11جون 2012ء، وہ دن جو چودھری نثار بھول گئے

11جون 2012ء، وہ دن جو چودھری نثار بھول گئے
11جون 2012ء، وہ دن جو چودھری نثار بھول گئے

  

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پولیس نے گذشتہ روز انقلاب اور آزادی مارچ کے شرکاء پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی.سیکیورٹی اداروں کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے ایوان صدر کے دروازے پر حملہ کیا اور پارلیمنٹ کے جنگلے توڑ دئیے لہذا انہیں انتہائی اقدام اٹھانا پڑا لیکن ا گر ہم صرف دو سال قبل کی باتوں پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ موجودہ وزراء جو آئین اور پارلیمنٹ کی حفاظت  کی بات کر رہے ہیں ، یہی حضرات ن لیگ کے کارکنوں کے ساتھ ایوان صدر اور ریڈ زون میں نا صرف دھرنا دیتے رہے ہیں بلکہ ایوان صدر کے دروازے پر بھی حملہ آور ہوئے تھے اور اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے کسی بھی انتہائی اقدام سے گریز کیا اور معاملے کو برداشت اور خوش اسلوبی سے حل کیا۔

11جون 2012ء کونواز لیگ کے کارکنوں نے حکومت کے خلاف لوڈشیڈنگ، مہنگائی، بے روزگاری اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے پر مظاہرہ کیا تھا اور یہ مظاہرہ عین ایوان صدر کے سامنے کیا گیا تھا، اس مظاہرے کی قیادت نواز لیگ  کے رہنما راجہ ظفر الحق اور چوہدری نثار  نے کی تھی جبکہ مظاہرین نے ایوان صدر کے دروازے پر بھی حملہ کیا تھا۔ موجودہ وزیر داخلہ اور اس وقت کے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نےاس وقت  کہا تھا کہ اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو اگلی بار مظاہرین ایوان صدر کے دروازے پر نہیں کھڑے رہیں گے۔ لیکن شاید اب یہ باتیں ان رہنماؤں کو یاد نہیں رہیں .

مزید :

اسلام آباد -اہم خبریں -