برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بلند

برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بلند

  

                                   لندن (بیورورپورٹ)برطانیہ نے دہشت گردی کے خطرے کے امکان کی درجہ بندی میں اضافہ کر دیا ہے۔ لندن حکام نے اس اقدام کی وجہ شام اور عراق میں شدت پسندی کے واقعات کو قرار دیا ہے۔برطانوی وزیرداخلہ تھریسا مے نے عراق اور شام میں برسرپیکارگروپوں کی جانب سے مغربی ممالک میں حملوں کی دھمکیوں کے بعد دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بلند کردیا ہے اور اس کو ''قابل غور اہم'' سے بڑھا کر ''خطرناک'' کردیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ برطانیہ میں دہشت گردی کے حملے کا بہت حد تک امکان ہے۔تھریسا مے نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ شام اور عراق میں ہونے والی پیش رفت کے تناظر میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بلند کی گئی ہے۔ان دونوں ممالک میں دہشت گرد گروپ مغرب پر حملوں کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''ان میں سے بعض منصوبوں میں غیرملکی جنگجو ملوث ہوسکتے ہیں اور یہ جنگجو ان تنازعات میں حصہ لینے کے لیے برطانیہ اور یورپ سے گئے ہیں''۔انھوں نے کہا کہ ''اس کا یہ مطلب ہے دہشت گردی کے حملے کا بہت زیادہ امکان ہے لیکن ابھی ایسی کوئی انٹیلی جنس اطلاع نہیں ہے جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ حملہ ناگزیر ہے''۔برطانیہ نے دہشت گردی کے حملے کے خطرات کی پانچ سطحیں وضع کررکھی ہیں اور یہ سطح ان میں سے دوسرے نمبر پر ہے۔ جولائی 2011 کے بعد یہ بلند ترین سطح ہے۔برطانوی پولیس نے اسی ہفتے شہریوں سے کہاکہ وہ ممکنہ دہشت گردوں کی نشان دہی اور گرفتاری کے لیے اس کی مدد کریں۔اس نے یہ اپیل عراق اور شام میں داعش کے ہاتھوں یرغمال امریکی صحافی جیمز فولی کے اندوہناک قتل کے بعد جاری کی۔اس امریکی صحافی کا مبینہ طور پر داعش میں شامل ایک نقاب پوش برطانوی جنگجو نے سرقلم کیا تھا اور وہ لندنی لہجے میں انگریز بول رہا تھا۔برطانوی پولیس نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ دہشت گردی کی جانب مائل لوگوں کی نشاندہی کی جائے۔

خیال رہے کہ شام میں اسلامی ریاست کے شدت پسندوں کی جانب سے امریکی صحافی جیمز فولی کے قتل کے بعد برطانیہ میں شدت پسندی کے رجحان پر توجہ دی جا رہی ہے۔فولی کے قتل میں ایک برطانوی شہری کو ملوث قرار دیا جا رہا ہے جس سے ایسے افراد کی نشاندہی پر زور دیا جا رہا ہے، جو لڑائی میں حصہ لینے کے لیے بیرون ملک سفر کر سکتے ہیں یا شدت پسندی کی جانب مائل ہو سکتے ہیں۔برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی کہا ہے کہ کم از کم پانچ سو افراد لڑائی میں حصہ لینے کے لیے برطانیہ سے شام اور ممکنہ طور پر عراق گئے ہیں۔ ان میں سے ایک کو فولی کے قتل کے لیے ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے۔کیمرون نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خطرے کی درجہ بندی میں تبدیلی سے برطانیہ میں روز مرہ کی زندگی پر اثر نہیں پڑے گا۔ انہوں نے عوام کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ کاروبارِ زندگی معمول کے مطابق جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی اندرون ملک سکیورٹی کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر اثر انداز ہو گی۔

مزید :

عالمی منظر -