سُکھ کا سانس

سُکھ کا سانس
سُکھ کا سانس
کیپشن: 1

  

 کم از کم مجھے سکھ کا سانس آ گیا ہے۔ دھرنوں اور مارچوں سے پیدا ہونے والا بحران ختم ہوتا ہے یا نہیں، مجھے اس کی فکر تو ہے، لیکن اتنی زیادہ نہیں۔ میرے اطمینان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان فوج کے آ جانے سے نقصان دہ تصادم کا خطرہ ٹل گیا ہے۔مَیں اپنے سیل فون پر انٹرنیٹ کی سہولت ہونے کے باوجود اسے استعمال نہیں کرتا، اس مقصد کے لئے اپنے گھر کے ڈیسک ٹاپ کے ذریعے ہی دنیا کی خبر رکھتا ہوں۔ مجھے ایک کام سے گھر سے نکلنا پڑا اور راستے میں خیال آیا کہ تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے جو حتمی اور آخری ڈیڈ لائنز دے رکھی تھیں، وہ ختم ہو چکی ہیں۔ اللہ خیر کرے کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے۔

یہ سطور لکھتے وقت عمران خان اور علامہ طاہر القادری آرمی چیف سے الگ الگ طویل ملاقاتیں کرنے کے بعد اپنے اپنے دھرنوں میں واپس آ چکے ہیں۔ مَیں ذاتی طور پر تحریک انصاف، عوامی تحریک اور مسلم لیگ(ن) میں سے کسی کا حامی نہیں ہوں اور میرا سیاسی موقف ان سے کچھ مختلف ہے اور ابھی موقع ملا تو شاید اس کا اظہار بھی کر دوں، لیکن میری تشویش کا سبب خالصتاً انسانی تھا اور ہے۔جب یہ دھرنے شروع ہوئے تو مَیں سوچتا تھا کہ لیڈروں نے تواپنا کچھ نہ کچھ بندوبست کر رکھا ہے۔ اتنے ہزاروں لوگ، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، کیسے کھلے میدان میں گزارہ کریں گے۔ بدقسمتی سے جب بھی لائیو کوریج دیکھی تو کبھی لوگوں کو کھاتے پیتے نہیں دیکھا۔ الٹی ایسی خبریں آئیں کہ کھانے پینے کے سامان کی ترسیل میں رکاوٹ ہو رہی ہے۔ اب دل لرز رہا تھا کہ جس طرح کی جذباتی فضاءپیدا ہو گئی ہے اس میں کس کی غلطی ہے، خون خرابہ نہ ہو جائے۔ اب بحران حل ہوتا ہے یا نہیں، لیکن لگتا ہے ایسا خطرہ ٹل گیا ہے۔

ماڈل ٹاﺅن لاہور میں عوامی تحریک کے ساتھ پولیس کے ہاتھوں ایک سانحہ ہوچکا ہے ،وہ مظلوم پارٹی ہے اور اس کا ردعمل قابل فہم ہے۔ عقل تسلیم نہیں کرتی کہ پولیس سیدھی گولیاں مارنے کا اتنا بڑا قدم خود اٹھا سکتی ہے، جس شہباز شریف کو مَیں جانتا ہوں، دل نہیں مانتا کہ وہ ایسا ظالمانہ حکم دے سکتے ہیں۔ تفتیش ہو گی اور مقدمہ چلے گا تو پتہ چلے گا کہ پولیس نے یہ کارروائی کس کے کہنے پر کی، لیکن بظاہر لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ کے نیچے جن لوگوں کو منہاج القرآن کو کنٹرول کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، یہ سیاسی حکم ان کی طرف سے پولیس کو گیا ہے اور پولیس نے اس کی تعمیل کی ہے۔ کرپشن کا نام لیں گے، تو سب پیٹ ننگے ہو جائیں گے، اس لئے شرافت اس میں ہے کہ اس کا معاملہ اُٹھا کر ایک طرف رکھ دیا جائے۔ ایک چیز ہوتی ہے سیاسی تدبر، حکمت اور روا داری اس کی پیپلزپارٹی میں جتنی فراوانی ہے،مسلم لیگ(ن) میں اس کا اتنا ہی فقدان ہے۔ پُر تدبر روا داری کا مسلم لیگ(ن) کے پاس سے گزر ہی نہیں ہوتا اور اگر گزر ہوتا ہے تو اس وقت جب اس کا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ بدلے، انتقام اور کینہ پروری سے محلے کی چودھراہٹ شاید چل جائے، حکومت نہیں چلتی۔

