عوامی طاقت کے جوابی مظاہرے

عوامی طاقت کے جوابی مظاہرے
عوامی طاقت کے جوابی مظاہرے
کیپشن: 1

  

ملکی سیاست کا درجہ¿ حرارت کم ہونے میں نہیں آرہا۔ 14اگست کو لاہور سے شروع ہونے والے ”انقلاب“ اور”آزادی“ مارچ نے اسلام آباد میں دھرنوں کی شکل اختیار کرلی ،لیکن دونوں دھرنوں کے شرکاءکی تعداد ان کے قائدین کے دعووں کا عشرِ عشیر بھی نہیں تھی۔ اس دوران ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی غیر پارلیمانی اور غیر اخلاقی گفتگو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ”مختلف “ باب تھی۔ حیرت ہے، دونوں قائدین اپنے کارکنوں کی کیسی تربیت کر رہے ہیں؟تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک نے اب لاہور اور کراچی سمیت دیگر شہروں میں بھی ”دھرنے“ شروع کر دیئے ہیں جو صرف رات کے وقت دیئے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خاں اپنے دھرنوں سے خطاب میں جو زبان استعمال کر رہے ہیں، وہ مسلم لیگ(ن) کے ووٹروں اور سپورٹروںمیں رنج اور غصے کا باعث بن رہی تھی۔ ان کا اصرار تھا کہ مسلم لیگ (ن) بھی اپنی عوامی طاقت کے مظاہروں کا اہتمام کر ے تاکہ وہ اپنے قائد محمد نوازشریف سے اظہارِ وفاداری کے لئے باہر نکلیں ، چنانچہ پارٹی قائدین نے نون لیگی ورکروں کو ریلیاں نکالنے کی اجازت دے دی۔

سب سے پہلے فیصل آباد میں رانا ثناءاللہ اور عابد شیر علی خان کی زیرقیادت شہر کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی نکالی ،جس میں سینکڑوں گاڑیاں ، ہزاروں موٹر سائیکلیں اور لوگوں کا جمِ غفیر تھا۔ ریلی میں ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شریک تھے ،جبکہ خواتین اور بچوں کی خاصی بڑی تعداد بھی ریلی میں شریک رہی۔ 25اگست کو لاہور میں مزنگ چونگی سے چیئرنگ کراس تک ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کی قیادت حمزہ شہباز نے کی۔ مسلم لیگ (ن) کی اس عظیم الشان ریلی میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوان بچے، بچیاں، خواتین، مرد اور بزرگ افراد شریک تھے۔ریلی کا وقت شام 3بجے تھا، لیکن نمازِ ظہر کے بعد ہی پورے شہر سے ریلیاں نکلنا شروع ہوگئیں۔ ہر علاقے کا ایم این اے اور ایم پی اے اپنے ورکروں اور اہلِ علاقہ کے ساتھ ریلی میں آرہا تھا۔ پورے شہر میں میلے کا سماں تھا۔ شہر کی اکثر سڑکوں اور شاہراہوں پر ٹریفک جام ہوگیا تھا۔ لوگ اپنی گاڑیوں میں اپنی فیملیوں کے ساتھ جوق در جوق ریلی میں شرکت کے لئے آرہے تھے۔

مَیں اور میرا بھائی کاشف بھی ریلی دیکھنے کے لئے گھر سے نکلے ۔ واپڈا ٹاو¿ن سے چیئرنگ کراس تک پہنچتے پہنچتے ہمیں 3گھنٹے سے زائد لگے۔ ریلی میں پہنچے تو کارکنوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا۔ چیئرنگ کراس کے وسیع و عریض چوک میں تاحد نظر سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ چیئرنگ کراس سے قرطبہ چوک تک لوگوں کا جمِ غفیر تھا۔ مسلم لیگی کارکنوں نے سبز ہلالی پرچم، مسلم لیگ(ن) کے پرچم اور نوازشریف، شہباز شریف کے پوسٹر اُٹھا رکھے تھے.... ”ہمارے سب کے دِلوں کی دھڑکن نوازشریف“ کے نغمے کی تال پر جذباتی اور جوشیلے نوجوان رقص کرتے نظر آرہے تھے۔ حمزہ شہباز نے اپنے خطاب میں کہا کہ کوئی مائی کا لعل وزیراعظم محمد نوازشریف سے استعفا نہیں مانگ سکتا۔ عمران خان ضدی بچے جیسی ہٹ دھرمی چھوڑدے اور پارلیمنٹ میں حکومت سے بات کرے۔ حمزہ شہباز نے مزید کہا کہ ہم عمران خان کی اخلاق سے گری ہوئی گفتگو اور جھوٹے الزامات کا جواب ملک کو قائد و اقبال کا پاکستان بنا کر دیں گے۔ عمران خان کی اس بات کے جواب میں کہ میاں صاحب دل کے مریض ہیں، حمزہ نے کہا کہ نوازشریف کے سینے میں شیر کا دِل ہے۔ حمزہ شہباز کی تقریر بلاشبہ مسلم لیگی ورکرزاور ووٹرز کے جذبات و احساسات کی ترجمان تھی۔

راولپنڈی ، گوجرانوالہ، سرگودھا اور ساہیوال سمیت پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی استحکام ِ پاکستان ریلیاں نکالی گئیں۔ جن میں ہزاروں کارکنوں نے شرکت کی۔ اِن ریلیوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے جو مینڈیٹ 2013ءکے عام انتخابات میں حاصل کیا تھا وہ اب تک قائم ہے۔ لوگوں نے کم بجلی کے بھاری بھر کم بلوں ، لوڈشیڈنگ اور دیگر مسائل کے باوجود بھی مسلم لیگ (ن) کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ لوگوں کا اعتماد ابھی تک محمد نواز شریف پر قائم ہے۔ اب تک ہونے والی تمام ریلیوں میں مسلم لیگ (ن)کارکنوں کے ساتھ ساتھ عام عوام کا جوش و لولہ بھی دیدنی تھا۔ طاقت کا مظاہرہ ہر جماعت کا جمہوری حق ہے۔ اگر پی ٹی آئی اور پی اے ٹی والے دھرنوں کی سیاست سے اپنی سٹریٹ پاور شو کر رہے ہیں تو مسلم لیگ (ن ) کے لئے بھی ضروری تھا کہ اپنی سٹریٹ پاور کا مظاہرہ کرے، جو بلاشبہ بڑا بھرپور تھا۔ اگر مسلم لیگ (ن) ایسا نہ کرتی تو لیگی کارکن مایوسی کا شکار ہوتے۔ ان ریلیوں سے ان میں نیا جوش و لولہ پیدا ہوا ہے۔ یہاں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ لاہور کی ریلی جو بہت ہی بڑے جلسے میں تبدیلی ہوگئی تھی©‘ سے حمزہ شہباز نے خطاب کیا۔ اگر نوازشریف اور شہباز شریف کا خطاب ہوتا تو جلسہ یا ریلی کتنی بڑی ہوتی؟ یقینا پورا لاہور اُمڈ آتا۔

مزید :

کالم -