انتخابی دفاتر بریانی ، مٹھائی اور مشروبات کے مرکز ، غریب احساس محرومی کا شکار

انتخابی دفاتر بریانی ، مٹھائی اور مشروبات کے مرکز ، غریب احساس محرومی کا ...

لاہور(جاوید اقبال ،عدیل شجاع) کم و بیش پانچ لاکھ کی آبادی والے حلقہ این اے120 کی کم از کم پندرہ فیصد آبادی بدترین غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور ،حلقہ کے ایک لاکھ لوگ تین وقت کا کھانا مشکل سے کھاتے ہیں لیکن دوسری طرف یہاں تمام سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے دفاتر میں مٹھائیاں اور بریانیاں بانٹ رہے ہیں،مقامی افراد کاکہنا ہے کہ سیاسی نمائندوں نے وسائل کا رخ ہماری زندگیاں بدلنے کے لیے نہیں بلکہ ہماری زندگیوں میں احساس کمتری اجاگر کرنے کی طرف موڑ رکھا ہے ۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تقریباًپانچ لاکھ کی آبادی والے اس حلقہ میں تین لاکھ بیس ہزار سے زائد ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔جن میں تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار مرد حضرات اور اسی طرح تقریباً ایک لاکھ بیالیس ہزار خواتین اپنا ووٹ ڈالیں گی۔جبکہ دوسری طرف اس حلقہ میں شامل متوسط طبقہ کی آبادیوں میں شامل ابدالی چوک،ایبک روڈ،احاطہ دین کوچہ غلام محمد،باغ منشی لدھا،بلال گنج ملک پارک اور چاہ پچھواڑا مزنگ کے رہائشیوں اللہ رکھا،نوید حسین،فرید اعوان ، مبشر جٹ،فضل دین،قاسم علی،جاوید بشیر و دیگر نے پاکستان سے بات کرتے کہا کہ اب ہر سیاسی پارٹی کی جانب سے ہمارے علاقوں میں بھی اپنے اپنے انتخابی دفاتر کھولے جا رہے ہیںآج ایک بار پھر سے تمام پارٹیوں کے امیدوار ہماری زندگیاں بدلنے کے دعوے کر رہے ہیں جبکہ اس سے پہلے کسی کو ہمارا خیال تک نہ آیا۔ڈاکٹر فرید اعوان نے بتایا کہ کم و بیش پانچ لاکھ کی اس آبادی والے حلقہ کی پندرہ فیصد آبادی انتہائی غربت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور تمام سیاسی پارٹیوں کے انتخابی جلسوں اور دفاتر میں لاکھوں کا کھانا کارکنان کو کھلا کر یہ لوگ ہماری تقدیر بدلنے کے نعرے لگا رہے ہیں جبکہ اگر یہی پیسہ سیاسی پارٹیوں کی جانب سے اس حلقہ کے مستحق لوگوں پر صرف کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ نہ صرف ان کی زندگی بدلے گی بلکہ اس حلقے کی سیاسی زندگی بھی بدل جائے گی ۔ باغ منشی لدھا کے قاسم علی کا کہنا تھا کہ سچ تو یہ ہے کہ اسی حلقہ میں کم از کم ایک لاکھ لوگ اپنے گھروں میں تین وقت کا کھانا مشکل سے پکاتے ہیں اور یہ سیاسی لوگ ہمارے علاقوں میں آ کر اپنے کارکنوں میں بریانیاں اور مٹھائیاں بانٹ کر ہمارے مسائل ٹھیک کرنے کی بات کر رہے ہیں۔چاہ پچھواڑا مزنگ کے حنیف نے بتایا کہ اگر تمام سیاسی پارٹیوں کے امیدوار صرف پرانے مزنگ میں ہی گھوم کر دیکھ لیں کہ لوگ کن حالات میں رہنے پر مجبور ہیں تو شاید یہ لوگ ووٹ کی امید ہی چھوڑ دیں۔ اکرام بھٹی کا کہنا تھا کہ اگر ووٹ دینا فرض ہے تو کیا ووٹر کو سہولیات زندگی دینا حکومتوں کا کام نہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1