مسلم لیگ(ن) نے فضاءمیں طیارے کا رُخ موڑنے کا جو پہلا تجربہ کیا تھا، وہ اسے بہت مہنگا پڑا تھا، اس سے سبق سیکھنے کی بجائے ڈاکٹر طاہر القادری کے طیارے کا رُخ موڑنے کی دوسری غلطی کی گئی اور نئی مصیبت مول لی۔ اب علامہ صاحب سانحہ ¿ ماڈل ٹاﺅن میں ہونے والے ظلم کے خلاف انصاف مانگتے ہیں، تو حق بجانب ہیں۔ نظام کو بدل کر انقلاب لانے کی جو باتیں وہ کرتے ہیں، ان سے اختلاف کرنا بہت مشکل ہے۔ جماعت اسلامی بھی طویل عرصے سے اِسی قسم کی باتیں کر رہی ہے۔ علامہ صاحب کے مار دھاڑ سے بھرپور شاہکار کو پذیرائی تو مل رہی ہے، لیکن اس سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے لوگ پریشان بھی ہو رہے ہیں کہ اگر لوٹ مار کا پورا نظام ہی بدل گیا تو انہیں کہاں امان ملے گی۔

عمران خان کا بنیادی مطالبہ تو انتخابی دھاندلی کے خلاف ریلیف تھا، جسے مسلم لیگ(ن) نظر انداز کرتی رہی، شنوائی نہ ہونے کے سبب یہ مطالبہ انتخابی نتائج کو مسترد کرنے سے بڑھتا ہوا نواز شریف کے استعفے تک جا پہنچا ہے۔ مسلم لیگ(ن) والے پریشان ہیں کہ انتخابی دھاندلی تو پاکستانی سیاست کا ایک لازمی حصہ ہے، اس کے لئے عمران خان صرف مسلم لیگ(ن) کی پکڑ کیوں کر رہا ہے۔

مجھے ڈر ہے بات لمبی نہ ہو جائے، اس لئے ذرا اختصار سے کام لینے کی کوشش کروں گا۔ یہاں امریکہ میں میڈیکل ایمرجنسی ہو جائے تو911 پر کال کی جاتی ہے۔ ایمبولینس فوراً آ کر مریض کو ہسپتال پہنچا دیتی ہے۔ ہسپتال والے مریض کی حیثیت نہیں دیکھتے کہ یہ اخراجات برداشت کر سکتا ہے یا اس کے پاس کوئی انشورنس ہے یا نہیں ہے۔ ان کی اولین ترجیح مریض کو بچانے کی ہوتی ہے۔ مریض کے بچ جانے کے بعد انشورنس کا سوال پیدا ہوتا ہے اور اگر انشورنس نہ بھی ہو تو پھر بھی مکمل علاج کیا جاتا ہے۔ مریض صاحب ِ حیثیت نہ ہو تو اس کے اخراجات معاف بھی کر دیئے جاتے ہیں۔ اب جاوید ہاشمی جیسے لوگوں کی جمہوریت پسندی کا تقاضا یہ ہے کہ911کی کال پر جب ایمبولینس آئے تو وہ مریض کی میڈیکل اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت اور میڈیکل انشورنس کے کوائف کے بارے میں پہلے تسلی کرے۔ اگر ہسپتال لے ہی جائیں تو علاج کرنے سے پہلے معلوم کر لیا جائے کہ وہ اخراجات کا بل ادا کر سکے گا یا نہیں؟

جاوید ہاشمی سکول آف تھاٹ کے جمہوری اصولوں کی خاطر تصادم اور خون خرابے کا انتظار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آئین ہی حرف آخر ہے، تو کیا فوج کے فرائض مَیں داخلی سلامتی کا تحفظ شامل نہیں ہے اور اگر شامل ہے تو پھر اگر دھرنوں سے ریاست بند گلی میں پہنچ جائے، تو فوج کو ہی سلامتی کو لاحق خطرے سے بچانا ہو گا۔

اگر آپ نے قانونی اصولوں کی پاسداری ہی کرنی ہے تو آئین کی بجائے پارلیمنٹ سے رجوع کیا جانا چاہئے۔ اگر کسی معاملے کا آئین میں تعین نہیں ہوا یا آئین اس کے بارے میں خاموش ہے تو کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔ پارلیمنٹ موجود ہے، جو ریاست کا بلند ترین ادارہ ہے، آئین، انتظامیہ، عدلیہ اور دیگر ریاستی ادارے اس کے تابع ہیں اور اس کی تصدیق کے محتاج ہیں۔

مزید :

کالم -