اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دینا ضروری ہے

اسٹیبلشمنٹ کو واضح پیغام دینا ضروری ہے

  



                                                معاملات میں غیر ضروری تاخیر ان میں ایسے اُلجھاو¿ اور سقم پیدا کرنے کا موجب بنتی ہے، جنہیں بعد میں درست کرنا ممکن نہیں رہتا۔ وزیراعظم نواز شریف کے حامی تجزیہ کار اس خیال پر متفق دکھائی دیتے ہیںکہ ماضی کے مقابلے میں ان کے تدبر و دانش میں بے پناہ اضافہ ہو چُکا، اگرچہ وزیراعظم کے کچھ اقدامات اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن ہنوز بہت سے معاملات ان کی دانش و تدبر کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ محسوس یوں ہوتا ہے کہ وہ کسی گہری سوچ میں مستغرق ہو کر غیر معمولی احتیاط پسندی سے کام لے رہے ہیں جو فوری نوعیت کے فیصلوں کے صادر ہونے میں بھی غیر معمولی تاخیر کا باعث بن رہی ہے۔ بہت سے اعلیٰ ترین مناصب موزوں اور اہل افراد کی راہ تک رہے ہیں کہ ان پر دور گزشتہ کی باقیات ہنوز براجمان ہیں۔ قومی سلامتی سے متعلق بہت سے امور پر بہت سے اہم فیصلے ہو جانے چاہئیں تھے، لیکن اس لئے نہیں ہو پائے کہ نوزائیدہ حکومت بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ویسی ہی مفاہمت و مصالحت چاہتی ہے۔ جیسی پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے روا رکھی۔

بعض تجزیہ کار تو یہاں تک کہہ گئے کہ وزیراعظم نواز شریف نے صدر آصف علی زرداری سے مفاہمت کی پالیسی مستعار لے لی ہے، جس کو بروئے کار لاتے ہوئے صدر آصف علی زرداری کی مانند وہ بھی اپنی ٹرم پوری کرنے کے خواہش مند ہیں اور اس کے بدلے میں اسٹیبلشمنٹ کی نامعقول باتوں کو بھی برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں طویل آمریتوں کا راج رہا ہے۔ آمروں کے رخصت ہو جانے کے باوجود ان کے مضمرات طویل عرصے تک باقی رہتے ہیں۔ اکتوبر 1999ءمیں جب جنرل پرویز مشرف کی آمریت رائج ہوئی تو اعلیٰ ترین مناصب ریٹائرڈ جرنیلوں کے تصرف میں چلے گئے۔ صوبوں کے گورنروں سے لے کر بہت سے محکموں کے سربراہوں اور جامعات کے وائس چانسلروں تک سابق فوجی افسران کو تعینات کر دیا گیا۔ دفاع جیسے اہم محکمے کا چارج سابق آمر نے طویل عرصے تک اپنے پاس رکھا۔2002ءکے انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی مسلم لیگ (ق) المعروف کنگز پارٹی کی حکومت اسٹیبلشمنٹ کے مکمل تابع تھی۔ سابق وزیراعظم ظفر اللہ خان جمالی (اب مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما) کی بطور وزیراعظم رخصتی کا سبب بھی ملک کے اہم ترین خفیہ ادارے کی جانب سے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو ان کے خلاف ارسال کی جانے والی معلومات تھیں۔18 فروری2008ءکے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت نے اپنی پیشرو مسلم لیگ (ق) (جو بعد میں پیپلز پارٹی کی اتحادی بنی) کے نقش قدم پر چلنا گوارا کیا اور اسٹیبلشمنٹ کی تابعداری کرتے ہوئے پانچ سال گزار دئیے۔

2008ءسے 2013ءکے دوران قائم رہنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران ملک کے شمال مغربی حصے میں امریکی ڈرون آکر بمباری کرتے رہے اور ہزاروں بے گناہ پاکستانی اپنی جان سے گئے۔ بلوچستان میں خفیہ ادارے اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے لوگوں کو لاپتہ کرتے رہے اور بلوچ عوام کو مسخ شدہ لاشوں کے تحفے ملتے رہے، لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسٹیبلشمنٹ کی ہاں میں ہاں ملانے میں ہی عافیت سمجھی۔ ڈرون حملوں کا معاملہ ہو یا لاپتہ افراد کی بازیابی کا مسئلہ، پیپلز پارٹی کی حکومت کا مو¿قف ہی وہی رہا جو سابق آمر کے دور میں مسلم لیگ (ق) کی حکومت کا تھا۔ مسلم لیگ (ق) نے درحقیقت آمر کے ذاتی ایجنڈے کو اپنی پالیسی بنا کر پیش کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عشرے کے دوران ہی یہ اپنا وجود کھو بیٹھی۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ق) کی پالیسیوں کو توسیع دیتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے حامی بہت سے افراد کو اہم ترین مناصب پر فائز کیا۔ صدر آصف علی زرداری کے مخالفین ان پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ بہت سے حساس معاملات جن کا تعلق قومی سلامتی سے ہے، پر پیپلز پارٹی کی حکومت کو کوئی رائے یا پالیسی نہ تھی اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی حیثیت سے زرداری صاحب کی اہم مناصب پر فائز شخصیات کو ہدایات تھیں کہ وہ مشرف دور کے ”سٹیٹس کو“ کو برقرار رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت جاری رکھیں۔

نومبر 2007ءمیں سات سال کی جلاوطنی کے بعد جب مسلم لیگ (ن) کے سربراہ نواز شریف وطن واپس پہنچے تو ابتداً انہوں نے پارٹی سے غداری کر کے اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر مسلم لیگ (ق) میں جانے والے رہنماو¿ں سے متعلق جارحانہ رویہ اختیار کیا، لیکن بعد میں اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ انہی لوگوں کی اکثریت مسلم لیگ (ن) کا حصہ بن گئی، جن میں سے بعض آج بھی اہم ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ بدلتے ہوئے حالات میں اگرچہ سیاسی مجبوریاں بھی ہوتی ہیں، لیکن مسلم لیگ (ن) کو اس بات کا ادراک ضرور ہونا چاہئے کہ اگر یہی لوگ اہم ترین عہدوں پر فائز رہے تو پرویز مشرف دور کی پالیسیوں کی توسیع جاری رہے گی اور بعض حساس نوعیت کے معاملات پر یہ لوگ مسلم لیگ (ن) کے اصل مو¿قف کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کریں گے۔ نومبر 2013ءمیں اپنی دوسری مدت مکمل کر کے فرائض سے سبکدوش ہونے والے افواج پاکستان کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کے جانشین کا تقرر بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے لئے بڑا چیلنج ہے، جس سے عہدہ برآ ہونے کے لئے غور و خوض جاری ہے، دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ کے نمائندہ کالم نگار کے توسط سے یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں قومی سلامتی کا مشیر مقرر کر دیا جائے گا ۔ اس حوالے سے ماضی قریب کا مشاہدہ کیا جائے تو پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت(2008-13ئ) نے بھی ایک ریٹائرڈ میجر جنرل محمود علی درانی کو یہ ذمہ داریاں سونپی تھیں اور یہ تجربہ کافی ناخوشگوار ثابت ہوا اور ہم یہ روایت کیوں قائم رکھنا چاہتے ہیں کہ قومی سلامتی کے مشیر کے لئے کسی سابق جرنیل کا تقرر ہی ضروری ہے۔

ماضی میں مسلم لیگ (ن) کو بلوچستان میں ملک کے خفیہ اداروں کی جانب سے کی جانی والی کارروائیوں کے حوالے سے تشویش رہی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ (موجودہ وزیراعظم) نے بارہا اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہا کیا۔ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف جسے سینئر مسلم لیگی رہنماو¿ں (موجودہ وزرائ) نے کئی بار اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے لگائے گئے کیمپوں میں جا کر ان سے اظہار ہمدردی کیا۔ اب جبکہ حکومت ملک کے شمال مغربی حصے میں ریاست کی عملداری کوچیلنج کرنے والے شدت پسندوں کو بھی مذاکرات کی دعوت دے چکی ہے تو ایسے میں اسے بلوچ مزاحمت کاروں کے ساتھ بھی گفت و شنید کا آغاز کرنا ہوگا۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اس سلسلے میں بارہا احکامات جاری کر چکی ہے کہ خفیہ اداروں کے پاس موجود افراد کو عدالتوں کے روبرو پیش کیا جائے اور اگر ان کے خلاف کسی قسم کے ثبوت ہیں تو وہ بھی عدالت کے سامنے پیش کئے جائیں، لیکن اس سلسلے میں اب تک کسی قسم کی پیش رفت نہیں ہو پائی۔ مسلم لیگ (ن) نے بلوچستان کی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی وزارت اعلیٰ کی قربانی دی اور نیشنل پارٹی کے عبدالمالک بلوچ کو اس منصب پر فائز کیا جو موجودہ حالات میں بہترین فیصلہ تھا، لیکن عبدالمالک بلوچ بھی اسی صورت میں کچھ کر پائیں گے جب انہیں وزیراعلیٰ کے حقیقی اختیارات حاصل ہوں گے، اگر صوبے میں بدستور اسٹیبلشمنٹ کا راج رہا تو نہ بلوچ مزاحمت کاروں مذاکرات ہو سکیں گے اور نہ ہی صوبائی حکومت پر عوام کا اعتماد قائم ہو سکے گا۔  ٭

مزید : کالم