لیپ ٹاپ سکیم میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

لیپ ٹاپ سکیم میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف
لیپ ٹاپ سکیم میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب حکومت کی لیپ ٹاپ سکیم میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔اخبار ”پاکستان ٹوڈے“ کے مطابق الیکشن 2013ءسے قبل حکومت پنجاب نے صوبے کی یونیورسٹیوں میں طلباءمیں 11,000. لیپ ٹاپ تقسیم کئے جس کا مقصد مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا توڑ کرنا تھا۔ پنجاب حکومت کے آڈیٹر جنرل آفس کے آڈٹ کے مطابق اس سکیم میں کئی ارب روپے کی کرپشن کی گئی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اکتوبر 2011ءمیں منی لیپ ٹاپ قیمت 20000 روپے ظاہر کی گئی تھی لیکن محض دوماہ بعد اسے 37950 روپے فی لیپ ٹاپ کردیا گیا جبکہ لیپ ٹاپ کی ٹیکنالوجی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ اس تبدیلی سے قومی خزانے کی دو ارب روپے کا نقصان ہوا۔ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایک پراجیکٹ کو لپیٹ کر 2 ارب روپے لیپ ٹاپ سکیم میں ڈال دئیے گئے۔ آڈیٹروں کی ٹیم نے معلوم کیا کہ سکیم کے کرتا دھرتا سرکاری افسران نے کنٹریکٹر M/s inbox Business Techonolegies پر خصوصی عنایات کیں۔ سرکاری خزانے سے ڈیڑھ ارب روپے سے زائد رقم بینک آف پنجاب کی معرفت خلاف قانون جاری کی گئی۔ کمپیوٹر ہارڈویئر پر سپیشل ایکسائز ڈیوٹی کے استثناءکے باوجود ٹھکیدار کمپنی کو 200 روپے فی لیپ ٹاپ ادا کئے گئے جس سے قومی خزانے کو دو کروڑ 20 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ اسی طرح تاخیر سے ڈلیوری کرنے پر تین کروڑ ایک لاکھ کا جرمانہ نہ کیا گیا، ٹیکسوں کی مد میں ایک کروڑ ایک لاکھ کی کرپشن ہوئی۔ تقریباً تین کروڑ کے غیر قانونی اخراجات کئے گئے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ سرکاری افسران اور لیپ ٹاپ بنانے والی کمپنی سےمسلسل رابطوں کے باوجود کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

مزید :

لاہور -