فرنچائزز کو اضافی ادائیگی بورڈ کیلئے بڑا مسئلہ بن گئی، آڈٹ رپورٹس میں کیا کچھ سامنے آیا؟ 

فرنچائزز کو اضافی ادائیگی بورڈ کیلئے بڑا مسئلہ بن گئی، آڈٹ رپورٹس میں کیا ...
فرنچائزز کو اضافی ادائیگی بورڈ کیلئے بڑا مسئلہ بن گئی، آڈٹ رپورٹس میں کیا کچھ سامنے آیا؟ 

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) فرنچائزز کو اضافی ادائیگی پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کیلئے بڑا مسئلہ بن گئی جبکہ آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کے بعد اب بدھ کو پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے سامنے وضاحت بھی دینا ہو گی۔

تفصیلات کے مطابق رانا تنویر حسین کی زیرصدارت پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کا اجلاس بدھ کی صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد میں ہو گا جس میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے کئے گئے پی سی بی اور پی ایس ایل ون اور ٹو کے سپیشل آڈٹس کی رپورٹ زیربحث آئیں گی۔ 19-2018ءکی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فرنچائزز کو خلاف ضابطہ اپنی آمدنی سے زرتلافی دینے سے بورڈ کو 54.490 ملین روپے کا نقصان ہوا، واضح رہے کہ پہلے ایڈیشن کے بعد ہرفرنچائز کو 1.3 ملین ڈالر دئیے گئے تھے اور اس کی منظوری محض ایک ای میل کے ذریعے لی گئی۔

اس حوالے سے پی سی بی کا جواب مسترد کرتے ہوئے فرنچائزز سے یہ رقم واپس لینے کی سفارش کر دی گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا کہ بورڈ نے تاخیر سے ادائیگی کے سرچارج کی مد میں 6.572 ملین روپے کا نقصان کیا، سی ایف او کو غیرقانونی طور پر آڈٹ کمیٹی میں رکھنے سے انٹرنل آڈیٹر کو فرائض انجام دینے میں مشکلات ہوئیں، غیرقانونی طور پر پی ایس ایل کے فنڈز پاکستان سے باہر تیسری پارٹی کے اکاﺅنٹس میں منتقل کئے گئے۔ 

سال 2016ءمیں منعقدہ پی ایس ایل ون میں سینٹرل پول سے اضافی 248.615 ملین روپے فرنچائزز کے اکاﺅنٹس میں خلاف ضابطہ منتقل کئے جبکہ ٹکٹوں کی فروخت سے ملنے والی رقم کی منتقلی میں مسائل سامنے آئے، ٹیکس کے معاملات بھی درست نہیں، تین فرنچائزز کو کنٹریکٹس غیرشفاف انداز میں دئیے گئے، مرچنڈائزنگ کی ناقص حکمت عملی، ایونٹ مینجمنٹ کنٹریکٹس پر بھی سوال اٹھائے گئے، 55 صفحات کی رپورٹ میں بے تحاشا اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ 

مزید :

کھیل -