عوامی توقعات اور حکومت

عوامی توقعات اور حکومت

                                                                نئی حکومت سے عوام نے بہت ساری توقعات وابستہ کر رکھی ہیں، جنہیں پورا کرنا حکومت ِ وقت کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ وطن عزیز مسائل کی دلدل میں دھنس چکا ہے، قتل و غارت، دہشت گردی، بم دھماکے بامِ عروج کو پہنچ چکے ہیں، چوریاں، ڈکیتیاں رشوت ستانی، اقربا پروری سمیت سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی برائیاں ہمارے ماحول کا حصہ بن چکی ہیں۔ ڈرون حملے ہماری سالمیت کا جنازہ نکال چکے ہیں، اندرونی و بیرونی محاذوں پر ملک خطرات سے دوچار ہے۔ پاکستانی عوام مکمل طور پر عدم تحفظ کا شکار دکھائی دے رہے ہیں، ان تمام حالات میں پوری قوم اور تمام حلقے اس بے چینی کا شکار تھے کہ نئے منتخب شدہ وزیراعظم کب عوام سے خطاب کریں گے اور ان کے مسائل کے بالآخر حل کا مژدہ سنائیں گے۔ گزشتہ دنوں یہ بے چینی بالآخر ختم ہو گئی اور وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے اقتدار سنبھالنے کے تقریباً اڑھائی ماہ بعد قوم سے خطاب کیا، جس میں انہوں نے قوم کو کوئی بڑی خوشخبری تو نہ سنائی البتہ ملکی مسائل کی نشاندہی ضرور کی اور ان کے حل کے لئے انہوں نے عزمِ صمیم ظاہر کیا ۔ قوم سے خطاب کے دوران انہوں نے بتایا کہ پاکستان اس وقت سنگین مسائل سے دوچار ہے، بڑھتی ہوئی دہشت گردی نے قومی وجود کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کی موجودہ افسوس ناک صورت حال ناقص پالیسیوں کی مرہون منت ہے کہ آج سیکیورٹی اداروں کے اہلکاران سمیت40ہزار معصوم پاکستانی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ بلوچستان کی صورت حال پر نظر ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو نظر انداز کئے جانے کے دن گزر چکے ہیں۔ اب بلوچستان کو تمام تر وسائل مہیا کئے جائیں گے۔ ڈرون حملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ حملے پاکستان کی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف ہیں، جس پر پاکستان امریکہ اور اقوام متحدہ میں بھرپور احتجاج کر چکا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بیروزگار نوجوانوں کے لئے مختلف سکیموں کے اجراءاور بے وسیلہ افراد کے لئے گھروں کی فراہمی کی یقین دہانی بھی کرائی، اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے بعد لوڈشیڈنگ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس نے ہماری معیشت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ 480ارب روپے کے گردشی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے بجلی کی پیداوار میں1700میگاواٹ کا اضافہ ہوا ہے، لوڈشیڈنگ میں کمی آئی ہے، لیکن پانچ سال تک لوڈشیڈنگ پر مکمل قابو پا لیں گے۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ گڈانی کے مقام پر65ہزار میگاواٹ بجلی کے منصوبے کا عنقریب افتتاح ہو گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ لوڈشیڈنگ کی ایک بڑی وجہ بجلی چوری ہے اور تقریباً 250ارب روپے کی سالانہ چوری ہوتی ہے، ہم بجلی اور گیس چوروں کے خلاف ملک بھر میں بھرپور مہم چلائیں گے، جبکہ اداروں کی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہمارے ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، جس کا اندازہ یہیں سے لگائیں کہ پاکستان ریلویز، سٹیل ملز اور واپڈا سالانہ 500 ارب روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں اور گزشتہ پانچ سال میں یہ ادارے 2500ارب روپے ہڑپ کر چکے ہیں۔ آخر میں انہوں نے بتایا کہ اگر ان کی حکومت کو ڈی ریل نہ کیا جاتا، تو آج پاکستان ایشین ٹائیگر بن چکا ہوتا، لیکن ہمارا اب بھی عزم ہے کہ وہ دن دُوور نہیں، جب ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گا۔

قارئین میاں محمد نواز شریف کے خطاب کو اِن حالات میں اگر خوشخبری نہیں تو یقینا حوصلہ افزا تو کہا جا سکتا ہے۔ اب دوسری طرف چلتے ہیں، مَیں نے دیکھا ہے کہ اکثر پاکستانی اس بات پر نالاں ہیں کہ نئی حکومت نے ان کے لئے کچھ نہیں کیا اور الیکشن جیتنے کے لئے صرف وعدے وعید کئے گئے اور ان کے مسائل کے حل کا صرف لولی پاپ دیا گیا ہے اور عوام راتوں رات مسائل کا حل چاہتے ہیں، لیکن مسلم لیگ(ن) یا کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس ایسا الہ دین کا چراغ نہیں کہ اِدھر رگڑیں، اُدھر جن نکلے اور تمام مسائل حل کر دے، دراصل عوام کو کیا پتہ کہ سابق حکومت نے وہ گل کھلائے ہیں کہ ان سے پیدا شدہ مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک عرصہ درکار ہے۔ سابق حکومت نے جیو اور جینے دو کی پالیسی پر زبردست عمل کیا۔حکومت اور بیورو کریسی نے مل بانٹ کر کھایا، جس کی وجہ سے ادارے تباہ ہوئے اور ملک مسائل کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ اگر تفصیل میں جائیں تو بات طوالت اختیار کر جائے گی، مختصراً یہ کہ مسائل کا اژدھا مُنہ کھولے ہمارا مُنہ چڑا رہا ہے۔ موجودہ حکومت پوری کوشش میں ہے کہ عوام کو مسائل کے گرداب سے نکالا جائے، جس کے لئے ایسے منصوبے تشکیل دینے جا رہے ہیں، جن کا ریلیف عوام کو فی الفور تو شاید نہ مل سکے، البتہ آئندہ کچھ عرصے کے بعد عوام ضرور مستفید ہوں گے۔ اگر عوام کے مسائل حل نہ ہوئے تو 2008ءکے الیکشن کی کنگز پارٹی مسلم لیگ(ق) اور 2013ءکے الیکشن میں پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ ہونے والا حشر آپ کے سامنے ہے۔ اس یقین اور دُعا کے ساتھ کہ وہ دن دُور نہیں جب وطن عزیز امن و آتشی اور خوشیوں کا گہوارہ ہو گا۔  ٭

مزید : کالم