ماڈل ٹاﺅن میں مرنے والوں کے وارث کہاں ہیں؟

ماڈل ٹاﺅن میں مرنے والوں کے وارث کہاں ہیں؟
ماڈل ٹاﺅن میں مرنے والوں کے وارث کہاں ہیں؟
کیپشن: 1

  

مَیں نے ایک گزشتہ کالم میں سوال کیا تھا کہ ”کیا پاکستان پاگلوں کا ملک ہے“؟.... اگرچہ اب اس پاگل پن میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے، لیکن بعض معاملات میں بدستور وہی پاگل پن کارفرما ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن ہی کو لے لیجئے۔ یہ ایک افسوس ناک حادثہ تھا۔14افراد کی ہلاکت معمولی بات نہیں ، اس کی جس قدر مذمت کی جائے کم ہو گی۔ اس کی ایف آئی آر بھی درج ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں قانون اور انصاف کے تقاضے بھی پورے ہونا چاہئیں۔ ذمہ داروں کو کڑی سزائیں بھی ملنا چاہئیں، لیکن ہے کوئی جو اس بات پر غور کرے کہ یہ ایف آئی آر کون درج کرا سکتا ہے اور کس کی طرف سے درج ہونا چاہئے۔ مولوی ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا مطالبہ اور منہاج القرآن کی مدعیت سمجھ میں نہیں آتی۔ مولوی صاحب نہ تو مقتولین کے رشتہ دار ہیں نہ وارث۔ یہ ایف آئی آر تو مقتولین کے ورثاءاور ان کے رشتہ داروں کی طرف سے درج ہو سکتی ہے، وہی اس کے حق دار ہیں۔ مقتولین کے قصاص، دیت یا خون بہا کا حق بھی مقتولین کے ورثاءکو ہے۔

جس طرح سپریم کورٹ2013ءمیںاپنے فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ پاکستان کے انتخابات کے سلسلے میں مولوی صاحب مثاثرہ پارٹی نہیں ہیں، بلکہ غیر متعلقہ پارٹی ہیں۔ اِسی طرح ان مقتولین کے مقدمہ¿ قتل میں بھی مولوی صاحب نہ متاثرہ پارٹی ہیں، نہ اُن کے خون بہا یا قصاص کے حق دار ہیں۔ قتل کی ایف آئی آر یا تو حکومت کی طرف سے درج ہوتی ہے یا ورثاءکی طرف سے، لیکن مولوی صاحب اس مطالبے کو اپنے انقلاب کی بنیاد بنائے بیٹھے ہیں۔

مقتولین کے ورثاءاب تک سامنے نہیں آ رہے ہیں۔ میڈیا ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں قتل ہونے والوں کے ورثاءکو تلاش کر لیتا ہے، اُن کے مطالبے بھی سامنے آ جاتے ہیں، اُن کے بارے میں ہر چھوٹی بڑی بات میڈیا میں آ جاتی ہے، لیکن یہ چودہ مقتولین ہیں کہ جن کے ورثاءکی کسی کو تلاش نہیں ہے۔ میڈیا اجمل قصاب کے ورثاءتلاش کر لیتا ہے اور ان سے یہ بھی تسلیم کرا لیتا ہے کہ اجمل قصاب اُن کا بیٹا ہے، لیکن ان چودہ مقتولین کے ورثاءکہاں ہیں۔ انہیں مولوی صاحب کے ڈنڈا برداروں نے یرغمال بنا کر کہیں غائب تو نہیں کر دیا؟ اُن سے اپنے مقتولوں کی ایف آئی آر درج کرانے کا حق کیوں چھینا جا رہا ہے اور کس قانون کے تحت چھینا جا رہا ہے؟

 احمد رضا قصوری جو اپنے مرشد و مربی جنرل(ر) پرویز مشرف کے 22مئی کے مقتولین اور لال مسجد کے مقتولین اور اکبر بگٹی کے قتل کی ایف آئی آر سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کو بھٹو کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کے مماثل قرار دے رہے ہیں۔ دونوں واقعات میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ماڈل ٹاﺅن میں ایک پولیس ایکشن (غلط یا صحیح) کے نتیجے میں گولی چلی، جبکہ نواب محمد احمد خان کا قتل کسی پولیس ایکشن یا بلوے کا نتیجہ نہیں تھا۔ ایف ایس ایف نے نواب محمد احمد خان کی کار پر قتل عمد کے ارادے سے گولیاں چلائیں۔ جھوٹ یا سچ یہ بات دستاویزات سے ثابت ہوئی کہ بھٹو نے احمد رضا قصوری کے قتل کے احکامات جاری کئے تھے۔ اس کوشش میں احمد رضا قصوری بچ گئے اور نواب محمد احمد خان قتل ہو گئے۔ ایف آئی آر کِسی تنظیم نے درج نہیں کرائی، بلکہ احمد رضا قصوری نے درج کرائی، جو مقتول نواب محمد احمد خان کے حقیقی بیٹے اور وارث تھے۔ مقدمے میں نواب مرحوم کے بیٹے اور بیوہ ہی مدعی تھیں۔

اگرچہ اس مقدمے میں بھٹو کو سزائے موت ہو گئی، لیکن اس میں صرف ایف آئی آر کا ہی کمال نہیں تھا۔ اب بھی اس مقدمے کے بارے میں یہ سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ کیا بھٹو کے خلاف واقعی کافی ثبوت موجود تھے؟ یا پھر یہ ضیاءالحق کی مجبوری بن گئی تھی۔ کچھ لوگوں کا اس وقت بھی یہ خیال تھا اور اب بھی یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ بھٹو کے خلاف اگر ملک توڑنے میں معاونت کا مقدمہ بنتا تو یہ مقدمہ کہیں زیادہ قابل اعتبار اور زیادہ نتیجہ خیز ہوتا، لیکن اس طرح اس میں جرنیل بھی لپیٹ میں آ جاتے اور یہ ہو نہیں سکتا تھا۔ بھٹو کی طرز حکمرانی ایک الگ چیز تھی اور بھٹو اور ضیاءالحق کی شخصیات کا تقابل بھی بالکل الگ موضوع ہے، لیکن بھٹو کا مقدمہ ایک بالکل ہی دوسری چیز ہے، جس کے بارے میں اب تک شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاﺅن جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے ایک افسوس ناک اور قابل مذمت سانحہ تھا، لیکن اسے نواب محمد احمد خان کے قتل سے کوئی نسبت نہیں ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاﺅن غلط یا صحیح ایک پولیس ایکشن تھا، جس کے نتیجے میں کچھ لوگ مارے گئے۔ یہ فیصلہ کرنا قانون کا کام ہے کہ مارے جانے والے کار سرکار میں مداخلت کر رہے تھے، ان پر گولی چلانا جائز اور ضروری تھا یا پولیس اور انتظامیہ نے زائد از ضرورت طاقت کا استعمال کیا۔ ایسے معاملات میں عموماً اختیارات سے تجاوز اور زائد از ضرورت طاقت کے استعمال کے مقدمات بنتے ہیں، قتل کے مقدمات نہیںبنتے۔ اگر ایسا ہونے لگے تو کوئی بھی چور ڈکیت مارا جائے تو کوئی تنظیم اُٹھ کر اس کے قتل کی ایف آئی آر پولیس، ڈی آئی جی، آئی جی، وزیر قانون، وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے خلاف درج کرانے پر تل جائے اور کوئی احمد رضا قصوری اس پر اُچھل پڑے کہ ایف آئی آر میں نامزد تمام سرکاری حکام اور وزیراعلیٰ، وزیراعظم اور وزیر قانون کو پھانسی کی سزا دی جائے گی۔ مولوی صاحب اور احمد رضا قصوری ثبوت جرم سے پہلے پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ بات جلسے جلوسوں میں تو اچھی لگتی ہے، لیکن اگر ایسا ہو سکتا تو بھارت میں ایک لڑکی کی آبروریزی کے خلاف مولوی صاحب کے دھرنوں سے کہیں بڑے بڑے جلوس نکلے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ مجرموں کو پھانسی دی جائے، لیکن بھارت میں جہاں افضل گرو اور اجمل قصاب کو ناکافی شہادتوں کے باوجود پھانسی دے دی جاتی ہے، آبروریزی کے ان مجرموں کو سارے ملک کے مطالبے کے باوجود سزائے موت نہیں دی جا سکی۔ مولوی ڈاکٹر طاہر القادری صاحب خود ہی مقتولین کے وارث بن بیٹھے ہیں، خود ہی مدعی ہیں، خود ہی گواہ ہیں، خود ہی منصف ہیں اور خود ہی قاتلوں کو پھانسی دینے پر تیار بھی ہیں، کیونکہ اب پاکستان میں اپنے ہاتھوں پھانسیاں دینے کی آزادی کا سورج طلوع ہونے والا ہے۔

امریکہ میں ویکو ٹیکساس میں ایک مذہبی جنونی ڈیوڈ کوروش ایک بلڈنگ کے اندر دھرنا دیئے بیٹھا تھا۔ امریکی پولیس نے بلڈنگ میں ٹینک گھسا دیئے اور ڈیوڈ کوروش اور اس کے ساتھ تمام مرد عورتیں اور بچے مارے گئے، بچ صرف وہی رہے جو اس وقت کسی ضرورت سے باہر آ گئے تھے یا جو اس طویل دھرنے سے اُکتا کر باہر آ گئے تھے۔ اس معاملے کی امریکی کانگریس میں سماعت ہوئی، لیکن اسے محض پولیس کا زائد از ضرورت طاقت کا استعمال قرار دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں کچھ پولیس والوں کو شاید محکمانہ سزائیں بھی دی گئی ہوں، لیکن نہ کسی کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوا، نہ کِسی کو پھانسی دی گئی، حالانکہ اس سماعت کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے بیانات میں مضحکہ خیز حد تک تضادات سامنے آئے۔

اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے نتیجے میں قتل کے مقدمات بننے لگیں اور پھانسیاں دی جانے لگیں، تو پھر قانون کون نافذ کرے گا؟ پھر تو یہی ہو گا کہ اعلیٰ حکام کے احکامات پر پولیس کوئی کارروائی کرنے سے گریز ہی کرے گی۔کیا ہم یہی چاہتے ہیں۔ کیا قانون اور انصاف کی سربلندی اِسی کا نام ہے کہ قانون اور انصاف کے نام پر ہمارے جذبہ ¿ انتقام کی تسکین ہونے لگے اور ہم اپنی انا کے پرچم کو قانون اور انصاف کا پرچم قرار دے کر جو چاہے کرتے پھریں؟

مزید :

کالم -