ایک بار پھرسیاست اور سیاست دانوں سے بے زاری!

ایک بار پھرسیاست اور سیاست دانوں سے بے زاری!
ایک بار پھرسیاست اور سیاست دانوں سے بے زاری!
کیپشن: 1

  

موسم میں تبدیلی کے آثار ضرور ہیں، لیکن اس سے پہلے یہ عجیب ہو رہا ہے۔اس کا بہتر اندازہ سیر صبح سے ہوتا ہے، کسی روز آسمان پر بادل دکھائی دیتے اور خوشگوار سی ہوا چلتی ہے، لیکن پھر اگلے ہی روز حبس کی کیفیت ہوتی ہے۔ دن گھٹ اور رات بڑی ہو رہی ہے، زمین کی گردش کے باعث سورج کا رخ تبدیل ہوا اور درجہ حرارت میں کمی بھی ہوئی، لیکن تاحال لوگوں کے چہرے نہیں کھل سکے کہ بنیادی طور پر یہ دن حبس آلود ہیں۔ موسم کے انہی تیوروں نے عوامی ذہن پر بھی اثر ڈالا اور وہ پژمردہ سے ہیں، لیکن یہ پرمژدگی یاسیت سے عبارت ہے کہ عام لوگ اب حالات کو دیکھتے ہوئے مایوس ہوتے چلے جا رہے ہیں۔اس کے اثرات ماحول پر بھی مرتب ہوئے اور گزشتہ روز سیر صبح والی محفل میں یہ کہا گیا کہ سیاست پر دو حرف بھیج دیں اور گھر بیٹھ تماشہ دیکھیں۔

یہ دن تو گرما گرم بحث کا تھا جس میں حکومتی رویے کے علاوہ عمران خان اور طاہرالقادری کی تقریریں بھی زیر بحث آنا تھیں اور پھر بڑی بات تو آئی ایس پی آر کی پریس ریلیز، وزیراعظم کی قومی اسمبلی میں تقریر اور سیاسی جماعتوں کے بیانات بھی تھے جیسا کہ ہر روز ہوتا ہے، لیکن گزشتہ روز محفل گرم نہ ہو سکی۔منور بیگ صاحب کی خواہش تھی کہ سیاست پر گفتگو ہی بند کر دی جائے، کیونکہ سیاسی محاذ پر کوئی نئی بات نہیں تو اپنی محفل میں تنازعہ کو اس کی اصل روح کے مطابق پر کھا ہی نہیں جاتا اور یہاں بھی دو گروپ بن گئے ایک موجودہ حکومت کے خلاف اور دوسرے کا تعلق مسلم لیگ(ن) سے ہے اور دونوں ہی بحث میں ہار ماننے کو تیار نہیں ہوتے لیکن گزشتہ روز صورت حال مختلف تھی کیونکہ اسلام آباد میں ڈرامائی تبدیلی واقع ہوئی، عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری کی الگ الگ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف سے ملاقات ہوئی اور دونوں نے اپنی جماعت کے رہنماﺅں سے مشاورت کی اور پھر سے مذاکرات کا فیصلہ ہو گیا، لیکن بیل پھر بھی منڈھے نہ چڑھی اور مذاکرات کا یہ دور بھی نہ صرف ناکام ہوا، بلکہ الٹا محاذ آرائی نے ایک نئی شکل اختیار کر لی۔

