آئی آر آئی ایس سسٹم ست، ٹیکس گزاروں کو مشکلات پر تحفظات 

  آئی آر آئی ایس سسٹم ست، ٹیکس گزاروں کو مشکلات پر تحفظات 

  

پشاور (سٹی رپورٹر)سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر مقصود انور پرویز نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے آئی آر  آئی ایس سسٹم میں سست روی کے باعث ٹیکس گزاروں کو انکم ٹیکس گوشوارے 2020ء بروقت جمع کروانے میں متعدد مشکلات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ میں آئندہ تین ماہ تک توسیع دی جائے تاکہ ٹیکس گزاروں کے مشکلات دور ہوسکیں۔ انہوں نے گذشتہ روز ایک بیان میں کہا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس2001ء کے تحت مالیاتی سال کے 30 جون تک ختم ہونے کے بعد ٹیکس گزاروں نے اپنے انکم ٹیکس گوشواروں کو 30 ستمبر تک جمع کروانا ہوتا ہے لیکن ریجنل ٹیکس آفس کی جانب سے ڈرافٹ ریٹرن 2020ء کو اپ لوڈ کرنے میں بے جا اور غیر ضروری تاخیر اور آئی ایس آئی آر سسٹم میں سست روی کے باعث ٹیکس گزاروں کو اپنے انکم ٹیکس ریٹرن 2020ء کو مقررہ تاریخ تک جمع کروانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس وباء نے نا صرف ملک کی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب کئے ہیں وہی پر ٹیکس گزاروں کو بھی شدیدمالی بحران سے دوچار کیا ہے اور انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔ سرحد چیمبر کے صدر کا کہنا تھا کہ آئی آرآئی ایس سسٹم بھی کافی سست روی کا شکار ہے جس کے باعث ٹیکس گزاروں کو کئی گھنٹوں ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کے بعد بھی سسٹم اوور لوڈ ہونے کی وجہ سے جمع نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ انکم ٹیکس گوشوارے 2020ء جمع کروانے میں بے شمار خامیاں‘ کمی اور مشکلات درپیش ہیں اس لئے انکم ٹیکس ریٹرن 2020ء کو آئی آرآئی  ایس سسٹم کے ذریعے جمع کروانا ایک مشکل مرحلہ سے کم نہیں ہے۔ سرحد چیمبر کے صدر نے کہا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 ء کے سیکشن 118 کے تحت قانون 34 میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس گزار 90 دنوں کے اندر انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواسکتے ہیں جبکہ اس کے برعکس ایف بی آر کی جانب سے انکم ٹیکس گوشواروں کو جمع کروانے کے لئے صرف 14 دن یعنی کہ 30 ستمبر 2020ء تک جمع کروانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں جو کہ ٹیکس گزاروں کے لئے آئی آرآئی  ایس سسٹم میں سست روی کی وجہ سے کافی مشکل ہے۔ انہوں نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ انکم ٹیکس گوشواروں کو جمع کروانے کے لئے آئندہ تین ماہ تک توسیع دی جائے تاکہ ٹیکس گزاروں کی مشکلات دور ہوسکیں اور مذکورہ تاریخ سے قبل اپنے گوشوارے باآسانی جمع کرسکے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -