آپ کو بچپن کی باتیں کیوں یاد نہیں رہتیں ؟ سائنس نے بتا دیا

آپ کو بچپن کی باتیں کیوں یاد نہیں رہتیں ؟ سائنس نے بتا دیا
آپ کو بچپن کی باتیں کیوں یاد نہیں رہتیں ؟ سائنس نے بتا دیا

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) اگرچہ ہم میں سے اکثر کو سکول کا ابتدائی دور یا اس کے بعد کے ایام یاد ہوں گے لیکن دو یا تین سال کی عمر میں ہماری زندگی کیسی تھی یہ کسی کو بھی یاد نہیں ہوگا۔اس کی وجہ کیا ہے؟ ہمیں اپنے بچپن کے ابتدائی ایام کی باتیں کیوں یاد نہیں رہتیں؟

سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق میں اس راز سے پردہ اٹھادیا ہے کہ ننھے بچے باتیں جلدی کیوں بھول جاتے ہیں اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم اپنے بچپن کی باتیں یاد نہیں کرسکتے۔ جاسلن اور پال نامی سائنسدانوں نے تحقیق سے معلوم کیا کہ دماغ میں یادیں محفوظ رکھنے کا کام عصبی خلیوں کے ذمہ ہوتا ہے۔ ان خلیوں میں معلومات ایسے ہی سٹور وتی ہیں جیسا کہ کمپیوٹر کی میموری میں۔دماغ کا حصہ ہپوکیمپس ان خلیوں کی تخلیق کرتا ہے اور بچپن میں نئے خلیے بننے کا عمل بہت تیز ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نئے خلیے بنتے ہیں تو یہ پرانے خلیوں کی جگہ لے لیتے ہیں اور اس طرح پرانے عصبی خلیوں میں ذخیرہ کی گئی یادیں بھی ضائع ہوجاتی ہیں۔

عمر بڑھنے کے ساتھ نئے خلیوں کے پیدا ہونے کا عمل سست ہوتا جاتا ہے لہٰزا پرانے خلیے لمبے وقت تک موجود رہتے ہیں اور یوں ان میں محفوظ یادیں بھی لمبے عرصے تک محفوظ رہتی ہیں۔ تو ہمیں انتہائی بچپن کے دن اس لئے یاد نہیں کہ وہ خلیے ہی نہیں رہے جن میں اس دور کی یادیں محفوظ کی گئی تھیں۔

مزید :

تعلیم و صحت -