منیٰ 20لاکھ سے زائد عازمین حج کی ’’ لبیک اللھم لبیک‘‘ کی صداؤں سے گونج اٹھا

منیٰ 20لاکھ سے زائد عازمین حج کی ’’ لبیک اللھم لبیک‘‘ کی صداؤں سے گونج اٹھا

جدہ 228مکہ مکرمہ(محمد اکرم اسد)میدان منیٰ 20 لاکھ سے زائد اللہ کے مہمانوں سے ’’لبیک اللھم لبیک‘‘ کی صداؤں سے گونج اٹھا۔ منگل اور بدھ کی درمیانی رات ہی سے عازمین حج کے قافلے لبیک اللھم لبیک پڑھتے ہوئے منیٰ کوروانہ ہوئے جس کا سلسلہ صبح تک چلتا رہا۔ سفید لباس میں ملبوس یہ اللہ کے مہمان پورا دن میدان منیٰ میں جو دنیا کا سب سے بڑا خیمہ شہر ہے، عبادت میں مصروف رہے۔ میدان منیٰ میں فائر پروف خیموں کی تعداد 26 لاکھ عازمین کے لئے وافر ہے۔ اندرون سعودی عرب سے کوئی دو لاکھ کے قریب سعودی مقیم غیرملکی فریضہ حج کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔ دنیا کے ہر کونے سے آئے ہوئے عازمین کے چہرے خوشی اور جذبات سے ٹمٹمارہے تھے کہ اللہ رب العزت نے انہیں اتنی بڑی سعادت نصیب فرمائی ہے اور سجدہ شکر ادا کررہے ہیں۔ ان اللہ کے مہمانوں میں بوڑھے، جوان، خواتین و بچے شامل ہیں اور سب کی زبان پر ایک ہی ترانہ بندگی ’’لبیک اللھم لبیک‘‘ ہے۔ اے اللہ میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں، خارجی عازمین کو 9ہزار بسوں میں میدان منیٰ پہنچایا گیا۔ عازمین حج آج منیٰ میں عصر، مغرب، اور عشا کی نمازیں ادا کریں گے۔ سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے کہا کہ ایک لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکار حجاج کرام کی حفاظت کیلئے موجود ہیں۔ مدینہ منورہ کے ہسپتالوں جو بیماری کی وجہ سے داخل ہیں ان کو براہ راست ایمبولینس کے ذریعے میدان عرفان پہنچادیا گیا تاکہ وہ حج کا رکن اعظم بحسن و خوبی ادا کرسکیں۔ فرزندان اسلام میدان عرفات حج کا اہم رکن ’’وقوف عرفہ‘‘ ادا کرنے پہنچ گئے فجر کی نماز جمعرات کی صبح منیٰ میں ادا کر کے عازمین حج کے قافلے نعرہ بندگی ’’ اے اللہ میں حاضر ہوں‘‘ حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں لگاتے ہوئے یہ فرزندان توحید جو دنیا کے ہر خطے سے لاکھوں کی تعداد میں پہنچے ہیں یہ اہم فریضہ صاحب استطاعت ادا کرتے ہیں، میدان عرفات میں سبز و شاداب درختوں کے بیچ خیمے نصب ہیں جن میں سفید احرام میں ملبوس عازمین حجاج اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہے، حج کا خطبہ ہو گا اور اس کے بعد علیحدہ علیحدہ تکبیر کے ساتھ ظہر اور عصر قصر کر کے پڑھی جائیگی۔ حجاج کرام مسجد نمرہ میں جا کر خطبہ بھی سن سکتے ہیں رش کی وجہ سے وہ اپنے خیموں میں بھی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ عرفات میں حکومت کی طرف سے اور صاحب حیثیت اداروں کی طرف سے پانی، جوسوں، پھلوں اور مختلف نوع واقسام کی اشیاء حجاج کو فراہم کی جا رہی ہیں۔ جبکہ خیموں میں معلمین کی طرف سے دوپہر کے کھانے کا بھی بندوبست ہوتا ہے، سعودی حکومت نے حجاج کی حفاظت کے لئے سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کر رکھے ہیں ۔گرمی کی تپش کو کم کرنے کے لئے عرفان میں پانی کی فوار والے پنکھے نصب کئے گئے ہیں جو موسم کی گرمی کو ٹھنڈ ک میں بدلتے ہیں۔خصوصی دعاؤں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے کیونکہ یہ قبولیت کا وقت جہاں نہی عن المنکر کی طرف سے 8زبانوں میں آگہی پروگرام ترتیب دیا ہوا ہے مزدلفہ روانہ ہو جائیں گے جہاں وہ رات قیام کرینگے اور شیطان کو کنکریاں مارنے کے لئے کنکریاں جمع کرینگے۔ دریں اثنا آ آج خانہ کعبہ کا غلاف بھی تبدیل کیا جا رہا ہے ۔

منیٰ۔ حج

مزید : صفحہ آخر