امریکہ میں پاکستان کے حق میں ’’آوازِ ہوش‘‘

امریکہ میں پاکستان کے حق میں ’’آوازِ ہوش‘‘

امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل موریل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو دباؤ میں لا کر غیر مستحکم کرنا کسی طرح بھی سود مند نہیں،امریکہ افغان جنگ نہ بھی ہارے تو جیت نہیں سکتا، پاکستان کی امداد بند یا کم کر کے اِس پر دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔البتہ اِس دباؤ سے امریکہ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔مائیکل موریل کا کہنا تھا کہ چین کے تعاون کے باعث پاکستان امریکی امداد سے آزاد ہو چکا، جبکہ امریکہ پاکستان کے فضائی اور زمینی راستوں کا محتاج ہے،اُن کا خیال تھا کہ ایران اور روس کی امداد سے طالبان میں نئی قوت پیدا ہو چکی ہے ان میں نظریاتی عنصر ایسا ہے جسے شکست دینا ممکن نہیں، وہ ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔مائیکل موریل کا خیال ہے کہ نہ صدر ٹرمپ کی پالیسی واضح ہے اور نہ انہوں نے کوئی پلان دیا ہے کہ کتنی فوج بھیجی جائے گی اور اس کا رول کیا ہو گا، جبکہ افغان پالیسی میں افغان حکومت کے کردار کی بھی وضاحت نہیں کی گئی،انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی افواج میں اضافہ ہوتا ہے تو طالبان کی کارروائیاں بھی بڑھیں گی اور اِسی حساب سے امریکہ میں فوجیوں کے تابوت پہنچیں گے تو اندرونِ مُلک سیاسی عدم استحکام پیدا ہو گا افغان مسئلے کا واحد حل سیاسی طالبان کے ساتھ مذاکرات ہیں۔

مائیکل موریل امریکی سی آئی اے کے سربراہ رہے ہیں اِس لئے وہ افغانستان کے حالات کی اُونچ نیچ سے اچھی طرح باخبر ہیں اُنہیں بخوبی معلوم ہے کہ افغان جنگ میں جو اب سولہویں سال میں داخل ہو چکی ہے امریکہ کہاں کھڑا ہے اور اس کے مخالفین کی پوزیشن کیا ہے،اِس لئے انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں جو بات کہی ہے اُس پر اچھی طرح غور کرنے کی ضرورت ہے،لیکن امریکی صدر ٹرمپ جو اپنے حاضر سروس عہدیداروں اور مشیروں کی بات پر کان نہیں دھرتے۔ سی آئی اے کے سابق سربراہ کے تجزیئے کو کیا اہمیت دیں گے؟وہ بڑی آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ ’’مائیکل موریل تو ایک چلا ہوا کارتوس ہے‘‘ ویسے بھی صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران سی آئی اے جیسے اداروں کا مضحکہ اڑانے کے لئے مشہور ہیں اِس لئے یہ کہنا تو مشکل ہے کہ وہ اس آوازِ ہوش پر غور کریں گے جو امریکہ سے اُٹھی ہے،لیکن پاکستان کے لئے اِن خیالات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ سی آئی اے کا ایک سابق سربراہ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوا ہے کہ امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر اپنی مقصد براری نہیں کر سکتا، اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان کو کوئی امریکی محتاجی نہیں ہے،بلکہ یہ امریکہ ہے جو پاکستان کے زمینی اور فضائی راستوں کا محتاج ہے۔یہ اعتراف کوئی معمولی بات نہیں ہے،حالانکہ پاکستان کے اندر اُن لوگوں کی کمی نہیں ہے جو اُٹھتے بیٹھتے مُلک اور حکومت کے اندر کیڑے نکالتے نہیں تھکتے، پہلے جب مستقل وزیر خارجہ نہیں تھا تو انہیں یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ ایسا کیوں نہیں، اور ایک مشیر سے کیوں کام چلایا جا رہا ہے،حالانکہ وزارتِ خارجہ کا قلمدان خود وزیراعظم نے سنبھال رکھا تھا اور یہ کوئی انہونی بھی نہیں، پاکستان میں ہمیشہ بہت سے عہدے وزیراعظموں کے پاس رہے ہیں اور ان پر کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا گیا یہ بھی معمول کی بات ہے کہ اگر کوئی فل وزیر نہیں تو وزیر مملکت نے یہ ذمہ داریاں بطریقِ احسن ادا کیں،اب وزیر خارجہ بن گیا ہے تو انہیں ان کا چہرہ بھی پسند نہیں،پھر بہت سے سیاست دانوں کو اس میں پاکستان کی تنہائی نظر آئی،حالانکہ اگر امریکہ یا کوئی دوسرا مُلک اپنا مفاد پیش نظر رکھ کر اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی کرتا ہے اور پہلے کی طرح پاکستان سے قربت نہیں رکھنا چاہتا تو اس میں ’’تنہائی‘‘ کی کیا بات ہے؟کیا پاکستان نے کوئی قسم کھا رکھی ہے کہ وہ ہمیشہ امریکی کیمپ میں رہے گا اور کبھی اس کے حلق�ۂ اثر سے نکلنے کی کوشش نہیں کرے گا اور اگر کوئی ایسا موقع پیدا ہوتا ہے جسے غنیمت جان کر پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو امریکی جکڑ بندیوں سے آزاد کر لے تو بعض حلقے شور مچا دیں کہ پاکستان تنہا ہونے جا رہا ہے اور اس کی خارجہ پالیسی ناکام ہو گئی، ایسا بالکل نہیں ہے پاکستان نہ قوموں کی برادری میں تنہا ہے نہ خارجہ پالیسی میں کوئی غیر معمولی خرابی ہے، جس پر پریشان ہوا جائے یہ وقتی تبدیلیاں ہیں جو آتی رہتی ہیں،خارجہ پالیسی کوئی جامد و ساکت شے نہیں، جس میں ذرا سی تبدیلی آئے تو تھڑوں میں بیٹھے ہوئے لوگ اسے ناکام قرار دے دیں اور بعض نام نہاد دانشور ان کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کر دیں۔

