امریکہ پاکستان میں سیکولر نظام تعلیم مسلط کرنے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کر رہا ہے جماعتہ الدعوۃ

امریکہ پاکستان میں سیکولر نظام تعلیم مسلط کرنے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کر ...

  

لاہور ( سٹاف رپورٹر)جماعۃالدعوۃ پاکستان کے مرکزی قائدین، ماہرین تعلیم ، سینئر صحافیوں اور دانشور حضرات نے الدعوۃ سسٹم آف سکولز کی تقریب تقسیم انعامات سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں سیکولر نظام تعلیم مسلط کرنے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کیاجارہا ہے۔ تعلیمی نظام میں تبدیلیاں کروانا امریکی گلوبلائزیشن اور امریکی نیو ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے۔اساتذہ اس بات کا عہد کریں کہ دشمنان اسلام کی مسلط کردہ تعلیمی پالیسیاں پاکستان میں نہیں چلنے دیں گے۔ آ ج صرف ہتھیاروں سے جنگیں نہیں لڑی جارہیں، اساتذہ، طلباء اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ اس جنگ میں شریک ہو جائیں۔نوجوان نسل میں جدیدسائنس و ٹیکنالوجی کا حصول اورآزادی کا اسلامی شعور پختہ کرنے کی ضرورت ہے۔امریکہ و یورپ دونوں ہاتھوں سے مسلمانوں کے وسائل لوٹ رہے ہیں‘ انہیں تعلیم کے میدان میں ترقی کر کے کفارسے اپنے اثاثے واپس لینے ہوں گے۔ مرکز القادسیہ چوبرجی میں ہونے والی اس تقریب سے امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید ، ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ظفر اقبال، ڈائریکٹر مانیٹرنگ سیل سکولز ڈیپارٹمنٹ پنجاب رانا عبدالقیوم، جماعۃالدعوۃ شعبہ تعلیم کے مدیر انجینئر نوید قمر،مولانا سیف اللہ خالد، ہیومن رائٹس فار جسٹس اینڈ پیس کے چیئرمین حافظ محمد مسعود، سینئر صحافی اور کالم نگار سجاد میر،سعد اللہ شاہ،ماہر تعلیم پروفیسر عرفان یوسف، ریاست اللہ، معظم ادریس و دیگرنے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر ممتاز کالم نگار اسداللہ غالب اور نصراللہ شاہ بھی موجود تھے۔اس دوران میٹرک میں نمایاں پوزیشنیں حاصل کرنے والے طلباء میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔تقریب میں لاہور سمیت مختلف شہروں میں الدعوۃ سسٹم آف اسکولز کے زیر اہتمام چلنے والے اداروں کے طلباء و اساتذہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر الدعوۃ سکولوں کے طلباء عبداللہ حنیف، مطیع الرحمن اور حماد رفیق نے انگریزی، عربی اور اردو میں زبردست تقاریر کیں جنہیں شرکاء کی جانب سے بے حد سراہا گیا۔ اقصیٰ ماڈل سکول جہلم کے طلباء نے قبلہ اول بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ اور مظالم کے حوالہ سے ٹیبلو بھی پیش کیاجس پر حاضرین آبدیدہ ہو گئے۔ جماعۃالدعوۃ پاکستان کے سربراہ حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ دشمنان اسلام کی مسلم ملکوں میں مداخلت اور چیرہ دستیاں دیکھ کر شدت سے اس بات کا احساس ہوا کہ کس طرح مسلمانوں کے وسائل کو قبضہ میں لیکر ان کی حکومتوں کو کنٹرول میں لے رکھا ہے۔ وہ مسلم ملکوں کے بجٹ و تعلیمی ادارے چلاتے ہیں اور ان کی سیاست، معیشت و نظام سب کچھ اللہ کے دشمنوں کے ہاتھ میں ہے۔ہمارے نوجوان جدید سائنس اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی میں بہت محنت کرتے ہیں مگر ان کے ذہنوں کو غلامی سے آزاداور ایک آزاد مسلمان کا تصور پختہ کرنا ہے اوریہ شعور بیدار کرنا ہے کہ وہ ترقی کے جو کام بھی کریں گے ان کا سب کچھ غلبہ اسلام کیلئے ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ دشمنان اسلام کی سازشوں کے مقابلہ کیلئے مضبوط قوت تیار کرنے اور نوجوان نسل کی صحیح معنوں میں ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں تعلیم کا میدان بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔یہ جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے ہمیں مقابلہ کے اس میدان میں بھی آگے بڑھنا ہے۔ اگر نوجوان جدید سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں مشن سمجھ کر ترقی کی کوشش کریں گے۔ ان کے کام میں تسلسل ہو گا‘ ان کا ذہنوں میں مقصد واضح اور اپنے ہدف و منزل کا تعین ہو گا تو وہ ہر میدان میں کامیاب ہوں گے اور اگردشمن سے مقابلے کا احساس اور منزل پر پہنچنے کا شعور نہ ہو تو وہ جس قدر مرضی ایجادات کریں اس سے دشمن فائدے اٹھائیں گے۔