعت کا مطالبات کی منظوری کیلئے احتجاجی دھرنا جاری 

ہنگو، اہلسنت والجماعت کا مطالبات کی منظوری کیلئے احتجاجی دھرنا جاری 

  

ہنگو(بیورورپورٹ) اہل سنت والجماعت ہنگو کا مطالبات کی منظوری کے لیے ڈی سی آفس کے باہر احتجاجی دھرنا دوسرے روز بھی جاری،احتجاجی دھرنے میں تمام سیاسی جماعتوں کے اکابرین اور مقامی قیادت کی شرکت،پر امن لوگ ہیں جمہوری انداز۔ین مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔مولانا ظفر الرحمان۔تفصیلات کے مطابق ہنگو میں اہل سنت والجماعت کا مطالبات کے حق میں ڈی سی آفس کے سامنے احتجاج کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔اس دوران مسلم لیگ کے رہنماؤں عبدالواحد اورکزئی،سیف الرحمان،پی ٹی آئی سے خان امیر بگٹی،سابق ضلع ناظم ابراہیم بنگش،جمعیت کے سکریٹری اطلاعات مولانا مسعود الرحمان،سابق چیر مین زکواہ و عشر یحیء قریشی اور دیگر نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کی۔احتجاجی شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ظفر سلرحمان،مولانا یوسف،حسن خان اور دیگر نے کہا کہ ہمارے مطالبات حقائق سے ہم آہنگ ہیں انتظامیہ معزرت خواہ رویہ ترک کرئے، اہل سنت والجماعت ہنگو نے جائز مطالبات کیے ہیں پانچ مطالبات انتظامیہ کے روبرو کر دیے ہیں جو ہنگو اہل سنت کے متفقہ مطالبات ہیں انہوں نے کہا کہ مفتی عمران کے مقدمے میں مخالفین کے دباؤ پر سخت دفعات شامل کیں گئیں جبکہ پولیس اہلکاروں کو بچانے کے لیے انتظامیہ نے کردار ادا کیا ان معاملات پر خاموش نہیں رہیں گئے۔مقرریں نے کہا کہ ڈی سی اور ڈی پی او کے رویے نے مایوس کیا مگر پھر بھی برداشت کے دامن کو پکڑ رکھا ہے مقررین نے واضح کیا کہ اگر جمعہ تک مطالبات پورے نہ کیے گئے تو احتجاج کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے پر مجبور ہونگے۔ انتظامیہ کی مصلحت انگیزی کے خلاف ڈپٹی کمشنر آفس کے باہر احتجاجی کیمپ لگا کر دھرنا دیا۔اس دھرنے میں تمام سیاسی جماعتوں کے مشران سمیت علما اکرام نے بھی شرکت کی اس موقعہ پر مولانا ظفر،حسن خان ایڈوکیٹ،مدثر الرحمن صدیقی،مولانا یوسف،ٹکا خان اور دیگر نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے اہل سنت کا رویہ انتہائی مثبت ہے ہمارے اس رویے کو کمزوری سمجھ کر ہمارے مطالبات پر انتظامیہ خاموش ہے اس لیے احتجاج کا فیصلہ کیا اور احتجاجی کیمپ لگایا ہے انہوں نے کہا کہ پانچ نکات پر مبنی مطالبات ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او کو دیے ہیں اگر جمعہ تک انتظامیہ عمل نہ کرا سکی تو شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام سمیت دیگر احتجاج کے زریعے بھی استعمال کر سکتے ہیں 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -