بہت جلد انسانی دماغ دماغوں سے باتیں کریں گے ،تجربہ کامیاب

بہت جلد انسانی دماغ دماغوں سے باتیں کریں گے ،تجربہ کامیاب
بہت جلد انسانی دماغ دماغوں سے باتیں کریں گے ،تجربہ کامیاب

  

نیو دہلی(نیوز ڈیسک)ٹیلی پتھی ایک متنازعہ علم ہے جس کے ماہرین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بغیر کسی واسطے کے ایک دماغ سے دوسرے دماغ تک پیغامات پہنچا سکتے ہیں۔اگرچہ ٹیلی پیتھی کے دعوں پر لوگ تا حال یقین نہیں کرتے لیکن سائنسدانوں نے انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ یہ ممکن بنا دیا ہے کہ ہزاروں میل اور انسان ایک دوسرے کی سوچوں کو پڑھ سکیں۔ابتدائی تجربے میں الیکٹروانفسیلو گرافی (EFG)ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے بھارت میں موجود سائنسدان کے دماغ میں پہنچا دیا گیا ۔اس مقصد کے لئے خصوصی طورپرتیار کردہ ایک ہیلمٹ استعمال کیا گیا جسے پہن کر سائنسدان نے اپنے دماغ میں Helloاور Cigoکے الفاظ سوچ دماغ میں پیدا ہونے والی سوچ کو ہیلمٹ میں لگے آلات نے ڈیجیٹل سگنل میں تبدیل کرکے انٹرنیٹ کے ذریعے فرانس پہنچایا اوروہاں دوسرے سائنسدان کے سرپر لگے آلات نے ان سگنلز کو براہ راست اس کے دماغ میں پہنچا دیا ۔اس کے بعد یہی تجربہ سین میں موجود ایک سائنسدان براہ راست پہنچا کر لیا گیا ۔سائنسدان پر امید ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب ہم ہزاروں میل دورنہیں جب ہم ہزاروں میل اورانسانوں کے ساتھ دماغ سے دماغ کا براہ راست رابطہ کر سکیں گے۔

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -