صدر زرداری کے پیر صاحب کے نام ایک خط

صدر زرداری کے پیر صاحب کے نام ایک خط

  

                                                            محترم پیر اعجاز درانی صاحب! سلام عقیدت قبول فرمائیں۔

حضور والا! گذشتہ روز ایوانِ صدر میں آپ کی عشائیہ میں شرکت کی خبر نے جہاں میری رال ٹپکائی ہے وہاں مجھے ایک بہت بڑے مخصمے سے بھی نکالا ہے۔ وہ یہ کہ صدرآصف علی زرداری صاحب کے پانچ سال پورے کرنے کے حوالے سے ہر کوئی اپنی مرضی کا راگ الاپ رہا ہے۔ کسی کا خیال ہے کہ پانچ سال پورے کرنے کے پیچھے میاںنواز شریف صاحب کی فرینڈلی اپوزیشن کا ہاتھ تھا۔ کسی کا خیال تھاکہ اس کا کریڈٹ جنرل کیانی صاحب کو جاتا ہے جنہوں نے کئی مواقع ملنے کے باوجود کسی بھی مہم جوئی سے گریز کیا۔ بہر حال جتنے منہ اتنی باتیں۔ میں چونکہ انتہائی درجے کا ضعیف الاعتقاد واقع ہوا ہوں میرا خیال اس سے مختلف تھا میں سمجھتا تھا کہ ضرور کوئی غیبی طاقت تھی جو صدر صاحب کو حالات کے ایسے بھنور سے نکالتی رہی ہے۔ اب تو خیر آپ نے اپنے بیان کے ذریعے یہ راز خود کھول دیا ہے۔ ”ہر چند کہ دانا اسے کھولا نہیں کرتے“۔

آپ نے فرمایا ہے کہ میں نے شروع میں ہی صدر صاحب سے کہہ دیا تھا کہ آپ جو کچھ کرتے رہیں کوئی آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا ۔ آپ کو پانچ سال سے پہلے ایوانِ صدر سے کوئی نہیں نکال سکتا۔ اب لوگوں کو جان لینا چاہیے کہ وہ آپ کی ہی پھونک کا اثر تھا کہ اعتزاز احسن جیسے باغی کو صدر صاحب کے قدموںمیں ڈال دیا۔ شاید آپ ہی کے وظیفوں کے طفیل ہی جناب صدر سوئس اکاﺅ نٹ جیسے کیس میں بتیس دانتوں کے درمیان زبان طرح محفوظ رہے۔ بلکہ اس کیس کا نزلہ ناصرف گیلانی اور پرویز اشرف پر گرتا رہا بلکہ وہ خود عدالت سے اس نزلے کے بڑے بڑے مگ بطورِ تبرک اپنے اوپر ڈلواتے رہے۔ اپوزیشن کا شیر بھی آپ کی ایک پھونک کی وجہ سے پورے پانچ سال بھیگی بلی بن کر ایوانِ صدر کے بٹیرے کھاتا رہا۔یقینا آپ ہی نے معزز صدر صاحب کو الٹا لٹکانے کی بات کرنے والے ” شہباز شریف“ کی ایسی زبان بندی کردی ہے کہ اب وہ بھولے سے بھی جنابِ صدر کا نام نہیں لیتے۔

