نیت کا پھل

نیت کا پھل

                                                                باقی سب باتیں ہیں، قصے کہانیاں، کہاوتیں اور چٹخارے دار تبصرے،سچ وہی ہے جو کائنات کی سب سے مقدس ہستی نے فرمایا کہ ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے“....

کپتان تبدیلی کا نعرہ لگا کر نکلا ،عوام نے اس کی نیت پر اعتبار کیا، مگر یہ کیا نئے نظام کے لئے بوسیدہ نظام کے بانیوں کو ہمسفر کرلیا،جن کی راہزنی کا گلا تھا، انہیں راہبری دے دی، جن کے پاﺅں ہی الٹے تھے، انہیں قافلے کے آگے لگا دیا، جاگیرداروں، گدی نشینوں اور نوابوں کے خلاف اعلان جنگ کرکے انہی کے وارثوں کے ہاتھ میں عَلم پکڑا دیا، جمہوریت کے شجر کی حفاظت کا وعدہ کرکے آمریت کی آکاس بیل کو اکٹھا کرنا شروع کردیا، غلیظ بدبو دار پوتڑوں کو پھینکنے کا اعلان کرکے داغدار تعفن زدہ کپڑوں سے گٹھڑی باندھ کر سر پر رکھ لی اور آج اس کا پھل مل گیا۔انسان کو اس کی نیت کا پھل ملتا ہے۔کپتان اسی دن شکست کھا گیا تھا،جس دن اس نے تبدیلی کی نیت بدل کر اقتدار کی نیت کرلی تھی۔یہ کون لوگ ہیں، جو آج میانوالی اور پشاور کی ٹکٹوں کا فیصلہ کرکے تحریک انصاف کو ہزیمت اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔کپتان آج عائلہ ملک اور دوسرے ایسے ہی موسمی پرندوں سے گلہ کررہا ہے، بلکہ تحریک انصاف کا ہر کارکن سکتے کے عالم میں سوچ رہا ہے، بقول جہانزیب خان :

اپنا لاشہ اپنے کاندھوں پر لے کر ہم پھرتے ہیں

تم نے ایسے قتل کیا کہ چلتا پھرتا چھوڑ دیا

تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت کے لئے لازم ہوچکا کہ وہ خود احتسابی کے عمل سے گزرے کہ غلطیوں سے حماقتوں تک اس نے اپنی مقبولیت کو کس قدر نقصان پہنچایا۔تحریک انصاف کو اپنی غلطیوں کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ہوگا جو لوگ غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے، ناکامی ان کا مقدر ٹھہرتی ہے۔مانا کہ عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم منصفانہ نہ ہو سکی اور جیتی ہوئی بازی ہار گئی، مگر وہی غلطی ضمنی انتخابات میں؟ غلطی کو دہرانا حماقت ہوتی اور حماقت اپنا تاوان ضرور وصول کرتی ہے۔ حماقتوں کو دہرانا تحریک انصاف کی پہچان بنتی جارہی ہے۔عام انتخابات میں شکست کے بعد ان حلقوں میں ہارنا کہ جن میں یہ بہت زیادہ ووٹوں سے جیتی تھی۔جماعت کی پالیسیوں، فیصلوں اور کارکردگی پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔ہار سے اگر سبق حاصل نہ کیا جائے تو گلے کا ہار(طوق ندامت) بن جاتی ہے۔ ناکامی عاقلوں کے لئے کامیابی کی طرف پیش قدمی کے لئے نئے زاویئے سے سوچنے اور سیکھنے کا لمحہ ہوتی ہے، جبکہ جاہلوں کے لئے بربادی کا نوحہ، ماتم اور رونے دھونے میں خود کو غرق کر لینے کا بہانہ، تحریک انصاف پر ضمنی انتخابات بلاشبہ ناکامی کا داغ لگا گئے، لیکن اگر تحریک کی قیادت اور خصوصاً کپتان نوحہ خوانی سے نکل کر ناکامی کے اسباب ڈھونڈنے کی کوشش کرے تو یہ اس مایوس کن صورت حال سے نکل سکتے ہیں۔عام انتخابات میں تو تحریک انصاف نے ٹکٹوں کی تقسیم کے موقع پر اپنے آپ کو ہرانے کی جو حماقت کی تھی، اسے اگر ضمنی انتخابات میں نہ دہرایا جاتا تو آج یوں رسوائی سے منہ نہ چھپاتے پھرتے۔این اے 71میں کپتان نے کیا عائلہ ملک کے رشتے دار کو ٹکٹ دیتے وقت یہ سوچا تھا کہ وہ ایک غیر مقبول شخص کو ٹکٹ دے کر تحریک انصاف سے ناانصافی کررہا ہے۔کیا کپتان نے حلقوں کا کوئی سروے کروایا کہ این اے 1 اور این اے 71میں اس کے امیدواروں کی عوامی مقبولیت کیا ہے ۔عائلہ ملک کا کزن جو پی ٹی آئی کا کبھی بھی رکن نہیں رہا۔اس کے لئے ٹکٹ جائز ہو گیا اور انعام اللہ نیازی کے جس کی وابستگی کسی شک و شبہ سے بالاتر تھی، اس کے لئے پی ٹی آئی کا ٹکٹ کیونکر مکروہ قرار دے دیا گیا۔کپتان کے میرٹ میں کھلا تضاد نظر آ رہا ہے، جو کوئی مثبت بات نہیں۔

