مسلمان قوم کی اجتماعی رائے کا ثمر

مسلمان قوم کی اجتماعی رائے کا ثمر
 مسلمان قوم کی اجتماعی رائے کا ثمر

  


سب سے پہلے تو مَیں معافی کا طلب گار ہوں کہ مجھے کالم کے آغاز ہی میں کچھ تلخ الفاظ استعمال کرنے پڑگئے ہیں۔ کچھ ’’دانشوروں‘‘ کا جب مَیں یہ لغو اور بے ہودہ موقف پڑھتا ہوں کہ پاکستان انگریزوں نے بنایا تھا تو سچی بات ہے، مجھے اپنے جذبات پر قابو نہیں رہتا۔

ایسے تاریخ دانوں کی ذہنی پستی اور گمراہی پر ماتم کرنے کو دل چاہتا ہے جو تاریخ کا ریکارڈ درست کرنے کے نام پر لکھتے ہیں کہ ’’پاکستان کے بانی قائد اعظمؒ نہیں تھے۔ پاکستان بنانے والے تو اصل میں انگریز تھے‘‘۔میں یہ تونہیں کہتا کہ ایسے نام نہاد تاریخ دانوں نے تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا ہوگا، لیکن یہ بات ضرور ہے کہ تحریک پاکستان میں قائد اعظمؒ کے کردار کو مشکوک بنانے کی مذموم کوششیں کسی ملک دشمن ایجنڈے کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ کیا کابینہ مشن پلان برطانوی حکومت نے پیش نہیں کیا تھا؟ کیا کابینہ مشن قیام پاکستان کو روکنے اور اکھنڈ بھارت کے قیام کی خاطر ہندوستان نہیں پہنچا تھا؟ لیکن آل انڈیا مسلم لیگ نے کابینہ مشن کے فارمولے کو اس لئے تسلیم کرلیا ،کیونکہ اس کا مقصد پاکستان کو ایک الگ فیڈریشن اور ہندوستان کو ایک الگ فیڈریشن بنانا تھا ،پھر ان دونوں کے درمیان ایک کنفیڈریشن قائم ہونا تھی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کی جانب سے اس فارمولے کو قبول کرلینے کی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ کا خیال تھا کہ آخر کار اس سے قیام پاکستان کا راستہ نکل آئے گا۔

بہرحال یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ برطانیہ کسی بھی حالت میں ہندوستان کی تقسیم اور مسلمانوں کے لئے الگ آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کے لئے آمادہ نہیں تھا، اسی لئے کیبنٹ مشن نے جو پلان پیش کیا تھا، اس کے مطابق ہندوستان نے ایک متحدہ ملک کے طور پر آزاد ہونا تھا۔ مرکز کے پاس دفاع، امور خارجہ اور رسل و رسائل کے محکمے ہونے تھے اور باقی امور میں صوبوں کو مکمل خود مختاری حاصل ہونا تھی۔ ہندوستان کی تقسیم کے گاندھی اور نہرو سے بھی بڑھ کر مخالف مولانا ابو الکلام نے اپنی کتاب۔۔۔ ’’India Wins Freedom‘‘۔۔۔ میں یہ تحریر کیا ہے کہ کیبنٹ مشن کا پلان اس امر کا واضح اور غیر مبہم اعلان تھا کہ ہندوستان تقسیم نہیں ہوگا۔ ابوالکلام آزاد نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کیبنٹ مشن کا پلان ان کی سوچ کی مکمل طور پر عکاسی کرتا تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ تقسیم ہند کی مخالفت میں نگریزوں اور کانگرس کی سوچ میں مکمل ہم آہنگی تھی۔ پھر یہ سوال کہاں سے پیدا ہوگیا کہ پاکستان انگریز نے بنایا تھا؟ مولانا ابو الکلام آزاد نے بڑے واضح طور پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ مسلم لیگ کا مطالبہ ہندوستان کی تقسیم اور مسلم اکثریت کے علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کا تھا، لیکن کیبنٹ مشن اس مطالبے کے حق میں نہیں تھا۔ نوجوان نسل کی معلومات کے لئے یہ بتانا ضروری ہے کہ جب کیبنٹ مشن کانگرس اور آل انڈیا مسلم لیگ کی قیادت سے مذاکرات کے لئے ہندوستان پہنچا تو اس وقت کانگرس کے صدر ابو الکلام آزاد تھے۔ کانگرس کی طرف سے کیبنٹ مشن سے جس وفد نے مذاکرات کئے، اس کی قیادت بھی ابوالکلام آزاد نے کی تھی۔ سردار پٹیل اور جواہر لال نہرو بھی اس وفد کے ارکان تھے، جنہوں نے کیبنٹ مشن سے کئی ملاقاتیں کیں اور کانگرس کا نقطہ نظر مشن کے سامنے پیش کیا۔

مسلم لیگ اور کانگرس دونوں نے کیبنٹ مشن پلان کو منظور کرلیا، لیکن کانگرس اس پلان پر زیادہ ہی خوش تھی اور اس کو کانگرس کی فتح قرار دیا جارہا تھا، کیونکہ اس پلان میں ہندوستان کی تقسیم نہیں تھی۔ کیبنٹ مشن کے ارکان بھی بہت مطمئن اور خوش تھے کہ ہندوستان تقسیم نہیں ہو رہا۔ یہ بات کالم میں بار بار اس لئے دہرا رہا ہوں کہ عقل کے جن دشمنوں نے یہ پروپیگنڈا اپنا فرض سمجھ لیا ہے کہ پاکستان انگریزوں نے بنایا ہے، وہ بھی یہ جان لیں کہ کانگرس کے صدر ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب میں کیا لکھا ہے۔ قیام پاکستان اور قائد اعظمؒ کے موقف کے سخت مخالف نے بھی یہ شہادت دی ہے۔ انگریزوں کے لئے ہندوستان کی تقسیم کسی طور بھی قابل قبول نہیں تھی۔ اب اس دور کے وزیر اعظم برطانیہ مسٹر اٹیلی کی ایک تقریر ملاحظہ کریں جو اس نے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں 15مارچ 1946ء کو کی تھی۔ اس تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ برطانیہ مسلمانوں کو مسلمان قومیت کی بنیاد پر اپنی الگ اور جداگانہ ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔ برطانوی وزیر اعظم کے الفاظ یہ تھے کہ ’’ مسلمان اقلیت کو ہندو اکثریت کے مفادات کے خلاف ویٹوکاحق نہیں دیا جاسکتا‘‘۔ برطانوی استعمار کے عزائم تو سب پر ہی آشکار تھے کہ وہ تحریک پاکستان کے کسی بھی مرحلے میں قیام پاکستان کے حق میں نہیں تھا۔ قیام پاکستان کی راہ روکنے کی ایک کوشش کیبنٹ مشن پلان بھی تھا۔ قائد اعظمؒ کیبنٹ مشن پلان سے قطعی طور پر خوش نہیں تھے اور یہ بات ابوالکلام آزاد نے بھی تسلیم کی ہے کہ مسلم لیگ نے دباؤ میں آکر اس پلان سے اتفاق کیا تھا۔ دوسری وجہ مسلم لیگ کی جانب سے کیبنٹ مشن پلان کو منظور کرنے کی یہ تھی کہ آخر کار اس سے قیام پاکستان کا راستہ نکل ہی آئے گا، مگر جب کانگرس کے صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد جو اہر لال نہرو نے یہ اعلان کیا کہ کانگرس دستور ساز اسمبلی کے ذریعے کیبنٹ مشن پلان میں تبدیلی اور کمی و بیشی کا حق رکھتی ہے تو قائد اعظمؒ نے کانگرس کی بدنیتی ظاہر ہونے کے بعد کابینہ مشن پلان کو مسترد کردیا۔

ابوالکلام آزاد نے قائد اعظمؒ اور مسلم لیگ کی طرف سے کابینہ مشن پلان کو مسترد کرنے کے فیصلے کا ذمہ دار جواہر لال نہرو کو ٹھہرایا ہے۔ قائد اعظمؒ نے اعلان کردیا کہ کانگرس چونکہ معقولیت کے تمام راستے اور اصول فراموش کرچکی ہے، اس لئے ہمارے لئے اب واحد راستہ یہی ہے کہ ہم مسلمان عوام کی عدالت میں جائیں۔ اب کانگرس سے مفاہمت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی اور ہمارے لئے واحد نصب العین اب قیام پاکستان کا حصول ہے۔ قائد اعظمؒ نے پختہ عزم اور اٹل ارادوں کے ساتھ یہ اعلان فرمادیا کہ اب ہم قیام پاکستان سے کم کسی بھی بات پر سمجھوتہ نہیں کرسکتے، کیونکہ کانگرس کی مسلسل فریب کاریوں کے بعد اب ہمارے پاس کوئی دوسرا راستہ باقی ہی نہیں۔قائد اعظمؒ نے 16اگست 1946ء کو راست اقدام کے آغاز کا دن قرار دے دیا۔قائد اعظمؒ نے اپنا مقدمہ مسلمان قوم کے سامنے رکھ دیا۔یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ برطانیہ کی مسلمان دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر تمام ممتاز مسلمان شخصیات برطانوی سامراج کی طرف سے عطا کئے گئے خطابات اور اعزازات واپس کردیں۔ قائد اعظمؒ کی جانب سے راست اقدام کا اعلان کلکتہ سے لے کر پشاور تک پورے ہندوستان میں پاکستان کے مطالبے کی حمایت میں ایک ریفرنڈم ثابت ہوا۔ مسلمان قوم کے اتحاد، نظم و ضبط اور ایقان و ایمان کے سامنے برطانوی حکومت نہ ٹھہرسکی اور مطالبہ پاکستان منظور کرلیا گیا، اگرمسلمان قوم موثر عوامی جمہوری تحریک کی صورت میں قائد اعظمؒ کی راست اقدام کی اپیل کو کامیاب نہ کرواسکتی تو پاکستان کا قیام ممکن نہ ہوتا۔ مسلمان قوم کی عوامی جمہوری تحریک کے موثر اور بھرپور ہونے کا ثبوت اس سے بڑا اور کیا ہوسکتا ہے کہ 1946ء کے انتخاب میں پورے ہندوستان کی 86 مسلمان نشستوں میں سے 79نشستوں پر مسلم لیگ کو کامیابی حاصل ہوئی۔ گویا 95فیصد مسلمانوں نے قیام پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

قائد اعظمؒ کی مایہ ناز قیادت میں مسلم لیگ برصغیر کے مسلمانوں کی ایک ناقابل تسخیرقوت بن چکی تھی، جس کے نتیجے میں انگریزوں اور ہندو قوم کی اکھنڈ بھارت کی سازش ناکام اور پاکستان کی آزادی کی راہ ہموار ہوگئی۔ مختصر یہ کہ قیام پاکستان مسلمان قوم کی اجتماعی رائے کا ثمر ہے۔۔۔(27اگست کو تھنکرز فورم کی تقریب میں پڑھا گیا)

مزید : کالم