امریکی سی آئی اے کے سابق چیف کا یہ کہنا کہ پاکستان کو اب امریکی امداد کی ضرورت نہیں رہی اور وہ امریکہ کے اثرو رسوخ سے نکل چکا کوئی معمولی خراج نہیں ہے،جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ادا کیا گیا ہے۔ پاکستان نے اگر56ارب ڈالر کا سی پیک منصوبہ شروع کیا تھا تو اِس پر دُنیا کے اُن ممالک کو اعتراض تو ہونا تھا جو اِس منصوبے کے پوٹینشل سے باخبر تھے اور جنہیں ادراک تھا کہ یہ منصوبہ کس طرح تین براعظموں کو باہم منسلک کر رہا ہے۔گزشتہ روز بھارتی آرمی چیف یہ کہنے پر کیوں مجبور ہوئے کہ سی پیک ہماری خود مختاری کے خلاف ہے، انہیں کہیں نہ کہیں پریشانی تو لاحق ہوئی ہو گی،لیکن بدقسمتی ہے کہ دشمنوں کو جو باتیں معلوم ہیں اندرونِ مُلک حلقے اُن کی اہمیت کا اِس طرح ادراک نہیں رکھتے جس طرح ہونا چاہئے۔

افغانستان میں امریکہ کو جنگی تھیٹر میں جو مشکلات درپیش ہیں،سی آئی اے کے سابق سربراہ کو اُن کا بھی اچھی طرح اندازہ ہے اِس لئے انہوں نے اِس حقیقت کا اعتراف کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا کہ ایران اور روس کی امداد نے طالبان میں نئی قوت پیدا کر دی ہے۔یہ بالواسطہ طور پر اِس بات کا بھی اعتراف ہے کہ پاکستان طالبان کی مدد نہیں کر رہا، جس کا الزام صدر ٹرمپ پاکستان پر لگا رہے ہیں،اِس کا یہ مطلب بھی ہے کہ دُنیا میں ایسے مُلک موجود ہیں جو طالبان کے ساتھ کھڑے ہیں اِن حالات میں اگر افغان طالبان نے امریکیوں اور افغان فوجیوں کو پریشان کر رکھا ہے تو اِس میں حیرت کی کیا بات ہے؟یہ اطلاعات بھی آتی رہتی ہیں کہ افغان فوجی اپنا جدید ترین اسلحہ طالبان کو فروخت کر کے پیسے کھرے کر لیتے ہیں اب اگر یہ اطلاعات درست ہیں کہ افغان فوجیوں نے جدید ترین اسلحہ طالبان کو فروخت کر دیا ہے تو اس سے یہ اندازہ لگانا کیا مشکل ہے کہ افغان نیشنل آرمی کو طالبان سے مقابلے میں مشکلات کیوں درپیش ہیں؟ سابق سی آئی اے چیف نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے اُن پر صدر ٹرمپ کو تو غور کرنا چاہئے اُن پاکستانیوں کے لئے بھی اس میں غور کا مقام ہے، جنہیں ہر جانب مایوسی ہی مایوسی نظر آتی ہے اور وہ آنکھیں کھول کر بدلے ہوئے عالمی منظر کو دیکھنے کی صلاحیتوں سے عاری ہیں یا ان کی آنکھیں خیرہ ہو چکیں اور جنہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی ناکام نظر آتی ہے اگر ایسا ہوتا تو مائیکل موریل پوری صاف گوئی سے وہ کچھ نہ کہتے جو انہوں نے کہہ دیا۔

مزید : اداریہ