سقوطِ ڈھاکہ دل پر زخم نہیں ناسور چھوڑ گیا تھا

 سقوطِ ڈھاکہ دل پر زخم نہیں ناسور چھوڑ گیا تھا
 سقوطِ ڈھاکہ دل پر زخم نہیں ناسور چھوڑ گیا تھا

  

 مصنف: ڈاکٹر صائمہ علی

قسط:5 

مذہب سے لگاﺅ:

صدیق سالک کے اہل خانہ نے بتایا کہ وہ ایک مذہبی انسان تھے- نماز پڑھتے تھے لیکن بہت باقاعدگی سے نہیں کسی وقت قضا بھی کردیتے تھے البتہ روزہ انہوں نے کبھی نہیں چھوڑا۔ صدرپاکستان جنرل محمد ضیاءالحق کے ساتھ4 مرتبہ حج کیا اور تقریباً40 مرتبہ عمرہ کی سعادت حاصل کی لیکن ان کا کہنا تھا کہ سرکاری حج نہیں ہوتا اس لیے1982ءمیں اپنے طور پر بھی حج کیا-“

وطن سے محبت:

صدیق سالک پاکستان سے بے حد محبت کرتے تھے، یہ ایک رسمی جملہ نہیں ان کی تحریروں کے عام مطالعے سے بھی اندازہ کیا جا سکتا ہے پاکستان ان کےلئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے خصوصاً ”ہمہ یاراں دوزخ“ جو کہ ان کی اسیری کی داستان ہے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنے محب وطن ہیں۔ اسی نسبت سے وہ بھارت سے شدید نفرت کرتے ہیں جس کے اظہار میں وہ بعض اوقات اعتدال کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں وطن سے دور جا کر وطن کی محبت ویسے بھی بڑھ جاتی ہے سالک تو پھر بھارت کی قید میں تھے اس لیے وطن کی قدر و منزلت ان کے لیے کئی گنا بڑھ گئی تھی سقوطِ ڈھاکہ ان کے دل پر زخم نہیں ناسور چھوڑ گیا تھا۔ اتنا کرب تو انسان کسی قریبی ساتھی کے مرنے پر بھی محسوس نہیں کرتا جتنا سالک نے سقوط ڈھاکہ پر کیا:

”میں دوسرے پاکستانیوں سے زیادہ حب و طن کا دعویدار نہیں لیکن یقین کیجئے ارض پاکستان کی قدر ومنزلت کا جو احساس اس کال کوٹھڑی میں ہوا عام حالات میں شاید کبھی نہ ہوتا۔ پاکستان ! میرا پاکستان !! میرے جگر کی طرح دونیم پاکستان!!!

 ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات“

”بیگم زرینہ سالک نے بتایا کہ ”صدیق صاحب کے دوست عبد الستار سفیربن کر روس جا رہے تھے وہ ان سے الوداعی ملاقات کرنے گھر آئے تو صدیق نے ان سے کہا تم پاکستان سے دور رہ لو گے؟ مجھے اگر کوئی ساری دنیا کی دولت بھی دے تو میں پاکستان چھوڑ کر کہیں نہیں جاﺅں گا-“ 

بطور اُستاد:

صدیق سالک طبعاً علم دوست انسان تھے اس لیے عملی زندگی میں سب سے پہلے انہوں نے درس و تدریس کے پیشے کو اپنا یا 1959ءمیں ایم۔ اے کا نتیجہ نکلنے سے پہلے گورنمنٹ کالج لائل پور(فیصل آباد) کی طرف سے ملازمت کی پیش کش ہوئی یہاں کچھ عرصہ اعزازی ملازمت کی پھر پبلک سروس کمیشن کے ذریعے گورنمنٹ کالج مانسہرہ میں لیکچرار متعین ہوئے، تدریس کو وہ بہت مقدس اور مقدم جانتے تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب ”سلیوٹ“ میں اس بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا ہے کہ وہ زمانۂ طالب علمی سے ہی اپنے استاد محترم ڈاکٹر حمید احمد خان کے زیر اثر رہے۔ ڈاکٹر صاحب اپنے شاگردوں کو سمجھایا کرتے تھے کہ علم دنیا کی سب سے قیمتی چیز ہے۔

صدیق سالک اپنے استاد کے نظریات سے بہت متاثر تھے اس لیے انہوں نے اپنے گاﺅں والوں کی خواہشات کے برعکس استاد بننے کو ترجیح دی۔ ان کا اپنا مزاج بھی پڑھائی لکھائی کی طرف بہت مائل تھا اس لیے انہوں نے پہلے اعزازی اور بعد میں مستقل لیکچرار کی حیثیت سے ملازمت کی لیکن اس4 سالہ تدریس کے دوران انہوں نے محسوس کیا کہ استاد کی معاشرے میں کوئی عزت نہیں جب وہ مانسہرہ کالج میں متعین تھے تو ان کا ایک ہم جماعت مانسہرہ کااسسٹنٹ کمشنر لگ گیااور اپنے عہدے کے حساب سے کلب کا پر یذیڈنٹ بن گیا۔ اس کے ذریعے شہر کے ڈاکٹر، جج اور وکیلوں سے ملاقات ہوئی تو انھیں احساس ہوا کہ وہ باقی پیشوں کے لوگوں کی طرح معاشرے میں زیادہ مقام نہیں رکھتے ‘لکھتے ہیں:

”لیکن جلد ہی مجھے احساس دلایا گیا کہ وہ تو معاشرے میں سرکردہ حیثیت رکھتے ہیں لیکچرار تو محض سکول ماسٹر ہے جس کی اپنی کلاس میں وقعت ہو تو ہو‘ باہر اس کی کوئی قدر نہیں انسان موچی‘ درزی‘ اور حجام کا تو شکر گزار ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے جوتے کپڑے یا سر کو خوش شکل بنائے لیکن استاد جو انسانی کردار کو تشکیل دیتا ہے کسی احترام کا مستحق نہیں۔مجھے 4 سال کے عرصے میں اتنے کچوکے لگے کہ میرے ذہن میں پروفیسر حمید احمد خان کا تیار کردہ شیش محل ڈانواں ڈول ہونے لگا۔“ ( جاری ہے ) 

نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -