وہ شخص جو مستقبل دیکھنے کی خواہش میں اپنا جسم جما رہا ہے

وہ شخص جو مستقبل دیکھنے کی خواہش میں اپنا جسم جما رہا ہے
وہ شخص جو مستقبل دیکھنے کی خواہش میں اپنا جسم جما رہا ہے

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) تخلیق آدم سے لے کر آج تک موت نے ہر انسان کو شکار کیا ہے۔ اگرچہ انسان موت کو آنے سے نہیں روک سکا لیکن کچھ لوگوں کو یہ امید ضرور رہی ہے کہ کبھی مردہ جسموں میں جان ڈالنا ممکن ہوسکے گا۔

انہیں لوگوں میں ایک نمایاں نام خفیہ کوڈز کے ماہر ہال فینی کا بھی ہے۔ فینی نے اپنے ایک دوست کے ساتھ مل کر اس موضوع پر تحقیق کی ہے کہ کس طرح انسان کے جسم کو موت کے بعد انتہائی کم درجہ حرارت پر جما کر محفوظ کیا جاسکتا ہے اور پھر کئی صدیاں بعد اسے دوبارہ زندہ کیا جاسکتا ہے۔ ان تحقیقات کے نتیجہ میں ایلکور نامی کمپنی بھی قائم کی گئی۔

دو دن قبل فینی کی 58 سال کی عمر میں موت ہوگئی اور پھر اسے اس کی وصیت کے مطابق فوری طور پر ایلکور کمپنی میں لے جایا گیا ہے جہاں اس کے جسم سے تمام مائعات کو صاف کیا جارہا ہے۔ اس کے بعد اس کے جسم میں M-22 نامی کیمیکل ڈال کر اسے ایک 10 فٹ کے ڈبے میں بند کرکے مائع نائٹروجن کی مدد سے فینی 320 ڈگری فارن ہائیٹ درجہ پر محفوظ کردیا جائے گا۔ فینی دماغی بیماری ALS کا شکار تھا۔ اس کے دوستوں اور بیوی کو یقین ہے کہ کچھ دہائیوں یا صدیوں بعد جب کبھی سائنس اتنی ترقی کرجائے گی کہ انسانوں کی پیچیدہ ترین بیماریوں کا علاج ہوسکے اور ان میں جان ڈالی جاسکے تو فینی کو بھی فریزر سے نکال کر دوبارہ زندہ کیا جاسکے گا۔اسی امید پر اس کا جسم لمبی مدت کیلئے محفوظ کیا جارہا ہے تاکہ وہ صدیوں بعد کی دنیا میں دوبارہ زندہ ہوسکے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -