گڈ مڈ ریڈ زون

گڈ مڈ ریڈ زون
 گڈ مڈ ریڈ زون
کیپشن: 1

  

سیاسی ہوا اتنی تیز چل رہی ہے کہ آنکھیں کھل نہیں پا رہی ہیں، ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا، ریاست کے ادارے گڈ مڈ نظر آرہے ہیں، خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف ایک صفحے پر ہیں اور کسی صورت غیر آئینی حل کے لئے تیار نہیں ہیں؟واقعی ....؟کیا فرماتے ہیں جناب اس مسئلے کے بیچ!

حیرت کی بات یہ ہے کہ نون لیگ بحیثیت جماعت وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے، پوری کی پوری پارلیمنٹ وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے ،گیلپ سروے کے مطابق 66فیصد عوام وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں اور آرمی چیف بھی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں تو پھر آخر کون ہے جو وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ہے؟

اس میں شک نہیں کہ اگر عمران خان اور طاہرالقادری کی طرح لوگوں کا جتھہ لے کر قائد اعظم بھی ریڈ زون میں براجمان ہوتے تو پارلیمنٹ ان کے غیر آئینی مطالبات نہ مانتی، یہی وجہ ہے کہ عوام نے سول نافرمانی کی تحریک مسترد کردی ہے، ہنڈی کے ذریعے رقوم بھجوانے کو مسترد کردیا ہے، حکومت کے خلاف سڑکوں پر آجانے سے انکار کردیا ہے، انتخابات کے حوالے سے اپنے مینڈیٹ کو مسترد کرنے سے انکار کردیا ہے، کیا اتنے سارے استرداد عمران خان اور طاہرالقادری کو سیاست سے مسترد کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں؟

جب حکومت کے طاہرالقادری سے مذاکرات میں تعطل آیا اور گورنر سندھ اور گورنر پنجاب اپنی سی صورت لے کر واپس چلے گئے تو اس رات ایک شخص ٹی وی چینلوں کے چکر کاٹتا رہا اور حکومت کو خبردار کرتا رہا کہ وہ بھی دھرنے والوں کے ساتھ اپنا تماشہ لگا ئے گا اور یوں عوام کو ڈرانے کی کوشش کرتا رہا ، وہ تو شکر ہے جناب زرداری صاحب نے اس صورت حال میں نیوٹرل رہنے کا مصمم ارادہ کیا ہوا ہے ، وگرنہ تو اب تک دما دم مست قلندر ہو چکا ہوتا !

عمران کا مطالبہ ابھی عوام کا مطالبہ نہیں بنا ہے، جو لوگ مختلف شہروں میں اس کی ہمنوائی کرتے ہیں وہ صرف Facebookپر تصویریں ڈالنے کے لئے نکلے ہوئے ہیں، وگرنہ لگتا ہے کہ وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ صرف عمران خان کا ہے اور اس کی بہنیں بھی اس مطالبے میں اس کی ہمنوا نہیں ہیں!

معاملہ یہ تھا کہ لانگ مارچ اور دھرنے سے حکومت کو مجبور کرنا تھاکہ انتخابی دھاندلیوں پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور آزاد تحقیق کروائے مگر اس کار خیر کو وزیر اعظم کے استعفے سے مشروط کردیا گیا ہے، ایسا ہے تو پھر سابق وزرائے اعظم کو گرفتار کرکے کرپشن کی تحقیق ہونی چاہئے!

پھر لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان اگر استعفیٰ لئے بغیر لوٹا تو کہیںکا نہیں رہے گا، استعفیٰ لینا آسان ہوتا تو سابق صدر غلام اسحٰق خان کو اختیار رکھنے کے باوجود استعفیٰ لیتے لیتے خود بھی مستعفی نہ ہونا پڑتا، جنرل مشرف کو باقاعدہ بغاوت نہ کرنی پڑتی، استعفیٰ لینا اتنا آسان نہیں ہے جتنا

دھرنے سے اٹھ آنا ہے !

بات تو یہ ہے کہ لوگوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ آخر دونوں چاہتے کیا ہیں، کیا وہ خود بیٹھے ہیں یا کسی کے کہنے میں ہیں! ....لگتا ہے کہ کسی کے کہنے میں ہیں کیونکہ ڈیڈ لائن کی کالیں ایک ایک کرکے ڈیڈ ہوتی جا رہی ہیں، کوئی کال لے نہیں رہا ،بلکہ اب تو کال کی کال پڑنا شروع ہو گئی ہے!

عمران خان اور طاہرالقادری شاہراہ دستور اور دستور پاکستان کو گھیرے بیٹھے ہیں ، سپریم کورٹ کا حکم آچکاہے مگرطاہرالقادری اور عمران خان کے ماننے والوں کے لئے ان کا حکم سپریم کورٹ کے حکم سے بالا ہے!

ہماری تجویز ہے کہ معاملے کو حل کرنے کے لئے وزیر اعظم نواز شریف سے خالی استعفیٰ نہیں معافی کا بھی مطالبہ کرنا چاہئے کیونکہ حق اور دھونس کے مطالبے میں فرق ہوتا ہے، شاید پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف طاہرالقادری نے دھرنا اس لئے ختم کردیا تھا کہ اس وقت جنرل مشرف پر غداری کا مقدمہ نہیں بنا تھا، تبھی تو جی ٹی روڈ پر انتہائی کمزور نظر آنے ولاعمران خان اسلام آباد جاتے ہی اتنا طاقتور ہو گیاکہ اب نہیں سنبھالا جا رہا، خدا خیر کرے!

مزید :

کالم -