وسیم اختر کی حلف برداری کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی

وسیم اختر کی حلف برداری کے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی

  

تجزیہ: نصیر احمد سلیمی

کراچی کے منتخب میئر وسیم اختر کی حلف برداری کی تقریب ہوئی۔ تقریب میں وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ہے جو اس امر کی غماز ہے کہ منتخب حکومت اور ریاست کے تمام ادارے سیاسی عمل کو برقرار رکھنے میں یکسو ہیں جو ایک صحت مند تبدیلی کی نوید ہے جس کی تحسین ہر اس شخص اور جماعت پر واجب ہے جو آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کے نفاذ کو ہر سطح پر دیکھنے کی متمنی اور خواہش مند ہے۔ اب منتخب میئر جناب وسیم اختر پر منحصر ہے کہ وہ اپنے عہد کا پاس رکھ کر اپنے ذاتی اور سیاسی مخالفوں کو مایوس کرتے ہیں یا گروہی مفادات کا اسیر ہوکر اپنے مخالفوں کو یہ کہنے کا موقع فراہم کرتے ہیں کہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ محض حلف برداری کیلئے لگایا گیا تھا۔ رہی یہ بات کہ کیا ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے وہ ساتھی جنہوں نے الطاف حسین کی پاکستان دشمنی پر مبنی تقریر کے بعد ان سے ترک تعلق کا اعلان کرکے ایم کیو ایم کو خود چلانے اور خود فیصلے کرنے کا اعلان کیا ہے اپنے سابق قائد سے ترک تعلق کرکے ایم کیو ایم کو بچانے میں کامیاب ہوں گے؟ اور کیا ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی و سینٹ کے اور بلدیاتی اداروں میں حاصل مینڈیٹ کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے؟ یا الطاف حسین سے مارچ 2016ء میں بغاوت کرنے والے مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی قیادت میں جمع ہونے والے اپنی حکمت عملی سے ایسی چال چل جائیں گے کہ جس سے یکے بعد دیگرے آصف حسنین کی طرح مستعفی ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو جائے گی کہ سندھ کے شہری علاقوں میں بڑے پیمانے پر ضمنی انتخاب ہوں گے۔ جس میں ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کو نئی آزمائش سے گزرنا ہوگا۔ ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی رشید گوڈیل کہتے ہیں کہ ’’ایم کیوایم کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا‘‘ اس کا فیصلہ اونٹ کے کوہان میں جمع پانی کا ذخیرہ ختم ہونے پر ہوگا اور پانی کا ذخیرہ ختم ہونے میں پندرہ دن لگتے ہیں‘‘۔ رشید گوڈیل کے تبصرہ پر محشر بدایونی (مرحوم) کا یہ شعر حسب حال ہے کہ:

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ

جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

اس میں کیا شک ہے کہ ماضی کی غلط پالیسیوں اور عاقبت نااندیش فیصلوں کے نتائج وطن عزیز پانچ عشروں سے زیادہ عرصے سے بھگت رہا ہے۔ خواہشات، ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر طے کی جانے والی ریاستی پالیسی سازوں کی ترجیحات، وقتی انتظامی ضرورتوں اور سیاسی مصلحتوں اور گروہی مفادات کے تابع تعصبات کے تحت کئے جانے والے فیصلوں کے نتائج سے ملک و قوم کے حق میں کبھی خیر برآمد نہیں کیا جاسکا ہے۔ اب اگر ہمارے منتخب حکمرانوں اور ’’ریاستی فیصلہ سازوں‘‘ کو ان زمینی حقائق کا ادراک ہوگیا ہے تو ہمیں بھی اپنی ذاتی پسند و ناپسند، خواہشات اور تعصبات کے تحت ان سے ایسے اقدامات کے مطالبات کرنے سے گریز کرنا چاہئے جو آئین اور قانون کے تحت وہ کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ ڈاکٹر فاروق ستار اور ان کے ساتھیوں کو اپنے عمل سے یہ ثابت کرنے کا وقت دینا چاہئے جس میں وہ ایم کیو ایم کو قومی دھارے کی آئین اور قانون کی پاسداری کرنے والی سیاسی جماعت کے قالب میں ڈھال سکے۔ ہمارے ان دوستوں کو جو اس فریب کا شکار ہیں کہ ’’پاکستان صرف ان کے آباؤ اجداد کی قربانیوں سے وجود میں آیا تھا‘‘ باہر نکلنا ہوگا۔ یہ وطن برصغیر کے تمام علاقوں کے مسلمانوں کی اجتماعی جدوجہد سے وجود میں آیا تھا البتہ یہ درست ہے کہ اس کی تحریک اور جدوجہد کرنے کا سہرا ان اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے زعماء کے سر ہے جنہوں نے اس ذہنی حقیقت کے ادراک کے باوجود اس کے قیام کیلئے لازوال قربانیاں دی تھیں کہ یہ ملک اس سرزمین پر نہیں بنے گا، جہاں وہ رہتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت کرنے والوں کو اب اس پر فریب نعرہ کے سحر سے اپنے کارکنوں کو نکالنے کی ضرورت ہے کہ وہی تنہا پاکستان بنانے والے ہیں۔

مزید :

تجزیہ -