پاک چین فوجی اور اقتصادی تعاون

پاک چین فوجی اور اقتصادی تعاون

  


چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اعلیٰ معیار اور پیشہ ورانہ اہلیت کے حامل دستوں کے ساتھ ہم پُرخطر اور دور افتادہ علاقوں سے تمام دہشت گردوں کا ان کی کمین گاہوں سے مکمل خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا دہشت گرد دور دراز علاقوں میں بھی جا کر چھپیں گے تو وہاں بھی اُن کا خاتمہ کیا جائے گا۔ انہوں نے چراٹ میں پاکستان سپیشل سروسز گروپ کے ہیڈ کوارٹر میں فوجی جوانوں سے خطاب کیا، پاکستان اور چین کی مشترکہ فوجی مشقوں کا معائنہ کیا اور کہا مشترکہ مشقیں پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرتی ہیں، دونوں ملکوں کی مسلح افواج میں مثالی تعلقات ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے جوانوں کی فوجی مہارت کو سراہا۔

پاکستان اور چین کے درمیان اس وقت جو مثالی تعلقات ہیں ان میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، دونوں ملکوں میں حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن تعلقات کی بنیاد اب اتنی مستحکم ہو چکی ہے کہ یہ وقت کی ہر آزمائش اور کسوٹی پر پورا اُترتی ہے۔ دونوں ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں، طیارہ سازی کے میدان میں دونوں ملکوں کے تعاون کی و جہ سے اب پاکستان سے فوجی طیاروں کی برآمد ممکن ہو چکی ہے اور اب جے ایف17تھنڈر جیسے جدید ترین طیارے بھی چینی تعاون سے پاکستان میں تیار ہو رہے ہیں۔ فوجی سازو سامان کے دوسرے شعبوں میں بھی پاکستان کو چین کا تعاون حاصل ہے، مشترکہ فوجی مشقیں بھی اس فوجی تعاون کا ایک رُخ ہے، جہاں تک اقتصادی شعبے کا تعلق ہے چین پاکستان میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اور سرمایہ کاری کا یہ حجم32ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب مغربی سرمایہ کاروں نے بوجوہ پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ روکا ہوا ہے، چین کی سرمایہ کاری نہ صرف غنیمت ہے بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ وسیع بھی ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے پاکستان میں حالات پُرامن اور ساز گار رہیں اور سیاسی استحکام موجود رہے۔ بدقسمتی سے اس وقت دو سیاسی جماعتوں کے اسلام آباد میں دھرنوں کی وجہ سے سیاسی صورت حال مستحکم نہیں ہے اور تجزیہ کار اس کو بھی عالمی حالات سے جوڑتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ گوادر بندرگاہ کو چین کے حوالے کرنے اور وہاں سے خنجراب تک اقتصادی کوریڈور بنانے کے فیصلوں سے ان ملکوں کو خوشی نہیں ہوئی جو پاکستان کو ہمیشہ ایک کمزور، افلاس زدہ اور اقتصادی طور پر دست نگر ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جس طرح انہوں نے ایک عشرے سے اس بندرگاہ کو عضو ِ معطل بنا کر رکھا ہوا ہے اور اسے پاکستان کی معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں بننے دیتے۔ یہ حالت اسی طرح جاری رہے اور اردگرد کی بندرگاہیں بدستورپھلتی پھولتی رہیں، جو گوادر کے متحرک ہونے کی صورت میں متاثر ہو سکتی ہیں، چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری بھی انہیں ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ مغربی ملک غالباً یہ چاہتے ہیں۔ پاکستان اپنی ہر طرح کی ضروریات کے لئے اُن پر انحصار کرتا رہے اور خود انحصاری کی طرف قدم نہ بڑھا پائے، اس لئے پاکستان کا جو بھی غیر معمولی قدم خوشحالی کے لئے اٹھتا ہے وہ اس کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چین کی سرمایہ کاری کو بھی اس نظر سے دیکھا گیا اور پاکستان میں دھرنوں کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت نے تو دنیا بھر کے اسلحہ بنانے والوں کو صلائے عام دے دی ہے کہ وہ وہاں اسلحے کے کارخانے لگائیں، اسی طرح امریکہ سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بھارت سے تعاون کر رہا ہے۔ انٹیلی جنس کے شعبے میں بھی امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے خفیہ اداروں نے تعاون کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کے چین کے ساتھ فوجی اور اقتصادی تعلقات وقت کی ضرورت ہیں۔ چین کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں بھی اِسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ چینی صدر اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے حالات کو جلد سے جلد نارمل کر لیا جائے اور اسلام آباد میں جو تماشا لگا ہوا ہے اس کا خاتمہ ہو جائے۔ اگر چینی صدر کا دورہ اس وجہ سے ملتوی ہو گیا تو یہ ہماری بدقسمتی ہو گی اور اس کا منفی اثر پاک چین تعلقات پر بھی پڑ سکتا ہے، اس لئے پاکستان کی حکومت اور دھرنے دینے والی سیاسی جماعتوں کو سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔

آرمی چیف نے سپیشل سروسز گروپ کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے کے لئے اُن کے کارناموں کو سراہا، پاکستان کو دس بارہ سال سے دہشت گردی کے عفریت کا سامنا تھا اور اس کا دائرہ پھیلتا جا رہا تھا۔ پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی تھی، جس پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں کا قلع قمع کر دیا جائے۔ مقامِ شکر ہے کہ پاک فوج کے بہادر افسروں اور جوانوں نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو بڑی حد تک ختم کر دیا ہے۔ اب وہ تِتر بتر ہو چکے ہیں اور عملی طور پر یہ بات مشاہدے میں آ چکی ہے کہ وہ اب وارداتیں کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہے۔ دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے اور وہ پناہوں کی تلاش میں اِدھر اُدھر بھاگ رہے ہیں۔ آرمی چیف کا یہ عزم کہ دہشت گردوں کا اُن کے ٹھکانوں میں صفایا کر دیا جائے گا۔ اُن کے لئے کھلا پیغام ہے کہ وہ دہشت گردی سے باز آ جائیں۔ ماضی میں سوات میں جو لوگ دہشت گردی کی وارداتوں سے تائب ہو گئے تھے اُن کی بحالی کے لئے فوج کے ادارے نے اہم اقدامات کئے تھے اور انہیں معاشرے کا کارآمد رُکن بنانے کے لئے اُن کی تربیت کا آغاز کیا تھا۔ اب بھی جو لوگ دہشت گردی سے تائب ہو کر دہشت گردوں کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ ہوں، اُن کے لئے فوجی بحالی کے مراکز ممدو معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

مزید :

اداریہ -