مقدمہ کے بعد پولیس افسروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے فائل ڈی آئی جی کو بھجوادی

مقدمہ کے بعد پولیس افسروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے فائل ڈی آئی جی کو بھجوادی

  

لا ہور ( زا ہد علی خا ن ،شعیب بھٹی )سانحہ ماڈل ٹاؤن میں وزیر اعظم نوازشریف ، وزیر اعلیٰ شہباز شریف ، وفاقی وزراء اور اعلیٰ پولیس افسروں کے خلاف درج مقدمہ میں پہلے ہی دن تفتیشی افسر کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔تھا نہ فیصل ٹا ؤ ن میں سا نحہ ما ڈ ل ٹاؤ ن کا در ج ہو نے وا لا مقد مہ سنگین د فعات کی و جہ سے فا ئل فو ر ی طو ر پر ڈ ی آ ئی جی انو یسٹی گیشن ذوالفقار حمید کو بھجوا د ی گئی ہے ۔ تفتیشی ا فسر اعجا زر شید نے گز شتہ روز ایف آئی آر پر تھا نہ کے ایس ایچ او ،ڈ ی ایس پی اور ایس پی سے ملا قات کی اور معذرت کر تے ہو ئے کہا کہ یہ مقد مہ اس کی پہنچ سے با ہر ہے کہ کیو نکہ اسمیں وز یر اعظم پاکستا ن وز یر اعلی پنجا ب اور کئی و فا قی وزارء نا مزد ہیں لہذایہ فا ئل کسی بڑ ے افسر کو د ے دی جا ئے ۔ذرا ئع کے مطا بق ڈی آئی جی ذوالفقار حمید نے تفتیشی ا فسر سے کہا ہے کہ وہ اسکی ابتدا ئی ضمنی لکھے اور قانونی تقاضے پو رے کر ے ڈی آ ئی جی نے کہا کہ تفتیش کا فیصلہ کر نا اعلی ٰ حکا م کا کام ہے کہ کیا وہ اسکے لئے سپیشل ٹیم بنا تے ہیں یاجو ا ئنٹ انو سٹی گیشن ٹیم بنے گی ذرا ئع نے مز ید بتا یا ہے کہ ایس ایس پی انو سٹی گیشن عبدالرب تفتیش کی نگرا نی کر ر ہے ہیں اور یہ با ت ڈ ی آ ئی جی انو سٹی گیشن اور سی سی پی او لا ہور کو بھی بتا د ی گئی ہے ۔با خبر ذرا ئع کے مطا بق آ ئی جی پو لیس پنجا ب اور سی سی پی او لا ہور کی زیر صدا ر ت کئی اجلا س ہو ئے جو رات گئے تک جا ر ی رہے جس میں اس با ت پر غور کیا گیا کہ کیا اس تفتیش کے لئے کسی ٹیم کا بنا یا جا نا ضرو ر ی ہے تاہم ابھی تک مقد مہ کی فا ئل انچا ر ج انو سٹی گیشن اعجا ز ر شید کے پا س ہی ہے ۔با خبر ذرا ئع کے مطا بق آ ئی جی پو لیس پنجا ب مشتا ق سکھیرا نے سی سی پی او لا ہور اور ڈی آ ئی جی انوسٹی گیشن کو اپنے د فتر بلا یا اور انہیں چند ضرو ر ی ہدایت د یں ۔ تا ہم انہو ں نے افسرا ن سے کہا کہ وہ تحقیقات میر ٹ پر کر یں ۔معلوم ہواہے کہ آ ئی جی پو لیس پنجا ب نے آ ئی جی لیگل سمیت کئی د یگر ا فسرا ن سے بھی مشاور ت کی ہے پتا چلا ہے کہ بعض ر یٹا ئر ڈپو لیس ا فسرا ن اور اعلی ٰ حکا م نے بھی آ ئی جی کو مشور ہ د یا ہے کہ اس کیس کی تفتیش کے لئے کچھ ا فسرا ن کا ایک پینل بنا ئیں جو پو لیس تفتیش سے وا قف ہوں اور وہ اس میں انصاف کے تقاضے پو ر ے کر سکتے ہو ں با خبر ذرا ئع نے انکشاف کیا ہے کہ کچھ پو لیس افسرا ن نے آ ئی جی کو یہ مشورہ بھی د یا ہے کہ چو نکہ ا یف آ ئی آر میں بعض ایسی د فعا ت کا ذ کر نہیں کیا گیا جن کالگنا ضرو ری تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعدازا ں عدا لتو ں کے حکم پر مز ید د فعات کا اضا فہ کردیا جا ئیگا ۔ذرا ئع کے مطا بق انچا ر ج انوسٹی گیشن اپنی پہلی ضمنی میں مقد مہ کے با رے میں مختصر حالات اور وقوعہ کے با رے میں بھی لکھے گا اس کے بعد وہ ایک نو ٹ لکھے گا چو نکہ ا یف آ ئی آ ر میں اعلی ٰ حکا م شا مل ہیں لہذا اس تفتیش کو بڑ ے ا فسر کو بھجوا د یاجا ئے گا ۔پو لیس کے ایک اعلی ٰ افسر نے پاکستا ن کو بتا یا کہ اس تفتیش کے لئے کم ازکم ایڈ یشنل آ ئی جی ر ینک کے افسر کو تعینا ت کیا جا ئے جن کے سا تھ ایک ڈی آ ئی جی 2 ایس ایس پی اور چا ر ڈی ایس پی بھی شامل ہوں اور تفتیشی ٹیم کو قانو ن کے مطا بق تما م تر اختیارا ت د ئیے جا ئیں تا کہ وہ جب بھی کسی بڑ ے ملزم کو بھی بلا نا چا ہیں تو کو ئی رکا وٹ نہ ہو تحقیقاتی حکا م کا یہ فر ض بھی ہے کہ دونو ں پا ر ٹیو ں کو الگ الگ اور بعدازا ں اکٹھے سنیں اور اپنے ضمیر اور شو اہد کے مطا بق فیصلہ کر یں ۔

ہاتھ پاؤں پھول گئے

مزید :

صفحہ آخر -