اوباما، رومنی آمنے سامنے

اوباما، رومنی آمنے سامنے

  

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں اب تک صرف ایک صدارتی امیدوار صدر اوباما تھے، لیکن اب سرکاری طور پر اعلان ہوا ہے کہ ری پبلکن پارٹی کے مٹ رومنی نومبر میں ہونے والے انتخابات میں بارک حسین اوباما کا مقابلہ کریں گے۔یہ منظوری امریکہ کی ریاست فلوریڈا کے شہر ٹامیا میںدی گئی ،جہاں ری پبلکن پارٹی کے50ہزار سے زائد نمائندے شریک ہوئے، اس طرح چھ نومبر کو ہونے والے انتخابات میں صدارتی امیدوار ڈیمو کریٹ پارٹی کے بارک حسین اوباما اور ری پبلکن پارٹی کے مٹ رومنی کے درمیان مقابلہ ہو گا۔بارک حسین اوباما نے اپنے پہلے دورِ صدارت میں بہت کچھ تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن اتفاق دیکھئے کہ سینٹ اور ایوان نمائندگان میں اُن کی پارٹی کی پوزیشن کمزور تھی، اس لئے بہت سے کام نہیں ہو سکے، پھر بھی انہوں نے اول تو امریکہ کو عراق سے نکال دیا اور دہشت گردوں کو اُن کے ٹھکانوں پر ختم کرنے کے لئے پاکستان کے علاقے وزیرستان میں ڈرون حملے کر رہے ہیں تاکہ امریکی عوام محفوظ زندگی گزار سکیں۔

صدر اوباما کا انتخابی نعرہ تبدیلی لانا تھا، لیکن صدر بش جو کچھ بو کر گئے تھے، اسے بھی کاٹنا ضروری تھا، جس کی وجہ سے خاصی مشکلات آئیں، مالی بحران، بے روز گاری، پاکستان کی خفگی اور دُنیا بھر میں امریکی ڈالر کی ساکھ کو نقصان، اس کے باوجود بھی صدر اوباما نے نہایت عقل مندی اور ذہانت سے حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کی اور اگر انہیں مزید چار سال ملے تو اور بہت کچھ تبدیل ہو سکتا ہے، جس طرح پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کو ایک اور موقع ملا تو وہ ملک کو انتہائی خوشحال اور ترقی یافتہ کر دیں گے اور خیال ہے کہ دُنیا بھر کے لوگ پاکستان سے اتنی تیزی سے ترقی کا راز جاننا چاہیں گے۔

مٹ رومنی12مارچ 1947ءمیں مشی گن میں پیدا ہوئے، ماشا اللہ اُن کے پانچ بچے ہیں۔مٹ رومنی نے ہارورڈ یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری لی ہے اور ایک کامیاب بزنس مین ہیں، اُن کا جھکاﺅ چرچ کی طرف بھی ہے، ایک بار وہ بشپ بھی رہے، لیکن انہوں نے اس بات کو اپنی الیکشن مہم کا حصہ نہیں بنایا۔ وہ تو بارک حسین اوباما کے کاموں پر تنقید کر رہے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ وہ آزاد تجارت پر یقین رکھتے ہیں اور امریکہ کی سرحدوں کے باہر اُن ملکوں سے بھی ربط ضبط بڑھائیں گے، جہاں امریکی مال کی کھپت ہو گی ، یوں نئی منڈیاں تلاش کی جائیں گی۔ وہ حکومت کے اخراجات بھی کم کرنا چاہتے ہیں تاکہ ترقیاتی کاموں کے لئے زیادہ سرمایہ مل سکے۔ مٹ رومنی عوام پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا چاہتے ہیں، اس طرح اُن کے خیال میں ٹیکس زیادہ وصول کیا جا سکتا ہے، وہ بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے حسب روایت اپنی ویب سائٹ بنائی ہے، چندہ دے سکتے ہیں جو15ڈالر سے25ہزار ڈالر تک ہو سکتا ہے، جبکہ صدر اوباما نے اپنی ویب سائٹ پر چندہ مانگا ہے، لیکن یہ نہیں لکھا کہ کم سے کم کتنا ہونا چاہئے، کیونکہ وہ امریکہ کے صدر ہیں، جنہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ پندرہ بیس ڈالر مانگیں۔

مٹ رومنی کے انتخاب کا منشور دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے یہ انتخاب پاکستان میں لڑ رہے ہیں۔ ان کی جو خاص خاص باتیں ہیں، وہی پاکستان میں بھی ہیں۔ زیادہ تجارت، حکومت کے اخراجات میں کٹوتی، ٹیکس میں کمی، یہ سب تو پاکستان کے مسائل ہیں اور ساتھ میں اوباما پر تنقید بھی اسی طرح ہے ،جیسے پاکستان میں کی جاتی ہے، لیکن مٹ رومنی خوش قسمتی سے امریکہ میں ہیں، جہاں اِس بات کی توقع ہے کہ وہ صدر بننے میں کامیاب ہو جائیں۔ اگر وہ پاکستان میںانتخاب لڑتے تو لوگ پہلے ہی اعلان کر دیتے ”مٹ رومنی صدر کا انتخاب ہار گئے“.... کیونکہ وہاں اِن دنوں آصف علی زرداری صدرِ مملکت ہیں، جن کی سیاسی بصیرت اور دانشمندی سے سب واقف ہیں اور مقابلے پر کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا۔

مٹ رومنی خوش نصیب ہیں کہ پاکستانی منشورکے ساتھ امریکہ میں انتخاب لڑ رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ انتخاب جیت جائیں گے۔امریکہ میں انتخابات بالکل نزدیک آ چکے ہیں اور انتخابی مہم تیزی سے اور زور و شورو سے جاری ہے۔ صدر اوباما کے بارے میں اخبارات اور ٹیلی ویژن عجیب عجیب پیش گوئیاں کرتے ہیں، کبھی اُن کی پوزیشن کمزور بتاتے ہیں، کبھی مضبوط۔ مٹ رومنی کے باضابطہ امیدوار بننے کے بعد رائے دہندگان کو کسی ایک کو چننے میں دشواری تو ہو گی، لیکن اُن کے سامنے دونوں امیدواروں کے منشور ہیں جو امریکی عوام کی بھلائی کے لئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں، ہمارے خیال میں صدر اوباما کو ایک موقع اور ملنا چاہئے۔    ٭

مزید :

کالم -