موٹر ویز سے ملکی ترقی کا سفر۔۔۔

موٹر ویز سے ملکی ترقی کا سفر۔۔۔
موٹر ویز سے ملکی ترقی کا سفر۔۔۔

  

تحریر :ملک اسلام اٹک 

پاکستان میں موٹر وے کی تعمیر کا عظیم ترین منصوبہ 11 جنوری 1992ء کو شروع ہوا تھا ، اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے اسلام آباد سے لاہور کے درمیان 339 کلومیٹر طویل M-2 کا سنگ بنیا رکھا تھا اور اس کا افتتاح بھی خود نواز شریف نے 26 نومبر1997ء کو کیا تھا۔ 18 مارچ 2020ء تک پاکستان میں کل 1973 کلومیٹر طویل موٹروے مکمل ہو چکی ہے جبکہ 1763 کلومیٹر ابھی زیر تکمیل ہے۔ 

موٹرویز کا ٹھیکہ 30 دسمبر 1991 کو جنوبی کوریا کی ڈائیوو کارپوریشن کو دیا گیا تھا،  ڈیزائن اور تعمیر کی بنیاد پر 23ہزار 686بلین کا معاہدہ کیا گیا تھا ،   اصل معاہدہ 4لین کی سہولت کے لیے تھا،ڈائیوو نے فراہم کنندہ کے کریڈٹ کے طور پر 379 ملین ڈالر کا قرض فراہم کیا، جس میں تعمیراتی لاگت کا 40% شامل ہے،باقی 60% لاگت حکومت ادا کرے گی ۔

نواز شریف جس وقت اس پروجیکٹ کو عملی جامہ پہنا رہے تھے تو اس وقت  پاکستان میں کوئی موٹروے کے نام سے بھی واقف نہیں تھا اور اس کی اس وقت بہت مخالفت بھی کی گئی اس کو ملکی معیشت کے لیے" سفید ہاتھی" بھی کہا گیا ،لیکن  نواز  شریف پر عزم رہے کیونکہ ان کو  پتہ تھا کہ ملکی ترقی کے لیے سب سے پہلے ملک میں جدید روڑ نیٹ ورک کا ہونا بہت ضروری ہے۔

موٹروے کی فزیبلٹی پر بھی کافی وقت لگا اور آخر کار این ایج نے اس کا ٹینڈر کر دیا جو کہ کورین کمپنی ڈائیوو نے  جیت لیا اور یہ بی او ٹی کی بنیاد پر اس کمپنی کے سپرد کر دیا گیا اس کمپنی نے  10 سال منصوبے کو اپریٹ کرنے کے بعد سب کچھ حکومت کے حوالے کر دیا ۔

جب ایم ٹو 1997 میں مکمل ہو گئی تو نواز شریف نے اس  پر فورس قائم کرنے کے لیے اس وقت کے ماہر پولیس آفیسر افضل شگری اور  افتخار رشید کو نئی فورس قائم کرنے کا ٹاسک دیا ،اس وقت موٹروے پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا جو کہ ہر لحاظ سے ایک نئی فورس تھی اس کا یونیفارم ان کی گاڑیاں اور کام دوسری پولیس سے بالکل مختلف تھا۔

اس زمانے میں موٹروے پولیس کو   پٹرولنگ کے لیے لینڈ کروزر گاڑیاں دی گئیں ان کی تنخواہیں اور سہولیات دوسری تمام پولیس فورس سے زیادہ تھیں اور یہاں سے ایک نئے پولیس کلچر کی بنیاد رکھی جس کی وجہ سے  پورے ملک کے پولیس  کلچر میں بڑی  تبدیلی آ گئی یہ ملک کی واحد پولیس فورس بن گئی جس نے دن رات بارش آندھی سردی اور گرمی میں لوگوں کے سفر کو محفوظ بنانے کے لیے کام کیا اور موٹرویز کو اتنا محفوظ بنا دیا کہ اب کسی بھی وقت دن ہو  یا رات آپ سفر کر سکتے ہیں ۔

 لیکن ہمیں ترقی راس نہیں آئی اور مختلف عوامل نے ترقی کے راستے کو روک دیا اور جس پروجیکٹ نے ملکی ترقی میں مین کردار ادا کرنا تھا اس کو روک دیا گیا اور بعد میں ایم تھری کو 3کے بجائے 2 لین میں تبدیل کر دیا گیا ،انٹرنیشنل فرم کے بجائے اپنے لوکل کنٹریکٹر کو پروجیکٹ دے دیا گیا جس کی تعمیر غیر معیاری ہوئی انٹرنیشنل فرمز کے اوپر کیس بنائے گئے اور ان کو ملک سے بھاگنے پر مجبور کیا گیا۔

اس کے بعد جب میاں صاحب کا دور واپس آیا تو انہوں نے پھر اس رکے ہوئے سفر کو دوبارہ جاری رکھا  اور سب سے مشکل اور دشوار گزار موٹروے ہزارہ موٹروے  پروجیکٹ پر کام شروع ہوا جو کہ محض ایک خواب تھا ۔لیکن وہ خواب آج پاکستان کا سب سے خوبصورت موٹروے کے ساتھ مانسہرہ تھاکوٹ سے اسلام آباد تک جہاں 6 سے 7 گھنٹے لگ جاتے تھے وہ  سفر محض اب 2 گھنٹے کا رہ گیا ہے ۔

موٹروے کی بدولت ہر انٹرچیج آج ایک نیا شہر بن گیا ہے اور ہزاروں لوگوں کو  اپنے گھروں کے نزدیک روزگار بھی مل گیا  ، 

موٹروے کے وجہ سے ملک میں جدید اور نئی بسیں آگئیں اور مسافروں کی کھٹارہ بسوں ویگنوں سے جان چھوٹی اور ٹرانسپورٹ  سسٹم بھی اپ گریڈ ہو گیا ۔جنوبی ایشیا ءمیں پاکستان وہ ملک بن گیا جس کے پاس وسیع موٹرویز نیٹ ورک موجود ہے اور ہنگامی حالات میں جنگی جہاز بھی اتارے جا سکتے ہیں۔

اس سے قبل شیر شاہ سوری نے 16ویں صدی میں پشاور سے کلکتہ تک اڑھائی ہزار کلومیٹر طویل جی ٹی روڈ بنائی تھی،اس کے علاوہ  شیر شاہ سوری نے اس کے اردگرد پھلدار اور سایہ دار درخت لگوائے تھے ، قیام کے لئے سرائے اور پانی کے کنویں بنوائے تھے۔  1952ء میں کراچی سے طورخم تک 1800 کلومیٹر تک طویل قومی شاہراہ کی از سر نو تعمیر کی گئی ،  تاریخ میں جب موٹرویز اور ہائی ویز کا ذکر  آئے گاتو اس میں نوازشریف کا ذکربھی آئے گا۔

نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -