غریبوں کی سیاست

غریبوں کی سیاست
غریبوں کی سیاست
کیپشن: 1

  

وطن عزیز میں ایک مرتبہ پھر غریبوں کی سیاست کا غلغلہ ہے۔اگرچہ یہ کام صرف انتخابات کے دنوں میں ہوتا ہے،تاہم اب یہ انتخابی موسم کے علاوہ دھرنوں کے موسم میں بھی ہونے لگا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے تو باقاعدہ ایک تھیسز کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 10کروڑ افراد غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے اسلام آباد میں جو دھرنا دے رکھا ہے، اس میں بھی زیادہ تر غریب ہی شامل ہیں۔قادری صاحب نے بڑی مہارت سے ایک ایسی فضا تیار کی ہے، جس میں یہ بات بالکل سچ لگتی ہے کہ پاکستان میں غریبوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔یہ اور بات ہے کہ پاکستان میں آنے والی کوئی حکومت بھی اس بات سے انکار نہیں کرتی کہ ملک میں غربت موجود ہے، تاہم انتخابات کے دنوں میں غریبوں کے لئے دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کا نعرہ لگانے والے بھی حکومت میں آنے کے بعد غریبوں کو بھول جاتے ہیں۔ان کی پالیسیوں میں غریب کہیں نچلے درجے پر چلے جاتے ہیں اور ان کی حالت بہتر ہونے کی بجائے مزید دگرگوں ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں غریبوں کی تعداد امیروں سے کہیں زیادہ ہے، اسے سب جانتے ہیں اور مانتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ملک کی کوئی سیاسی جماعت بھی اپنے منشور میں غریبوں کے لئے انقلابی پالیسیاں ڈالنا نہیں بھولتی، یہ اور بات ہے کہ ان پر عمل کی نوبت کم ہی آتی ہے۔اس بار یہ معاملہ کچھ زیادہ ہی شدت اختیار کر گیا ہے۔ انقلاب کی بنیاد ہی اسے قرار دیا جا رہا ہے۔غریبوں کو کفن بھی پہنا دیئے گئے ہیں اور ان کے لئے قبریں بھی کھدوالی گئی ہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری نے منٹو سے بھی زیادہ سخت جملہ یہ کہا ہے کہ اس ملک میں غریبوں کے لئے صرف دو ہی راستے بچے ہیں، کفن اور دفن، تیسری کوئی صورت نہیں۔جب ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاست میں جان ڈالنے کی حکمت عملی میں غریبوں کو شامل کیا تھا تو اس وقت اتنی غربت بھی نہیں تھی۔سادہ طرز زندگی کی وجہ سے لوگوں کا گزارا ہو جاتا تھا، مگر اس کے باوجود اس نعرے نے پیپلزپارٹی کو دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت کے ساتویں آسمان تک پہنچا دیا۔پارٹی منشور میں روٹی، کپڑا اور مکان کے خوبصورت اور پرکشش نعرے کو شامل کرکے قائد عوام کا خطاب پانے والے لیڈر نے سیاست میں تہلکہ مچا دیا۔ پہلی بار عوام کو لگاکہ کوئی نجات دہندہ انہیں ملا ہے۔باقی سب منہ دیکھتے ہی رہ گئے۔چونکہ پہلا عشق کبھی نہیں بھولتا، اس لئے غریب عوام کو اس حقیقت کے باوجود کہ بھٹو نے اپنے منشور پر عمل نہیں کیا، روٹی ملی اور نہ کپڑا، مکان کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔عوام بھٹو کے شیدائی بن گئے اور آج بھی دو نسلوں کا فرق آنے کے باوجود بھٹو کی مقبولیت پیپلزپارٹی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ خود مسلم لیگ (ن) بھی خود کو غریبوں کی نمائندہ جماعت کہتی ہے، اس کے منصوبے بھی غریبوں کے نام سے بنائے جاتے ہیں۔میٹرو بس کو بھی غریبوں کی سواری کہا جاتا ہے، سستے گھروں کی آشیانہ سکیم ہو یا دانش سکول کے منصوبے ان کے بارے میں بھی دعویٰ یہی ہے کہ وہ غریبوں کے لئے بنائے گئے ہیں۔مفت زمینیں دینے، مالی امداد کرنے، بے روزگاروں کو قرضوں کی فراہمی جیسے منصوبے اس حوالے سے شروع کئے گئے مگر اس کے باوجود یہ تاثر نجانے کیوں قائم نہیں ہو سکا کہ مسلم لیگ(ن) غریبوں کی جماعت ہے۔میرے نزدیک یہ ایک بڑی انہونی ہے، جس کا مسلم لیگ(ن) کی موجودہ حکومت کو سامنا ہے اور یہی وہ خلاءہے جس کا فائدہ اٹھا کر پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک آج اسلام آباد میں قبضہ جمائے بیٹھی ہیں۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک منتخب جمہوری حکومت کے مقابلے میں صرف 14ماہ بعد اس قسم کی تحریکوں کا کھڑے ہو جاناآخر کیونکر ممکن ہوا ہے؟

مَیں اس حقیقت کو نہیں مانتا کہ تحریک انصاف دھاندلی اور عوامی تحریک سانحہ ءماڈل ٹاﺅن کی وجہ سے لوگوں کو اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔بات اسلام آباد میں دھرنا دینے والے چند ہزار افراد کی نہیں، اصل بات یہ ہے کہ پورے ملک میں اس حوالے سے جو بے اطمینانی موجود ہے، اس کے اسباب کیا ہیں؟ کیوں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ موجودہ نظام حکومت میں غریب عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔ یہ خاص طبقے کا نظام ہے اور اسی کا تحفظ کرتا ہے۔مَیں سمجھتا ہوں گڈگورننس کے ذریعے اس تاثر کو آسانی سے زائل کیا جا سکتا تھا، ڈاکٹر طاہرالقادری ہوں یا عمران خان وہ اس نکتے پر سیاست کررہے ہیں کہ موجودہ نظام حکومت میں غریبوں کو تھانوں میں انصاف ملتا ہے اور نہ دفتری نظام انہیں بنیادی حقوق دیتا ہے۔ تعلیم، علاج معالجے اور روزگار کی سہولتیں مفقود ہیں، سب سے زیادہ تنقید حکومت کے میگاپراجیکٹس پر کی جاتی ہے،جن پر اربوں روپے خرچ کئے جا رہے ہیں،لیکن دوسری طرف بنیادی ضرورتوں کا فقدان ہے۔مَیں سمجھتا ہوں یہ وہ موقع ہے کہ جب حکومت کو اپنی پالیسیوں اور ترجیحات کے حوالے سے یوٹرن لینا چاہیے۔ایک بہتر نظام حکومت پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے اور ارتکازِ اختیارات کی پالیسی کو تبدیل کرکے انہیں نچلی سطح پر منتقل کر دینا چاہیے۔حکومت کے لئے اس موقع کیا ہی اچھا ہو کہ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کر دے۔اس سے نئے انتخابات کے حوالے سے جاری دباﺅ میں کمی آئے گی۔

غربت کی سیاست بہت خطرناک ہوتی ہے، کیونکہ ایک ایسے ملک میں جہاں غریبوں کی تعداد کل آبادی کا نصف ہو، ایک بڑی طاقت بن جاتی ہے اور اگر انہیں بیدار کرکے اپنے پیچھے لگا لیا جائے تو اس سے زیادہ انقلابی بات اور کوئی ہو نہیں سکتی۔اس وقت یہی کچھ ہو رہا ہے۔ غریبوں کی سیاست کا ڈنکا پورے زور سے بج رہا ہے۔جو ہزاروں غریب اسلام آباد میں بیٹھے ہیں، وہ لاکھوں کروڑوں غریبوں کا اشارہ بن گئے ہیں۔ان کے جنون کو دیکھتے ہوئے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ تبدیلی یا انقلاب کے بغیر وہاں سے اٹھیں گے۔سوال یہ ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔مجھے تو کہیں سے بھی نہیں لگتا کہ حکومت اس حوالے سے کوئی جوابی کام کررہی ہے۔اس کا سارا تحرک تو سیاسی معاملات میں اُلجھا نظر آتا ہے۔کم از کم اس عرصے میں معاشی ریلیف دینے کے دوچار بڑے فیصلے سامنے آنے چاہئیں تھے۔بجلی کی قیمتوں میں اگر کمی کر دی جاتی، کوئی ایڈہاک ریلیف دیا جاتا، علاج معالجے کے لئے فری سہولتیں فراہم کرنے کی سکیمیں متعارف کرا دی جاتیں، تھانہ کلچر کی اصلاح کے لئے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا جاتا، مختلف شعبوں میں غریبوں کے لئے سبسڈی بحال کر دی جاتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت غریبوں کو مفت انصاف فراہم کرنے کی سکیم کا اعلان کر دیتی تو کم از کم غریبوں کے نام پر کی جانے والی سیاست میں اس کا پلڑا خالی نہ رہتا۔اس وقت تو یوں لگ رہا ہے جیسے ایک طرف غریبوں کے ہمدرد اور خیر خواہ ہیں اور دوسری طرف غریبوں کے دشمن ہیں، حالانکہ ایسا ہر گز نہیں، موجودہ حکومت بھی اپنے انداز سے غریبوں کے لئے کام کررہی ہے، مگر اس کا تاثر قائم نہیں ہو سکا۔

مَیں اس ساری صورت حال کو ایک اور زاویے سے دیکھ رہا ہوں۔میری خوش گمانی مجھے کہتی ہے کہ اب غریبوں کے حالات بدل کر رہیں گے۔موجودہ حکومت سنے یا آنے والی کوئی حکومت، غریبوں کی آواز اب سننی پڑے گی۔ان کے حالات پر توجہ دینا ہوگی اور پالیسیوں کا مرکز و محور غریبوں کو بنانا پڑے گا۔دوسری طرف ماضی کے تجربات کو دیکھتے ہوئے مجھے خدشات گھیر لیتے ہیں کہ اس بار بھی غریبوں کے ساتھ ہاتھ ہو جائے گا۔ان کے نام پر سیاست تو کی جائے گی، مگر جب گرد چھٹی تو پتہ چلے گا کہ ان کے لئے تو کچھ بھی نہیں بچا۔اللہ کرے ایسا نہ ہو، اس ملک کے غریبوں کی سنی جائے، کیونکہ جب تک انہیں معاشی بحران اور ذلت سے نجات نہیں دلائی جاتی، اس وقت تک ہمارا سیاسی نظام مستحکم ہوگا نہ معاشرے میں اطمینان اور امن رہے گا....گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں۔

مزید :

کالم -