جنابِ والا! اگرچہ عقیدت تو پہلے بھی آپ سے بہت زیادہ تھی مگران واقعات کے بعدتو میں آپ پر اندھا اعتقاد کرنے لگا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ ہی کی ذات میری مسیحائی کرسکتی ہے۔ میں نے سوچا کہ آپ کی بارگا ہ میں حاضر ہوکر اپنے مسائل آپ کی خدمت ِ اقدس میں پیش کروں ۔ لیکن یہ خیال ہمیشہ دامن گیر رہا جہاں آج کل آپ کا آستا نہ ہے ( یعنی ایوانِ صدر میں ) جانے کا خیال کرتا ہوں کہ سکندر یا د آتاہے ۔ڈرتا ہوں کہ کہیں زمرد خان کے ہتھے نہ چڑھ جاﺅں ۔ ان وجوہات کی بنا پر خط لکھ کر اپنے مسائل سے آگاہ کررہاہوں۔پیر صاحب ! ویسے تو میرے مسائل ان گنت ہیں لیکن چند چیدہ چیدہ مسائل آپ کی خدمت ِ اقدس میں پیش کررہا ہوں۔ جب سے آپ کے مرید ِ خاص نے ایوانِ صدر میں قدم رنجا فرمایاہے میرے حالات یکسر بدل گئے ہیں ۔میں بہت سے مسائل کا شکار ہوچکا ہوں( اگر چہ یہ بھی میری ضعیف الاعتقادی ہے ور نہ میرا تو شروع سے یہی حال ہے)۔ مجھے جن مسائل کا سامنا ہے ان میں سب سے پہلا تو یہ ہے کہ میرے گھر میں بے برکتی کا دور دور ہ ہے الزام جس پر بھی لگاﺅ ں لیکن حقیقت میں تو میرے اپنے گناہ(یعنی ووٹ ڈالنا) کی وجہ سے ہے۔ بے برکتی کا عالم یہ ہے کہ مہینا ختم ہونے سے پہلے نہ صر ف میر ی ساری تنخواہ ختم ہوجاتی ہے بلکہ میں تو تنخواہ کے برابر ادھار لے کر بھی کھا جاتا ہوں۔ میرا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے گھر میں ہرطرف لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کے بھوت دنداناتے پھرتے ہیں ۔ ان بھوتوں نے تو میری ناک میں دم کررکھا ہے۔ مثلاً میں جیسے ہی گھر میں داخل ہوتا ہوں میرے گھر کا پنکھا اور بلب بند کردیتے ہیں( اگرچہ میری بیوی کا خیال ہوتا ہے کہ بجلی چلی گئی ہے) ۔ ان بھوتوں کے ہاتھ اتنے لمبے ہو چکے ہیں کہ اکثر میری پلیٹ سے بوٹیاں نکال لیتے ہیں اور آلو باقی رہ جاتے ہیں( بیوی سے شکایت کروں تو وہ کہتی ہیں کہ ہمارے گھر تو سالوں سے گو شت پکا ہی نہیں ہے) ان بھوتوں کی وجہ سے تو میرے اور بیوی کے نہ صرف خیالات میں فرق آچکا ہے بلکہ ہمارے تعلقات بھی کشیدہ ہوچکے ہیں ۔ مثلاً مجھے یہ اکثر شک ہوتا ہے کہ کوئی میری جیب سے پیسے نکال لیتا ہے۔ پہلے پہل تو میں نے بیوی کو چورسمجھ لیا اور اسے میکے کی راہ دکھا دی( حالانکہ اس نے کہا کہ اس نے کئی دفعہ چوری چھپے اسی غرض سے میری جیب میں ہاتھ ڈالا لیکن اسے ہر دفعہ خالی ملی)۔ بیوی کی غیر موجودگی میں بھی مجھے اپنی جیب ہمیشہ خالی ہی ملی ۔ اب مجھے یقین ہوگیا ہے کہ اس کے پیچھے بھی کسی بھوت کا ہی ہاتھ ہے۔

 میرے گھر میں جنات کا بھی آنا جانا لگا رہتا ہے۔یہ جنات مجھے ڈراتے دھمکاتے رہتے ہیں۔ مثلاًاکثر میرے گھر میں بجلی ، پانی اور گیس کے لمبے چوڑے بل پھینک جاتے ہیں ۔ بل ادا کرکرکے پیر صاحب میرا تو دیوالیہ نکل چکا ہے۔میں اگر دل بہلانے کے لیے ٹی وی دیکھتا ہوںتو سکرین پرمجھے لوگ بندوقیں اٹھائے اور دھماکے کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ہر طر ف لاشیں ہی لاشیں دکھائی دیتی ہیں۔ پیرصاحب میں ضعیف الاعتقاد تو پہلے ہی تھا اب نفسیاتی مریض بھی بنتا جارہا ہوں۔ میری خواہش تو یہ تھی کہ میں آپ کے دست ِصدر پرست پر بیعت کرلوں لیکن کہاں پد ی اور کہاںپدی کا شوربا میرے پاس تو نذرانہ دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔میری گزارش صرف اتنی ہے کہ آپ نے اپنے بیان میں فرمایا ہے کہ آپ من موجی آدمی ہیں اسی من موج میں آکر ایوانِ صدر میں بیٹھ کر مجھ بدنصیب کے گھر کی طرف ایک پھونک ماریں یا پھر مجھے کوئی وظیفہ بتائیں تاکہ میں ان مسائل سے چھٹکارا حاصل کرسکوں۔مجھے امید ہے کہ آپ ضرور میری مسیحائی کریں گے۔ پیر صاحب !دم کرنے میں تاخیر نہ کرناکیونکہ ڈر ہے کہ آپ کے مرید کے ایوانِ صدر سے نکلتے ہی آپ کی پھونک بے اثر نہ ہوجائے۔ صدر صاحب کا خاص خیال رکھیں کیونکہ اب ان کو شاید آپ کی پہلے سے زیادہ ضرورت پڑنے والی ہے۔

والسلام

آپ کی ایک پھونک کا طلبگار....ایک گمنام پاکستانی ٭

مزید :

کالم -