قریشی صاحب حالات حاضرہ سے متاثر اور ہماری طرح پریشان رہتے ہیں کہ مہنگائی، بجلی کے نرخ، لوڈشیڈنگ اور دوسرے حکومتی اقدامات عام آدمی کو متاثر کررہے ہیں۔منور بیگ مرزا کے مطابق اگر بات آرمی چیف سے ملاقات تک آ گئی تھی تو پھر عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنی عزت بچانے کے لئے اپنے مطلب کی تقریر نہیں کرنا چاہیے تھی اور نہ ہی قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی جذباتی تقریر کے جواب میں وزیراعظم کو آرمی چیف کے حوالے سے کسی وضاحت کی ضرورت تھی، اسی وضاحت کی وجہ سے فوج نے اپنا پہلو بچایا اور بڑی محفوظ پریس ریلیز جاری کی، جس میں لفظ ضامن اور ثالث کی بجائے سہولت کار استعمال کیا گیا، چنانچہ اس پر ردعمل کی کیا ضرورت تھی، وزیراعظم زیادہ محتاط بھی رہ سکتے تھے۔پھر بات کا رخ بدلا اور یہ کہا جانے لگا کہ یہ سیاست دان حضرات بحیثیت مجموعی حالات کا ادراک کیوں نہیں کرتے؟ تو جواب تھا کہ ان کے اپنے مفادات ہیں، بات یہاں ختم ہوئی کہ سبھی سیاسی رہنما حالات خراب کرنے کے ذمہ دار ہیں تو اب ان کو خود ہی سنبھالیں، کوئی دوسرا یہ سر درد کیوں لے۔گلزار بٹ نے کہا یہ جو لانگ مارچ کے لیڈر ہیں اور جنہوں نے چودہ دن سے بچوں کو یرغمال بنایا ہوا ہے، ان کو سوچنا چاہیے کہ ان کے اس عمل میں ان کی حمائت بھی کم ہو رہی ہے۔

قارئین! اس کے بعد جو گفتگو ہوئی اس کا بہت سا حصہ غیر متعلقہ اور کچھ غیر اخلاقی بھی ہے اس لئے اس پر بات نہ کی جائے تو بہتر ہے، یوں اتفاق رائے اس پر تھا کہ عوام مظلوم ہیں تو ان سب کے سبھی راہنمامشکوک ہیں اور ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ یہ کسی کا کھیل کھیل رہے ہیں ورنہ جو یقین دہانی سرکار کی طرف سے کرائی گئی اس پر صاد کیا جا سکتا ہے، کیونکہ پانچ مطالبات تومان بھی لئے گئے، پھر آخر استعفیٰ والے مطالبے پر اصرار کیوں؟

گلزار بٹ نے توجہ دلائی اور بتایا اسلام آباد کے دھرنے میں بچے اور نوجوان بھی بڑی تعداد میں ہیں، لیکن دونوں دھرنوں کے سربراہوں کی اولاد تو ٹھنڈے ملک میں بیٹھی ہے، یہ یہاں ایسے حالات پیدا کررہے ہیں کہ یہ بچے موت کو گلے لگائین، انہوں نے کہا عمران خان کے دونوں صاحبزادے لندن میں ماں کے پاس ہیں(وہ اب عمران کی بیوی نہیں ہے) جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری کے دونوں بیٹوں کے بارے میں یہ تو اطلاع ہے کہ وہ ملک میں نہیں، لیکن کہاں ہیں یہ نہیں بتایا جاتا، تو پھرکیوں نہ ان کو ”مِسنگ پرسنز“ کی فہرست میں شامل کر لیا جائے، تاکہ طاہر القادری صاحب کو حکومت پر ایک اور الزام لگانے کا موقع مل جائے۔

بہرحال حاصل گفتگو یہ تھا کہ قریباً سبھی حضرات نے ٹیلی ویژن پر ٹاک شو اور دھرنوں کی ٹیلی کاسٹ دیکھنے سے تو بہ کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ تو کرکٹ میچ اور ڈرامے دیکھنا شروع کر رہے ہیں، یہ بھی طے ہو گیا کہ صبح کی محفل میں شعرو شاعری، تاریخ اور ادب پر بات ہوا کرے گی اور یہ اعصاب شکن گفتگو بند کر دی جائے گی کہ میڈیا بڑھاوا دے رہا ہے اور یہ سیاسی رہنما کوئی مثبت کام کرنے پر آمادہ نہیں ہیں کہ یہ فیصلہ کچھ مشکل تو نہیں،قارئین! یقین جانئے یہ اس محفل ہی کے نہیں عام لوگوں کے خیالات ہیں اور قوم سیاست دانوں کے ساتھ بے زاری کا اظہار کررہی ہے۔

مزید :

کالم -