انہوں نے کہاکہ دنیا بھر سے مسلمانوں نے یورپ پہنچ کر سائنس کے میدان میں بہت کام کیا ہے مگر ان کی محنت کا صلہ اغیار نے حاصل کیا ہے۔ ہم نے نوجوان نسل میں آزادی کا شعور بیدا ر کرنا ،اسلامیت کو قائم رکھنا اور مسلم کلچر و ثقافت کو پروان چڑھانا ہے۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ ویورپ مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا کرتے ہیں لیکن درحقیقت دہشت گرد وہ خود ہیں۔صلیبی ، یہودی اور ہندو مسلمانوں کے مقابلہ میں بدترین شکست سے دوچار ہیں۔ میدانوں میں جو فتح یاب ہوتا ہے پھر دنیا میں غلبہ بھی اسی کا اور تعلیم بھی اسی کی ہوتی ہے۔صلیبیوں نے بھی مسلمانوں سے یہ سب کچھ لڑ کر حاصل کیا تھا۔انہوں نے کہاکہ مسلمان اپنے بچوں کا ایسے تعلیمی اداروں میں داخل نہ کروائیں جہاں ان کے عقیدے و اخلاق برباد ہونے کا اندیشہ ہو۔ ممتاز ماہر تعلیم پروفیسر ظفر اقبال نے کہاکہ دینی تعلیم کی طرح فزکس ، کمسٹری اور سائنس کے دیگر علوم و فنون حاصل کرنا بھی انتہائی ضروری ہے ۔ تعلیمی نظام کو دو حصوں میں تقسیم نہیں کرنا چاہئے ہمارے ہاں جو تعلیمی نظام وضع کیا گیا ہے وہ غلامی کے دور کی دستاویز ہے ۔ جماعۃ الدعوۃ کے بنیادی قاعدہ میں اے سے اللہ پڑھایا جاتا ہے تاکہ شروع سے ہی بچوں کے ذہن میں لاالہ الا اللہ کا تصور پختہ ہو جائے ۔ قرآن و حدیث اور سائنس کی تعلیم کو اکٹھا کر کے پڑھانے کی ضرورت ہے ۔ ڈائریکٹر مانیٹرنگ سیل سکولز ڈیپارٹمنٹ پنجاب رانا عبدالقیوم نے کہاکہ ہمیں خوشی ہے کہ پاکستان میں ایسے ادارے قائم ہیں جہاں دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ جماعۃالدعوۃ اس لحاظ سے مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے پورے ملک میں ایسے سکولز کھول رکھے ہیں جن کے نتائج کسی طرح بھی بہت نام رکھنے والے پرائیویٹ تعلیمی اداروں سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جب تک ملک میں ایسے ادارے موجود ہیں کافر قومیں کبھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ جماعۃالدعوۃ شعبہ تعلیم کے مدیر انجینئر نوید قمر نے کہاکہ الدعوۃ اسکولز دینی و دنیوی تعلیم کا حسین امتزاج ہیں۔ امسال ہم نے ملک کے کئی مختلف شہروں میں نئے تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ بلوچستان کے وہ علاقے جہاں علیحدگی کی تحریکیں موجود ہیں وہاں سے اس سال ہم نے 81طلباء منتخب کر کے اپنے تعلیمی اداروں میں داخل کئے ہیں جن کی تعلیم ،رہائش اور میڈیکل کے مکمل اخراجات جماعۃالدعوۃ برداشت کرے گی۔اس سلسلہ میں 90لاکھ روپے سالانہ خرچ کیاجائے گا۔ اسی طرح 4016اساتذہ اور پرنسپل حضرات کو ایجوکیشنل تربیت دی گئی ہے۔ الدعوۃ سکولوں کے 46بچوں نے اس برس قرآن پاک حفظ کیا۔ 65طالبات نے صحیح بخاری مکمل کی ، 60طلباء نے بلوغ المرام اور 40طلباء نے قرآن پاک کاترجمہ تفسیر کے ساتھ مکمل کیا۔ جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما مولانا سیف اللہ خالدنے کہاکہ بیرونی قوتوں کی جانب سے پاکستان کو خصوصی طور پر ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ پوری کوشش کی جارہی ہے کہ یہاں تعلیمی نظام میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا کوئی ذکر نہ ہو۔منظم منصوبہ بندی کے تحت یہاں الحا د ، بے دینی اور سیکولر ازم کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ اور کوششیں کی جا رہی ہیں کہ اس ملک میں اسلامیت کا کوئی تصور نظر نہ آئے ۔ ہیومن رائٹس فار جسٹس اینڈ پیس کے چیئرمین حافظ محمد مسعود نے کہاکہ امریکہ دنیا میں ورلڈ آرڈر کے نفاذ کی کوششیں کر رہا ہے اسلامی ممالک کو بھی چاہیے کہ وہ اسلامک ورلڈ آرڈر کے قیام کیلئے جدوجہد کریں اور بیرونی قوتوں کی غلامی سے نکل کر پالیسیاں ترتیب دیں ۔ سینئر صحافیوں وکالم نگاروں سجاد میر،سعد اللہ شاہ، اسد اللہ غالب،ماہر تعلیم پروفیسر عرفان یوسف، ریاست اللہ، معظم ادریس و دیگرنے کہاکہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ہے ۔اس کی بنیادوں میں لاکھوں مسلمانوں کا لہوشامل ہے۔ یہ امریکہ ، برطانیہ ، روس اور بھارت سے لڑ کر معرض وجود میں آیاتھا۔ اس میں نصاب تعلیم سیکولر اورالحادی نہیں ہونا چاہئے ۔

مزید :

صفحہ آخر -