آئی جی پنجاب نےایسا حکم جاری کر دیا کہ صوبے بھر میں منشیات فروشوں اور ان کے سرپرستوں کے چودہ طبق روشن ہو جائیں

آئی جی پنجاب نےایسا حکم جاری کر دیا کہ صوبے بھر میں منشیات فروشوں اور ان کے ...
آئی جی پنجاب نےایسا حکم جاری کر دیا کہ صوبے بھر میں منشیات فروشوں اور ان کے سرپرستوں کے چودہ طبق روشن ہو جائیں

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ  پولیس اور اے این ایف معاشرے سے منشیات کی برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے باہمی کوارڈی نیشن سے جوائنٹ آپریشنز کریں تاکہ بڑے مگر مچھوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے سمگلروں کے صفائے کا عمل تیز سے تیز تر ہوسکے، منشیات فروشوں کی پشت پناہی کرنے والے پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ اور قانونی کاروائی میں ہرگز تاخیر نہ کی جائے جبکہ ڈرگ کوٹہ کا غلط استعمال کرنے والی فیکٹریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انکے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

 تفصیلات کے مطابق سی سی پی او لاہور سمیت صوبے کے تمام آر پی اوز، سی پی او زاور ڈی پی اوز کے نام جاری مراسلے میں  انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب انعام غنی کا کہنا تھا کہ معاشرے سے منشیات فروشوں کے مستقل خاتمے کو یقینی بنا کر نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا باہمی تعاون انتہائی ضروری ہے تاکہ اس مکروہ دھندے میں ملوث سماج دشمن عناصر کو کیفر کردار تک پہنچا کر اس لعنت کا جڑسے خاتمہ کیا جاسکے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) منشیات کی سپلائی کے خاتمے کیلئے سرگرم ایک موثر فورس ہے جبکہ معاشرے کے روز مرہ کے معمولات کی انجام دہی میں پولیس فورس کی موجودگی اے این ایف کے آپریشنز کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی لہذا پنجاب پولیس اور اے این ایف معاشرے سے منشیات کی برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے باہمی کوارڈی نیشن سے جوائنٹ آپریشنز کریں تاکہ بڑے مگر مچھوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے سمگلروں کے صفائے کا عمل تیز سے تیز تر ہوسکے۔ انہوں نےکہاکہ چھوٹے سمگلروں کی تفتیش باریک بینی سے سر انجام دیتے ہوئے بڑے سمگلروں کو گرفت میں لیا جائے، اگر ضبط شدہ منشیات کی مقدار ایک کلو سے تجاوز ہو تو فورا اے این ایف کے ریجنل سنٹرز میں مطلع کیا جائے تاکہ گرفتار منشیات فروشوں کی بروقت اور مؤثر تفتیش سے سپلائی چین کو ٹریس کیا جائے۔

انہوں نےکہاکہ پنجاب پولیس منشیات کیسز میں سزاؤں کی شرح کومزید بہتر بنانے کیلئے اے این ایف سے کے تجربے سے معاونت لے جبکہ پولیس کے تربیتی معیار اور سزاؤں کی شرح میں اضافے کیلئے اے این ایف کے ساتھ مشترکہ ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے۔جاری مراسلے میں افسران کو تاکیدکی گئی ہے کہ پولیس اور اے این ایف افسران باہمی تعاون اور کلوز کو آرڈینیشن سے مشترکہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائیں اور ٹارگٹ ایریاز کی نشاندہی کرتے ہوئے سپلائی چین نیٹ ور ک کو توڑنے کیلئے آپریشنز کئے جائیں۔ آئی جی پنجاب نے مزیدکہاہے کہ پیمرا کی جانب سے عوامی آگاہی کیلئے مختص 10فیصدائیر ٹائم کے موثر استعمال کیلئے پولیس اور اے این ایف مل کر ٹی وی کمرشلز میں اپنا پیغام دیں اور منشیات کے ناقابل تلافی نقصانات کے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنے کیلئے موثر آگاہی مہم بھی چلائی جائے۔ انہوں نے مزیدکہا کہ تعلیمی ادارو ں کے گر دونواح میں منشیات فروشی بالخصوص آئس کے کاروبار میں ملوث گینگز کے خاتمے کیلئے کلوز کوارڈی نیشن سے کریک ڈاؤن میں تیزی لائی جائے جبکہ کرائم ہاٹ سپاٹ اورمنشیات کی خریدو فروخت میں ملوث پیشہ ور مجرمان کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے۔ انہوں نے تاکید کی کہ صوبہ بھر میں منشیات کے دھندنے میں ملوث عناصرکے خلاف نہ صرف پولیس ٹیمیں پوری طرح متحرک رہیں بلکہ تمام سٹیک ہولڈرز کو آن بورڈ کرکے باہمی تعاون اور انفارمیشن شئیرنگ کو جاری رکھا جائے اور ان مشترکہ آپریشنزکی کارکردگی رپورٹس باقاعدگی سے سنٹر ل پولیس آفس بھی بھجوائی جائیں۔ 

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -