آزادی کی خوشبو اور انقلاب کی بشارت

آزادی کی خوشبو اور انقلاب کی بشارت
آزادی کی خوشبو اور انقلاب کی بشارت
کیپشن: 1

  

ماضی سے سبق نہ سیکھنے والے سیاستدان عموماً عجلت میں فیصلے کرتے ہیں۔ ایسے فیصلوں کے نتائج ریاست کو برسوں تک بھگتنا پڑتے ہیں۔ اناﺅں کے خول ان کے لباس ہیں۔دہائیوں سے سیاست دان کہلانے والے سیاسی بحران کا حل نہ نکال سکے۔ رات کے پچھلے پہر قبلہ اور کپتان آرمی چیف سے ملے۔واپسی پر کارکنان کو نوید انقلاب سنائی۔ رات بھر یہی تاثر رہا کہ حکومت نے بالآخر مجبور ہو کر فوج سے رجوع کیا ہے کہ خدارا اس مسئلے کا حل نکالئے۔ پھر جمعہ کو پارلیمنٹ کا اجلاس ہوتا ہے۔ وزیر اعظم ایک ہفتے میں مسلسل چوتھی بار قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوتے ہیں ۔وزیر داخلہ مائیک سنبھالتے ہیں۔ فرمایا، ہمیں کسی فاتحہ خوانی کے سلسلے میں لاہور جانا پڑا اور پیچھے سے دھرنے والوں نے جھوٹی خبریں پھیلا دیں۔

اسی موقع پر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی تقریر وزیر اعظم کے لیے آکسیجن ثابت ہوئی۔شاہ صاحب نے جذباتی لیکن انتہائی مدلل انداز میں پارلیمنٹ اور آئین کے تحفظ کی بات کی۔ معاملہ دلچسپ تب ہوا جب انہوں نے آئی ایس پی آر سے مدعے کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔ خورشید شاہ انتہائی زیرک سیاستدان واقع ہوئے ہیں۔ حالیہ سیاسی منظر نامے میں وہ حکومت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیئے ہیں۔ آرمی چیف سے ملاقاتیں یقینا اپوزیشن کے لیے کنفیوڑن کا باعث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شاہ صاحب نے آئی ایس پی آر سے اس معاملے کی وضاحت مانگی۔ آخر میں وزیر اعظم نے بھی مختصر گفتگو کی۔ کہا کہ چوہدری نثار بالکل ٹھیک فرما رہے ہیں۔ فوج ہرگز سیاسی معاملات میں مداخلت کی خواہاں نہیں تھی اور نہ ہی ہم ایسا چاہتے تھے۔ یہ سب تو دھرنے والوں کی خواہش پر ہوا۔

ایوان کی کارروائی یکم ستمبر تک ملتوی ہونے کے اعلان کے فورا بعد قبلہ رونما ہو ئے۔ فرمایا وزیر داخلہ اور وزیر اعظم جھوٹ بول رہے ہیں، وفاقی حکومت نے فوج سے رجوع کیا اور ان سے درخواست کی کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرے۔ انہوں نے جھوٹ بولنے پر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے مواخذے کا بھی مطالبہ کیا۔ یہ بھی کہا کہ اگر اس معاملے میں وہ خود جھوٹے ہیں تو فوج آئے اور انہیں گرفتار کر لے کیونکہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں آج تک ایک بھی جھوٹ نہیں بولا۔اپنی سچائی کی وکالت میں قبلہ نے کلمہ طیبہ پڑھا اور قسم کھا کر کہا کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے۔ فرمایا آرمی چیف ان سے تین گھنٹے اور بیس منٹ تک ملے۔ کل شب تک ملاقات کا دورانیہ البتہ پچاس منٹ ہی تھا۔ خیر،اللہ بہتر جانتا ہے۔

 تشویش بڑھتی چلی گئی، تو خان صاحب اجلا سفید لباس پہنے کالے چشموں میں دوپہر ساڑھے تین بجے کنٹینر پر آئے۔ کہا ، سو فیصد جھوٹ ہے کہ تحریک انصاف نے فوج کو ثالثی کے لیے کہا۔ جنرل راحیل کے آفس سے فون آیا کہ حکومت کہتی ہے کہ آپ بات چیت کریں۔ آرمی چیف سے کہا کہ ہمیں آپ پر اعتماد ہے لیکن نواز شریف پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔جنرل راحیل نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم استعفی دینے کو تیار نہیں ہیں۔ سر شام ڈی جی آئی سی پی آر جنرل باجوہ کا ٹویٹ منظر عام پر آیا۔اب اسے ثالثی کہیے یا سہولت کار۔ثابت ہوا کہ فوج سے رجوع کیا گیا۔

حکمرانوں کا کیا ذکر کیجیے۔ یہاں چھوٹے میاں انگلی لہراتے ون مین شو کے داعی واقعہ ہوئے ہیں۔اگر سڑکوں ، پلوں ، انڈر پاسز ، میٹرو یا دانش سکول کی بات ہو تو سالوں کاکام مہینوں میں ، مہینوں کا ہفتوں میں اور ہفتوں کا دنوں میں کرنے کا دعوی تو شاید درست ہو تاہم انہی خادم اعلی سے ایک ادنی سا سوال ہے۔جب آپ جناتی انداز میں آزادی چوک کی تعمیر کروا سکتے ہیں تو چودہ بے گناہ شہریوں کی شہادت کے خلاف ایک ایف آئی آر کے اندراج میں بہتر دن کیوں لگے؟ رہی بات بڑے میاں صاحب کی تو سرکار! جب یہی خان جی صرف چار حلقوں کا آڈٹ مانگ رہے تھے تو آپ خاموش تھے۔ اب جب وہ آپ کی گردن تک آن پہنچے ہیں تو جناب ماسوائے استعفے کے باقی تمام مطالبات کو منظور کیے بیٹھے ہیں۔

 ایک بات طے ہے کہ منظر نامہ اب انتہائی دلچسپ اور کہانی اپنے انجام کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد دو ٹوک الفاظ میں قومی حکومت اور فوجی مداخلت کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ رہی بات پیپلز پارٹی کی تو فوجی ثالثی کے معاملے پر انہیں بھی اعتماد میں نہیں لیا گیا جس سے شاہ صاحب یقینا نالاں ہوں گے۔ایسے میں دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی آئندہ کا کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔میں عمران خان اور قبلہ قادری کا تا دم مرگ مرید ہو جاتا اگر دونوں کرشماتی رہنما جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب آرمی چیف سے ملاقات نہ کرتے، اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہتے،انکار کرنے کے بعد عوام کو بتاتے کہ حکومت فوج کو بیچ میں لانا چاہ رہی تھی مگر ہم نے ایسا نہ ہونے دیا کیونکہ یہ سیاست کی جنگ ہے ۔ ملکی تاریخ میں ان دونوں کا نام سنہرے حروف میں لکھا جاتا۔خاکسار اسی انکار کو انقلاب سے تعبیر کرتا۔

مزید :

کالم -