وزیراعلیٰ پنجاب ،سیاسی تاریخ کا ایک اہم کردار

وزیراعلیٰ پنجاب ،سیاسی تاریخ کا ایک اہم کردار

                                                                                             وہ 2003ءکا اکتوبر تھا، مانچسٹر کے سنچری ہال میں مسلم لیگ (ن)کا ورکرز کنونشن ہو رہا تھا اور شریف خاندان جلا وطنی کے بعد پہلی بار عوامی سطح پر نمودار ہورہا تھا،اس نام نہاد جلاوطنی میں پہلی سیاسی تقریر کرنے والی شخصیت جناب شہباز شریف کی تھی،وہ کہہ رہے تھے ۔ ”پاکستانی فوج نہیں چند جرنیلوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا، ہمیں امریکہ کے سابق صدربل کلنٹن نے آفر کی کہ اگر جناب نوازشریف ایٹمی دھماکے نہ کریں تو امریکہ شریف خاندان کے ذاتی اکاﺅنٹ میں کروڑوں ڈالر ڈال سکتا ہے، مگرہم جھکنے ،بکنے والے لالچی سیاستدان نہیں ،ہم ملک و قوم کا سربلند کرنے والے لوگ ہیں ،ہم ایسے ڈالروں کو ٹھوکر مارتے ہیں جو ملکی سربلندی کی راہ میں آئیں “انہوں نے ڈکٹیٹرز پر تنقید کرتے ہوئے پہلی بار شہید ذوالفقار علی بھٹو کو عظیم خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ۔” فوج نے ایک ایسے منتخب وزیراعظم کو پھانسی چڑھایا جس نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی “۔

صاحبو!!کسی کی بے جا تعریف اگر صحافت کے اصولوں کے خلاف ہے تو آن میرٹ کسی کی کارکردگی کو نہ سراہنا بھی اچھا صحافیانہ رویہ نہیں ، کوئی شک نہیں کہ جناب شہباز شریف عام سیاستدانوں کی نسبت بہت مختلف ہیں اورپاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم کردار ہیں ،وہ اپنا حق لینا جانتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کے لئے بھی دن رات ایک کرنا ان کا طرہ رہا ہے،1950 ءمیں لاہور میں پیدا ہونے والے شہباز شریف نے اسی شہر سے گریجویشن کی اور اپنے والد میاں شریف کے کاروبار میںہاتھ بٹانے لگے، ان کے بڑے بھائی نواز شریف نے سیاست کے میدان میں قدم رکھا تو وہ ان کے سب سے قریبی ساتھی ٹھہرے،1988 ءمیں جب نواز شریف پنجاب کے وزیر علیٰ بنے تو شہباز شریف لاہور چمبر آف کامرس کے صدر منتخب ہو ئے،نواز شریف پہلی بار وزیر اعظم بنے تو شہباز شریف پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے،جناب نواز شریف کی پہلی حکومت کی برطرفی کے بعدجب نواز شریف قومی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف منتخب ہوئے تو چھوٹے بھائی شہباز شریف نے پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالا،جناب نواز شریف دوسری بار دو تہائی اکثریت لیکر وزیر اعظم بنے تو شہباز شریف بھی پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے،12اکتوبر 1999ءکو جب ڈکٹیٹرپرویز مشرف نے وزیر اعظم میاں نوازشریف کا تختہ الٹا توپنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو فوج نے گرفتار کر لیااور بعدازاں پورے خاندان کو جلا وطن کر دیا گیا،اپنے والد میاں شریف کے انتہائی تابعدار سمجھے جانے والے شہباز شریف بڑے بھائی جناب نواز شریف کے بھی انتہائی وفادار نائب ثابت ہوئے یہی وجہ ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اپنے چھوٹے بھائی کو ایک ایسا منتظم سمجھتے ہیں جس پر وہ اپنے بعد سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔

ہمیں 2004ءکا گرم ترین مئی بھی خوب یاد ہے جب جناب شہباز شریف زبردستی کی جلاوطنی سے بغاوت کرکے پاکستان آئے، لیکن فوجی حکومت نے انہیں زبردستی ڈی پورٹ کر دیا،جناب شہباز شریف کا طیارہ جونہی لاہور ایئرپورٹ پراترا اسے پولیس کمانڈوز نے گھیرے میں لے لیا اورجناب شہباز شریف کو گرفتار کر لیا گیا،2008ءکے جون کی 8تاریخ تھی جب 9سال کی صعوبتوں ،جلاوطنیوں اور گرفتاریوں کے بعد جناب شہباز شریف پنجاب کے دوسری بار وزیراعلیٰ بنے ، شہباز شریف وزارت اعلیٰ کے واحد امیدوار ہونے کی وجہ سے بلامقابلہ منتخب ہوئے، انہوں نے غربت، مہنگائی، بیروزگاری اور امن و امان کے ساتھ ساتھ ڈینگی جیسے موذی مرض سے جنگ کی اور لاہورمیں فلائی اوورز، نڈر پاسز کے ساتھ ساتھ میٹرو بس سروس کا شاندار منصوبہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچایا،جناب شہباز شریف جس تیزرفتاری سے کام کرتے ہیں اس پراپنوں کے ساتھ ساتھ ترقی یافتی ممالک کے سربراہان بھی انہیں داددینے سے نہیں چوکتے،ان سب خوبیوں کے ساتھ ساتھ ایک اور بات باکمال ہے کہ وہ بیوروکریسی کو ہینڈل کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کرتے ،مگرافسوس ہے تو بس اتنا کہ اتنے ایکٹیو ”باس“ کے ہوتے ہوئے بھی بیوروکریسی اور افسر شاہی اپنے ”جوہر “دکھانے سے باز نہیں آتی۔

کوئی شک نہیں کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے،آجکل سیلاب سے لے کر دہشتگردی تک بہت سے مسائل ہیں اور جناب شہبازشریف کی بھاگ دوڑہے،لاہور میں دہشتگردوں کا بہت بڑا نیٹ ورک پکڑا جانا اور سیلاب زدگان کے دکھ دردکو اپنا سمجھنا کسی اورسیاستدان کے حصہ میں کم ہی آیا ہے،شہبازشریف کی خواہش ہے کہ وہ ڈینگی کی طرح لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے بھی جنگ لڑیں اسی لئے وہ پنجاب کی وزار ت اعلیٰ کے ساتھ ساتھ وزارت پانی و بجلی کا بھی رضاکارانہ طور پر ہاتھ بٹاتے ہیں ،یقینا اس سلسلہ میں بھی ان کی کوششیں رنگ لائیں گی اور اندھیروں میں غرق پاکستان اجالوں میں سانس لینے کے قابل ہوگا، مگر جس جانب وزیراعلیٰ پنجاب کی توجہ نہیں وہ پرائیویٹ سکولوں کی لوٹ مار،پرائیویٹ کلینکس کے نام پر مجبور و لاچار مریضوں کی جیبوں پر نام نہاد مسیحوں کے ڈاکے،چھوٹی بڑی فیکٹریوں،کارخانوں سمیت کاروباری مراکز میں مزدوروں کے ساتھ آجروں کاظالمانہ رویہ اور بازاروں میں تاجروں کی خود ساختہ مہنگائی ہے ،کاش! وزیراعلیٰ پنجاب سرکاری محکموں کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سیکٹر میں موجود طرح طرح کے ڈاکوﺅں،مگر مچھوں کو راہ راست پر لانے کے لئے بھی اقدام اٹھائیں اور یوں مزید دعاﺅں اور شہرت کے حق دار ہو جائیں ،ہم جانتے ہیں کہ پرائیویٹ سکول مالکان، ڈاکٹرز اور تگڑے تاجروںہاتھ ڈالنا مشکل عمل ہے ،لیکن اچھی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ خرابی یا برائی جہاں بھی ہواس کا سدباب کیا جائے،کوئی شک نہیں کہ پرامن، شادآباد پنجاب خوشحال اورمضبوط پاکستان کی ضمانت ہے اور یہ خوشحالی و شادمانی وزیراعلیٰ پنجاب کی چابکدستی اور نیک نیتی سے ہی ممکن ہو سکتی ہے۔  ٭

مزید : کالم