”شرک“

”شرک“
”شرک“
کیپشن: 1

  

اس موضوع پر قلم کشائی سے پہلے ایک ضروری بات واضح کر دی جائے کہ ذہنوں میں کوئی تصوراسی وقت واضح ہوپاتا ہے، جب اس کے مخالف تصور کو بھی ساتھ ساتھ بیان کر دیا جائے۔ اس لئے اہم اُصول و نظریات کی وضاحت کے وقت عموماً اس بات کا اہتمام ضرور کیا جاتا ہے کہ ان کے مخالف اصولوں اور نظریات کو ان کے بالمقابل رکھ دیا جائے۔ عقیدہ¿ توحید سے زیادہ اہمیت کس نظریہ¿ اور عقیدے کو حاصل ہو سکتی ہے؟ اس لئے ضروری ہے کہ اس کے مخالف نظرئیے، یعنی ”شرک“ کو بھی سمجھ لیا جائے۔پوری تفصیل کے ساتھ بتانا ضروری ہے کہ شرک کیا ہے؟ اس کے انداز کیا ہیں؟ اس کی علامتیں کیا ہیں؟ اور شرک کیوں سراسر بے اصل اور باطل نظریہ ہے؟ توحید کے تصور کے لئے جو جملہ استعمال کیا گیا ہے، یعنی کلمہ توحید، اس میں توحید کا اثبات اور شرک کی نفی دونوں ساتھ ساتھ موجود ہیں، یعنی اللہ نے یہ بات یونہی نہیں فرمائی کہ ”اللہ اکیلا معبود ہے“ بلکہ یوں فرمایا کہ ”نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے“۔ اِس طرز بیان سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ توحید کابے آمیز تصور پیدا نہیں ہو سکتا، جب تک کہ شرک کی پوری طرح نفی نہ ہو جائے اور جب شرک کی نفی ضروری ہے تو اس کا سمجھ لینا بھی لازماً ضروری ہو گا۔ ”شرک کے معنی ”سانجھے پن“ کے ہیں۔ دین کی اصطلاح میں شرک کی تین اقسام ہیں: پہلا شرک وہ ہے، جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہوتا ہے۔ دوسرا وہ شرک ہے، جس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفات سے ہوتا ہے۔ تیسرا شرک وہ ہے، جس کا تعلق اس کی صفوں کے لوازم سے ہوتا ہے۔

 پہلی قسم کے شرک کی عملی صورتیں یہ ہیں.... کسی کو اللہ تعالیٰ کا ہم جنس قرار دیا جائے۔ اسے اُس کا باپ یا اُس کی اولاد سمجھ لیا جائے۔ یہ مان لیا جائے کہ وہ کسی اور ہستی کے ساتھ مل کر ایک قالب ہو گیا ہے۔ یہ تصور کر لیا جائے کہ وہ کسی مخلوق کی شکل اختیار کر کے نمودار ہوا کرتا ہے یعنی کوئی مخلوق اُس کا متبادل ہو سکتی ہے، مثلاً اہل عرب فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں اور جنوں کو اس کی ذات برادری سمجھتے تھے۔ اسی طرح عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کا اکلوتا بیٹا اور اُس کا اوتار قرار دیتے تھے۔ یہ سب شرک ہے۔

دوسری قسم کے شرک کی عملی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جن صفتوں کا مالک ہے، ان میں سے کوئی صفت کسی اور کے اندر بھی موجود مان لی جائے۔اُس معنی و مفہوم میں کہ جو صرف اللہ تعالیٰ کے اندر پائی جاتی ہیں، مثلاً ”علم“ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ کھلی اور چھپی ہر بات کو جانتا ہے۔ اس کے لئے غائب بھی حاضر ہے اور گزرا ہوا یا آنے والا زمانہ بھی حال کا زمانہ ہے ۔ اگر کوئی یہ سمجھ لے کہ کوئی انسان بھی اسی طرح ہر بات کو جانتا ہے تو یہ بھی بدترین شرک ہے۔

تیسری قسم کے شرک کی صورت یہ ہے کہ صفاتِ الٰہی کے جولازمی تقاضے ہیں، انہیں اور ان سب کو اللہ ہی کے لئے خاص نہ سمجھا جائے، بلکہ انہیں یا ان میں سے کسی کو بعض دوسری ہستیوں کے لئے بھی ثابت اور موجود مان لیا جائے۔ مثال کے طور پر صفات الٰہی کا ایک تقاضا یہ ہے کہ حقیقی اطاعت اور محبت صرف اللہ کا حق ہے۔ اب اگر کوئی شخص کسی اور سے بھی ایسی ہی محبت اور عقیدت رکھے، یا اسی طرح اطاعت کا اسے مستحق قرار دے لے تو یہ صفات الٰہی کے تقاضوں میں غیر اللہ کو شریک ٹھہرانا ہو گا، حالانکہ ہم سب جانتے ہیں اقتدار اعلیٰ صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حکم دینے کا اصل حق صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، اس لئے اگر کسی اور کو بھی یہ حیثیت دے دی جائے خواہ وہ ایک فرد ہو یا بہت سے افراد کا مجموعہ، تو یہ صریحاً شرک ہو گا۔

آخر میں عرض ہے کہ اللہ تعالیٰ دو مواقع پر بہت خوش ہوتے ہیں، ایک حج کے موقع پر جب حاجی میدان عرفات سے گزرتے ہوئے ”تلبیہ“ پڑھتے ہیں اور دوسری مرتبہ 27رمضان المبارک کی رات۔ ان دنوں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں، برکتیں، عنائتیںاور مغفرتیں اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ چھوٹی عبادت بھی بلند درجہ پر رکھی جاتی ہے، لیکن اس موقعہ پر بھی جن لوگوں کی بخشش نہیں ہو گی، ان میں سرفہرست وہ لوگ ہوں گے جو شرک کے مرتکب ہوئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں ہر طرح کے گناہ سے محفوظ رکھے اور ہم سب مسلمانوں سے راضی ہو جائے۔ آمین۔

مزید :

کالم -