لیڈر کی ذات دوٹوک فیصلے کرتی ہے۔کپتان کے اکثر فیصلوں میں غیر سنجیدگی کا عنصر غالب رہا۔یوں لگا کہ چند لوگ کپتان کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔مخلص لوگ دہائی دیتے رہے، مگر کپتان نے انہی لوگوں کی سنی، جن کی سنی اَن سنی کرنے کے لئے بھی اسے وقت برباد نہیں کرنا چاہیے۔وہ لوگ آج پارٹی میں فیصلہ سازی کی پوزیشن حاصل کر چکے جو کبھی پارٹی کے تھے ہی نہیں، آج بھی نہیں ہیں، یہ مو سمی پرندوں کی طرح نگر نگر کی سیر کرتے آج اس شجر پر توکل دوسرے پر ہوتے ہیں۔موسم بدلتے ہی ان کی اڑانیں کسی نئے سرسبز باغ کی طرف شروع ہوجاتی ہیں۔خود احتسابی ہونی چاہیے، تحریک انصاف کو احتساب کا خیبر پی کے میں نظام لانے سے پہلے اپنا کڑا احتساب کرناہوگا کہ پارٹی روز بروز غیر مقبول کیوں ہوتی جا رہی ہے۔پارٹی سے ہمدردی رکھنے والے اکثر سنجیدہ فکر لوگ پارٹی پالیسیوں، غیر سنجیدہ رویوں اور کپتان کے فضول معاملات میں الجھنے پر اس سے مایوس ہو رہے ہیں۔اوپر سے کے پی کے کا وزیراعلیٰ ایسے شخص کو بنا دیا ہے، جو سست و کاہل دکھائی دیتا ہے۔اس کی شخصیت میں کوئی کشش ہے نہ عملی طور پر کسی قسم کی کوئی حرارت نظرآتی ہے۔اب بھی پڑھے لکھے لوگوں کی اکثریت کپتان اور پی ٹی آئی کی طرف دیکھ رہی ہے کہ دوسری پارٹیوں سے اسے بہتری کی کوئی امید نہیں، وہی موروثی سیاسی گروہوں کے قبضے میں چلتے خاندانی کاروبار، تحریک انصاف نے اگر اپنی کارکردگی پر توجہ نہ دی تو لوگ اس سے مایوس ہو کر اسے چھوڑ جائیں گے، پھر کوئی اور آگے آئے گا۔ تبدیلی کو روکنا کسی کے بس میں نہیں۔پڑھے لکھے لوگ نظام کی تبدیلی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

کپتان کو اپنی شخصیت میں سنجیدہ پن لانا ہوگا۔فیصلوں کو مشاورت سے کرنا سیکھنا ہوگا۔خیبر پی کے میں ترقیاتی کام نہ سہی، کم از کم انتظامی معاملات میں بہتری کے لئے متحرک ہونا ہوگا۔پی ٹی آئی اور کپتان کے لئے صوبہ خیبر پی کے کی حکومت ہی اس کے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔اگر پی ٹی آئی کارکردگی دکھا سکے تو اگلے انتخابات اس کے لئے کامیابی کی نوید لے کر آئیں گے، نہیں تو اس کا حشر ایم ایم اے جیسا ہوگا۔سونامی نے کرپٹ مافیا کی طرف رخ کرنا تھا اور اسے خس و خاشاک کی طرح بہالے جانا تھا، مگر بدقسمتی سے چند شریروں نے کپتان سے اس کے سونامی کا رخ تحریک انصاف کی طرف کروایا ہے، جو کرپٹ نظام کا تو کچھ بگاڑتا نظر نہیں آتا، لیکن تحریک انصاف کو تباہ کرنے کے درپے ضرور لگ رہا ہے۔

کپتان کو اپنی نیت درست کرنا ہو گی۔ نظام بدلنے کے لئے جدوجہد کرنا ہوگی، جس کے لئے اسے عام لوگوں کی ضرورت ہے، عوام اس کی طاقت ہیں، اگر وہ اقتدار کے لئے انہی پرانے ، بوسیدہ ، نااہل اور کرپٹ لوگوں سے ہاتھ ملا کر ان کی خواہشوں پر چلے گا تو عوام اس کا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔پی ٹی آئی کیوں ضمنی انتخابات ہاری؟ باقی سب باتیں ہیں، قصے کہانیاں، کہاوتیں اور چٹخارے دار تبصرے، سچ وہی ہے جو کائنات کی سب سے مقدس ہستی نے فرمایا کہ ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے“۔  ٭

مزید : کالم