مبینہ آڈیو لیک میں عمران خان بار بار ملک کا نام لینے سے کیو ں منع کرتے رہے ؟ سلیم صافی کا بڑا دعویٰ

مبینہ آڈیو لیک میں عمران خان بار بار ملک کا نام لینے سے کیو ں منع کرتے رہے ؟ ...
مبینہ آڈیو لیک میں عمران خان بار بار ملک کا نام لینے سے کیو ں منع کرتے رہے ؟ سلیم صافی کا بڑا دعویٰ

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی کا کہنا ہےکہ عمران خان مبینہ آڈیو لیک  میں بار بار اپنے ساتھیوں کو اس لیے سائفر بھیجنے والے ملک کا منع کرتے رہے کیوں کہ وہ  "امریکی نیو کونس " سے منسلک ہیں اور دوسری طرف وہ امریکا سے ڈرتے بھی ہیں۔ 

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی "جیو نیوز "سے گفتگو کے دوران میزبان نے سینئر صحافی سلیم صافی سے سوال کیا کہ آخر کیوں عمران خان مبینہ کال کے دوران بار بار سائفر بھیجنے والے ملک کا نام لینے سے منع کرتے رہے ؟جبکہ دوسری طرف وہ جلسوں میں کھل کر پکارتے رہے ؟ جس پر سلیم صافی نے جواب دیا  کہ اصل پس منظر اس کا یہ تھا کہ "عمران خان نے سیاست شروع کی تھی گولڈ سمتھ کے کہنے پر " اور میرے پروگرام میں اکبر ایس بابر نے کہا تھا کہ جب امریکی صدر بش کا الیکشن ہو رہا تھا تو اس کی کامیابی پر عمران خان نے دو رکعات نفل پڑھے تھے اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان بنیادی طور پر "امریکی نیو کونس "کیساتھ منسلک ہیں اور تاریخ بتائے گی اور جب حقائق سامنے آئیں گے تو قوم جانے گی کہ سی پیک کے ایم او یو کرانے اور سارے انڈے چینی باسکٹ میں ڈالنے کی وجہ سے آصف علی زرداری اور نواز شریف کو سزا ملی اور عمران خان کو لانے میں امریکی نیو کونس نے اہم کردار ادا کیا ۔

 سلیم صافی نے اپنی بات کے ثبوت پر کہا کہ "اسی لیے آپ نے دیکھا ہو گا کہ وہ پاکستانی نژاد صادق خان کے مقابلے میں "زیک سمتھ "کیلئے کمپین چلاتے ہیں اور عمران خان کی ٹیم میں زیادہ تر لوگ برطانیہ اور امریکا کے ہی شہری ہوتے ہیں، عمران خان اس پس منظر میں امریکا سے خوفزدہ بھی تھے اور آپ نے دیکھا بھی ہو گا کہ عمران خان کو حکومت سے نکالے جانے کے بعد بھی "زلمے خلیل زاد " جو امریکی نیو کونس کا حصہ ہیں وہ آکر ان سے خفیہ ملاقاتیں بھی کرتے ہیں اور وہ آرمی چیف کو ان سے (عمران خان سے )ملاقات کرنے کیلئے سفارشیں بھی کرتے ہیں، ایک طرف یہ چیز تھی دوسری طرف عمران خان کو پتہ تھا کہ ان کے پاس نہ تو کوئی کارکردگی ہے جس کی بنیاد پر وہ پاکستانی عوام کے پاس جائیں ، نہ میرے پاس کوئی ٹھوس بیانیہ ہے جس کی بنیاد پر عوام کے پاس جائیں ،اس لیے انہوں نے عوام میں مقبول اینٹی امریکن سوچ کو اپنایا ۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -