دھرنے کاانجام کیا ہوگا؟

دھرنے کاانجام کیا ہوگا؟
 دھرنے کاانجام کیا ہوگا؟
کیپشن: 1

  


آج ایک بار پھر پوری قوم کی نظریں پاک فوج پر لگی ہیں۔۔۔ اس لئے کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے والے افراد کا معاملہ حل کروایا جا سکے ۔ دوستو! دنیا جانتی ہے کہ 14اگست کی دوپہر شروع ہونے والے آزادی و انقلاب مارچ اب تک اسلام آباد میں دھرنا دیئے ہوئے ہیں، پوری قوم دھرنوں سے تنگ آ چکی ہے، نہ ہی کوئی کاروبا ر رہ گیا ہے اور نہ کوئی اور خبر ہی ٹی وی اور اخبارات کی زینت بنتی دکھائی دیتی ہے۔دھرنے دینے والوں نے ملک کا سارا نظام درہم برہم سا کر دیا ہے ،اسی لئے حکومت نے فوج سے سہولت کار کا کردارا ادا کرنے کی سفارش کر دی ہے، اس کے بعد ہی آرمی چیف نے عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری سے الگ الگ ملاقات کی، انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دونوں رہنماؤں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے آرمی چیف سے ملاقات کو غلط رنگ دیا، دونوں نے اپنے اپنے انداز میں اپنے اپنے مریدوں سے کہا کہ حکومت نے فوج کو دعوت دی کہ معاملہ سلجھایا جائے۔

آئی ایس پی آر کی طرف سے یہ بتایا گیا، تو ہر طرف ایک نئی بحث شروع ہو گئی، ہر کوئی اپنے اپنے نظریئے سے حکومت کے خلاف اورحق میں بیانات داغ رہا ہے۔ ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ حکومت بیچاری اور کیا کرے، اب لے دے کے آرمی ہی رہ گئی ہے، جس سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔ یہ تو حکومت کی شرافت ہے کہ اب تک اس نے شریفانہ انداز اختیار کیا ہوا ہے، ورنہ تو بہت سے حکومت کے چاہنے والے اب کہہ رہے ہیں کہ دھرنا دینے والے لاتوں کے بھوت ہیں، باتوں سے نہیں مانیں گے۔ہمارے بہت سے دوست تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ حکومت کیوں ڈھیل دے رہی ہے دھرنا دینے والوں کو۔

17 روز ہونے والے ہیں دھرنا دینے والوں کو، لیکن دھرنا دینے والے ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ دھرنے میں محض حکومت کے خلاف تقریریں کرنے کے اور کچھ نظر نہیں آ رہا۔ یو ں سمجھیں کہ نظام زندگی بھی گویا معطل ہو کے رہ گیا ہے، اِسی لئے حکومت نے معاملے کے حل کے لئے دھرنا دینے والوں کے خلاف فوج کو آواز دی،جس پر آرمی چیف نے دھرنادینے والی دونوں جماعتوں کے قائدین سے ملاقات کی،جس کے بعد عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے چیخ چیخ کر عوام کو بتایا کہ حکومت نے آرمی چیف سے مدد مانگی۔ حکومت گھٹنے ٹیک چکی اور نہ جانے کیا کچھ نہیں کہا جا رہا۔ وہ کون سے کوسنے ہیں جو حکومت کو نہیں دیئے جا رہے۔ فوج کو آواز دینے پر تو ہمارے بہت سے دوست کہہ رہے ہیں کہ اگر حکومت نے فوج سے مدد مانگ لی ہے تو کون سی قیامت آ گئی ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے دونوں قائدین کو منع کیا تھا کہ کوئی غیر آئینی مطالبہ نہیں ہو گا،لیکن پھر بھی دونوں جماعتوں کے دھرنا دینے والے قائدین وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور شہباز شریف کے استعفوں پر بضد ہیں اور طوطے کی طرح رٹ لگائے ہوئے ہیں اور مسلسل غیر آئینی مطالبات پیش کر کے حکومت اور عوا م کو پریشان کئے ہوئے ہیں۔ چودھری نثار کاکہنا ہے کہ پرانے زمانے میں لشکر کشی ہوتی تھی، ان کا کہنا تھا کہ چند ہزار افراد کا گروہ وزیراعظم سے استعفا نہیں لے سکتا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر وزیراعظم نے دباؤ میں آ کر استعفا دیا تو یہ ریت بن جائے گی اور کل پھر چند ہزار افراد حکومت کے خلاف میدان میں نکل آئے ، تو پھر کیا کریں گے؟ اس لئے کہا جا رہا ہے کہ دھرنے کے معاملے کو حل کیا جائے۔

حکومت نے دھرنا دینے والوں کے مطالبات مان لئے ہیں، لیکن پھر بھی دھرنا دینے والے نہیں ہٹ رہے ، اسی لئے تو حکومت نے پاک فوج کی طرف دیکھا۔ پاک فوج کی مداخلت سے پاکستانی قوم کو ایک امید نظر آ رہی ہے کہ شاید پاک فوج مذکورہ معاملے کو حل کر سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پاک فوج کتنی دیر میں اور کس حد تک اس معاملے پر قابو پانے میں کامیاب ہوتی ہے ، یہ بات بھی وقت ہی بتائے گا،فی الحال دوستو! اجازت دیں،ملتے ہیں آپ سے ایک بریک کے بعد، اللہ نگہبان، رب راکھا ۔

مزید :

کالم -