موت کے بعد بقراط کے کام نے اطباءکے لیے نئی راہیں کھول دیں

موت کے بعد بقراط کے کام نے اطباءکے لیے نئی راہیں کھول دیں
موت کے بعد بقراط کے کام نے اطباءکے لیے نئی راہیں کھول دیں

  

تحریر: ملک اشفاق

 قسط:29

بقراط کی وصیت (Hippocratic Legacy)

بقراط کو بابائے طب کہا جاتا ہے۔ بقراط کے طبی تحقیقی کام نے طب کے پیشے میں ایک شاندار انقلاب برپا کر دیا تھا۔

 اس کی موت کے بعد اس کے کام نے اطباءکے لیے نئی راہیں کھول دیں۔ اس دور میں جن پیشہ ور اطباءنے بقراط کے وضع کردہ اصولوں اور ہدایات پر عمل کیا وہ کامیاب ترین طبیب مشہور ہوئے۔ لیکن جن اطباءنے اس کی پیروی نہ کی اور قدیم طبی علاج ہی تجویز کرتے رہے وہ ناکام طبیب ثابت ہوئے۔

 دراصل بقراط نے کلینیکل پریکٹس کو رواج دیا تھا جس میں مریض کی سابقہHistory علامات وغیرہ کا مکمل ریکارڈ رکھا جاتا تھا۔

 اس طرح علاج کرنا زیادہ کامیاب ثابت ہوا تھا۔ بلکہ ان ہی مکمل شدہ دستاویزات سے مریض دوسرے طبیب سے مشورہ کر سکتا تھا۔ بقراط نے ”Legacy“ کے نام سے ایک مقالہ لکھا اس مقالے میں اس نے طب کے طلباءکے بارے میں وصیت کی۔ جو اس طرح ہے:

 طب کے طالب علم کو شریف النفس ہونا چاہیے۔ وہ نو عمر ہو تو زیادہ بہتر ہے کیونکہ نوعمری میں کام کرنے اور سیکھنے کی استعداد زیادہ ہوتی ہے۔ طب کا طالب علم تیز فہم ہو تاکہ مسائل کو اچھے انداز میں سلجھا سکے۔ نرم گفتار ہو اور وقار کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کرے تاکہ اس کے مریض اس سے متاثر ہوں۔

 صحیح رائے قائم کرنے اور درست مشورہ دینے کی بہترین صلاحیت رکھتا ہو۔ شجاع اور بہادر ہوتا کہ مشکل حالات میں حوصلہ برابر رکھے۔ طب کے طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ غصے پر قابو رکھ سکے۔ دولت کی ہوس نہ رکھتا ہو۔ بزدل اور مکار نہ ہو بلکہ معتدل مزاج، سخاوت کرنے والا اور انسانیت کا ہمدرد ہو۔

 طبیب کا فرض ہے کہ اپنے آپ کو مریض کی تکلیف میں شریک خیال کرے۔ مریضوں سے شفقت اور مہربانی سے پیش آئے۔

 طبیب مریض کے راز کو راز ہی رکھے اور مریض کی بدنامی کا باعث بننے والی بات کو دوسروں کو نہ بتائے۔

طبیب میں ایسا حوصلہ اور فہم ہونی چاہیے کہ وہ دوسروں کی سخت اور تلخ گفتگو کو برداشت کر سکے کیونکہ کچھ مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جو طبیب سے ایسی سخت گفتگو کر سکتے ہیں۔ دراصل ایسے لوگ ذہنی بیمار ہوتے ہیں۔ طبیب کے بال زمانے کے رواج کے مطابق ہونے چاہئیں، اس کی انگلیوں کے ناخن بھی کٹے ہوئے ہونے چاہئیں۔

 طبیب کے کپڑے صاف اور سفید ہونے چاہئیں۔ طبیب کو چاہیے کہ وہ کبھی طیش میں نہ آئے۔

 بقراط نے ایک طبیب اور طب کے طالب علم کے لیے ایسی ہدایات دی ہیں کہ اگر ان کا پورا پورا خیال رکھا جائے تو طبیب معاشرے کا مقبول ترین انسان اور انسانیت کا ہمدرد ثابت ہوگا۔ اس کی آمدن معقول ہوگی اور معاشرے میں اس کو باعزت مقام حاصل ہوگا۔( جاری ہے )

نوٹ :یہ کتاب ” بک ہوم “ نے شائع کی ہے ، جملہ حقوق محفوظ ہیں (ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -