۔۔۔ اور لائن مل گئی

۔۔۔ اور لائن مل گئی
۔۔۔ اور لائن مل گئی

  

پچھلے دِنوں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے عرب ممالک، خصوصاً عرب امارات کے دورے کے دوران ایران کے پڑوسی ممالک کے خدشات دور کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد ان کی طرف سے بہت محتاط الفاظ میں ایران سے ہونے والے ایٹمی معاہدے کی حمایت کا اعلان کر دیاگیا، قطر کے وزیر خارجہ خالد لعطیہ کے مطابق جو ’’آپشن ہیں، ان میں بہترین یہی ہے‘‘۔ یاد رہے کہ انہوں نے ہی ’’خلیج تعاون کونسل‘‘ کی میزبانی کی تھی، انہوں نے بعد میں جان کیری کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ امریکہ نے یقین دلایا ہے کہ ایران کو کسی قیمت پر ایٹمی طاقت نہیں بننے دیا جائے گا، اور اپنے اتحادی عرب ممالک کا دفاع امریکہ کی ذمہ داری ہے۔ اس معاہدے کے طے پا جانے سے یہ خطہ محفوظ اور سیاسی طور پر مستحکم ہو گا۔ جان کیری نے عرب وزرائے خارجہ کو یقین دلایا کہ صدر اوباما نے مئی میں کیمپ ڈیوڈ میں جدید ترین ہتھیار مہیا کرنے اور بہترین تربیت دینے کا جو وعدہ کیا ہے، اُسے ہر قیمت پر نبھایا جائے گا اور مستقبل میں بھی۔۔۔(امریکہ کے صدارتی انتخابات2016ء میں ہیں) ۔۔۔قطر کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جان کیری کی یقین دہانیوں کے بعد ’’خلیج تعاون کونسل‘‘ نے امریکہ کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ان کے خدشات اور تحفظات سے آگاہ ہوتے ہوئے ایران کو ہر قیمت پر ایٹمی ہتھیار رکھنے اور بنانے سے باز رکھیں گے۔

یہ معاہدہ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس اور چین نے مشترکہ طور پر متفقہ ایجنڈے کے تحت مذاکرات کرنے کے بعد ایران سے کیا ہے۔ جان کیری نے خلیج تعاون کونسل کے اراکین کو ان سب ممالک کی طرف سے یقین دہانی کرائی کہ ایران ان سب سے طے پا جانے والے معاہدے ہرگز نہیں توڑنے گا، ورنہ اسے پہلے سے زیادہ سخت دباؤ اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ان مذاکرات کے دوران ان ممالک، یعنی ایران کے پڑوسی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے کسی مُلک نے حصہ نہیں لیا تھا۔ اسرائیل کا خدشہ اپنی جگہ اب بھی برقرار ہے کہ یہ معاہدہ ایران کے ایٹمی طاقت بننے میں دیر کر سکتا ہے، روک نہیں سکتا، کیونکہ یورینیم کی جتنی مقدار وہ صنعتی مقاصد کے لئے ایٹمی توانائی کے حصول کے لئے استعمال کرنے کا مجاز ہے ،ذرا سی تبدیلی سے اس کے ساتھ ایٹمی ہتھیار بھی بنائے جا سکتے ہیں۔۔۔ (اسرائیل سے زیادہ کون جانتا ہو گا، جس نے خود یہی کچھ کیا ہے)۔۔۔ لیکن دوسری طرف اسرائیل کے ہی سابقہ سلامتی کے ذمہ دار اداروں ، فوج کے جنرلوں اور موساد نے ایٹمی توانائی کمیشن کے ایک سابق چیئرمین نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو خط لکھا ہے کہ مخالفت کرنے کی بجائے اس معاہدے کو ایک’’Established Fact‘‘ کے طور پر تسلیم کر لینا چاہئے۔

اس خط میں مشورہ دیا گیا ہے کہ اسرائیل کو ایسی پالیسی اپنانی چاہئے، جو امریکہ کے ساتھ تعلقات کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے کی بجائے ان رشتوں اور تعلقات کومزید مضبوط بنائے تاکہ اگرا س معاہدے سے کچھ خدشات اور تحفظات ہیں، ان کا موثر طور پر جواب دیا جا سکے۔ البتہ اس معاہدے کے تحت جو شرائط عائد کی گئی ہیں، ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ اس پر موثر طور پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے، ساتھ ساتھ خلاف ورزیوں کو دُنیا کے سامنے لایا جائے اور اسرائیل کو مشرق وسطیٰ میں جو فوجی برتری حاصل ہے وہ برقرار رہ سکے۔ سعودی عرب اور عرب ریاستیں اس بات سے فکر مند ہیں کہ معاہدہ طے پا جانے اور پابندیاں اُٹھ جانے کے بعد ایران کو جو اربوں ڈالر ملیں گے، تیل سے جو مزید آمدنی ہو گی، اس سے ایران مشرق وسطیٰ میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہو گا اور جارحانہ رویہ اختیار کرے گا، لیکن اسرائیل کے برعکس عرب ممالک نے یہی بہتر سمجھا کہ محتاط انداز میں اسے قبول کر لیا جائے، بصورت دیگر اس معاہدے میں مذاکرات میں جو ممالک شامل تھے، ان سے تعلقات خراب بھی ہو سکتے ہیں اور ایسی حکمت عملی تیار کی جائے کہ امریکہ اور ان ممالک پر زور دیا جائے کہ ایران مشرق وسطیٰ میں اپنے ’’دہشت گرد‘‘ حامیوں کی امداد سے باز رہے۔ جس میں مالی اور فوج کی مدد دونوں شامل ہیں۔ جان کیری بھی انہیں مطمئن کرنے کے لئے بار بار صدر اوباما کے مئی میں کیمپ ڈیوڈ میں کئے ہوئے وعدوں کودہراتے ہیں تاکہ ان ممالک کو تحفظ کا احساس ہو، جو بلاوجہ پیدا ہو گیا ہے یا ماضی میں مسلسل کوشش سے مغربی ممالک نے عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا ہے تاکہ ان کی اسلحہ ساز فیکٹریاں دن رات عرب ممالک کو فروخت کرنے کے لئے اسلحہ تیار کرتی رہیں۔صدر اوباما کے وعدوں کے مطابق امریکہ عرب ممالک کو فوجی امداد دے گا، جدید ترین ہتھیار دے گا، بہترین تربیت دے گا، میزائل ڈیفنس شیلڈ دے گا، مشترکہ فوجی مشقیں اس علاقے میں مسلسل جاری رہیں گی اور ایران کے پراکسی ایجنٹ جو مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں یا کر سکتے ہیں، ان پر کنٹرول کرے گا۔ بے شک فوجی کارروائی ہی کیوں نہ کرنا پڑے تاکہ خطے میں امن اور سیاسی استحکام پیدا ہو سکے۔

جان کیری کے مطابق عرب ممالک کی حمایت وائٹ ہاؤس کے لئے ایک سیاسی فتح ہے۔ خلیج تعاون کونسل میں سعودی عرب، قطر، بحرین، اومان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ باقی اراکین تو جو ہو رہا تھا، اسے دیکھ رہے تھے،جانچ رہے تھے،لیکن اومان نے ایران اور امریکہ کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کیا، جسے سفارتی زبان میں بیک چینل ڈپلومیسی کہتے ہیں۔ایران کے ساتھ معاہدہ طے پا جانے کے بعد جان کیری نے روس کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی۔ سعودی وزیر خارجہ بھی اس ملاقات میں شامل تھے۔اس ملاقات میں شام کا بحران زیر بحث تھا۔ یہ غالباً پہلا موقعہ تھا کہ ان تین ممالک کے وزرائے خارجہ نے شام کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہو گا۔ اوباما کی انتظامیہ کا فکر مند ہونا ضروری ہے، کیونکہ اس کے خیال میں جب تک روس شام کے صدر کی حمایت کرتا ہے، اُس وقت تک وہاں کامیابی ممکن نہیں، لیکن ابھی تک کوئی واضح اشارہ نہیں ملا کہ روس صدر بشار الاسد کی حمایت سے دستبردار ہو جائے گا، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں ان کی موجودگی کی علامت شام کے صدر ہیں۔ ایران بھی شام کے صدر کا حامی ہے اور اسے ہر ’’طرح‘‘ کی امداد مہیا کرتا ہے اور کرتا رہے گا۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے مسلسل دوروں کے دوران اُن کا مقصد بھی یہی تھا کہ ایک تو عرب ممالک کے خدشات دور کئے جائیں اور دوسرا عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی تیار کی جائے، جو مشرق وسطیٰ میں ایران کو محدود کر سکے، وہ یمن میں ہوثی باغیوں کو اسلحہ نہ پہنچا سکے اور عراق میں شیعہ ملیشیا کی موثر امداد نہ کر سکے اور نہ ہی شام کے صدر کی مالی اور فوجی امداد جاری رکھ سکے۔

جان کیری اس دورے کے دوران قاہرہ میں مصر کے اعلیٰ عہدیداروں سے بھی ملے اور مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’امریکہ اور مصر اس بات پر ہم خیال ہیں کہ ایران کی خطے میں کارروائیاں مشرق وسطیٰ کے امن واستحکام کے لئے خطرہ ہیں، اس لئے ضروری تھا کہ ایران کا ایٹمی ہتھیار بنانے کا پروگرام صرف پُرامن مقاصد ،یعنی توانائی کے حصول تک محدود کر دیا جائے۔ اگر ویانا میں طے پا جانے والے معاہدے پر پابندی جاری رہی تو نہ صرف مصر، بلکہ یہ خطہ، یعنی مشرق وسطیٰ آہستہ آہستہ ایک بار پھر ماضی کی طرح پُرامن اور سیاسی طور پر مستحکم ہو جائے گا اور کسی حکومت کو خطرہ نہیں ہو گا۔ مریکہ کے صدر اوباما نے اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے سعودی عرب کو5.4ارب ڈالرز کے پیٹریاٹ میزائل، جدید ترین ہوائی جہاز اور دیگر اسلحہ فراہم کر دیا ہے۔ 500کروڑ کا ’’اسلحہ‘‘ اس کے علاوہ ہو گا۔۔۔اگر دیکھا جائے تو اس سارے پس منظراور پیش منظر میں نقصان صرف مسلمانوں کا ہوا ہے، جبکہ فائدہ مغربی ممالک کو، جن کی بے روز گاری بھی کم ہوئی اور آمدنی بھی بڑھ گئی۔ اللہ پاک امت اسلامیہ کو سمجھنے، پرکھنے اور اتحاد کی توفیق دے۔

مزید :

کالم -