بینظیر قتل کیس کا فیصلہ محفوظ،آج سنائے جانے کا امکان

بینظیر قتل کیس کا فیصلہ محفوظ،آج سنائے جانے کا امکان

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک)انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بینظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت ہوئی اس موقع پر ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر، سابق سی پی او سعود عزیز اور سابق ایس پی خرم شہزاد پیش ہوئے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے کے بعد کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس کا فیصلہ آج سنائے جانے کا امکان ہے۔وفاقی تحقیقاتی ادارے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہر ملزم کیخلاف مضبوط اور ٹھوس شہادتیں ہیں جبکہ سابق سی پی او سعود عزیز سہولت کار ہیں جنہوں نے بینظیر بھٹو کو سکیورٹی نہیں دی۔چوہدری اظہر کے مطابق سابق وزیراعظم کے مقدمہ قتل کے 121 گواہان تھے جن میں سے صرف 68 کے بیانات ریکارڈ کئے گئے جب کہ بے نظیر بھٹو کے ڈرائیور عبدالرحمن کے علاوہ سب سے تفتیش کی گئی۔پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے کہا کہ بے نظیر کے قافلے میں بیک اپ گاڑی میں بابر اعوان اور دیگر لوگ تھے جب کہ بیک اپ گاڑی فرحت اللہ بابر کے کنٹرول میں تھی۔چوہدری اظہر نے بتایا کہ بے نظیر بھٹو قتل کا مقدمہ 8 بجکر 20 منٹ پر درج ہوا تو مقدمہ درج ہونے سے پہلے تفتیش شروع نہیں ہوتی۔سابق صدر پرویز مشرف کے حوالے سے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ پرویز مشرف کی بیرون ملک روانگی کا معاملہ وفاقی حکومت کا اپنا ہے تاہم پرویز مشرف کی حاضری معاف ہوئی تھی انہیں القاعدہ سے خطرہ تھا لیکن ان کے وکیل پیش ہوتے رہے ہیں۔

بینظیر بھٹو قتل کیس

مزید : صفحہ اول