رسول اللہؐ سے ’’ملاقات‘‘

رسول اللہؐ سے ’’ملاقات‘‘

وہ گھبراہٹ جو اپنی روسیاہیوں کے باعث مسجد نبوی ؐ میں داخلے کے تصور سے پیدا ہو گئی تھی ایکاایکی ختم ہو گئی، بیت اللہ میں جلال ہی جلال تھا، مسجد نبوی ؐ میں جمال ہی جمال معلوم ہوا جیسے کوئی آغوش کھل گئی ہو، فخر و مسرت کا ایک عجیب احساس ہو گیا۔ باب عمرؓ باب مجیدی اور باب عثمانؓ سے باہر کا فرش جو ہر دروازوں کے سامنے بچھا ہوا ہے وہاں تمام دن کتوبروں کی ٹکڑیاں اُڑتی اور بیٹھتی ہیں، یہاں بدوؤں کے بچے گیہوں کے لفافے کے لئے صدا دیتے ہیں، کبوتر اُڑ اُڑ کر دانے چنتے اور رہ رہ کر چکر کاٹتے ہیں، ہمارے ہاں انسانی ہاتھ کے خدشے سے کبوتر اُترتے ہوئے ہچکچاتے ہیں، لیکن یہاں انہیں کوئی خدشہ نہیں وہ آپ کے آس پاس اُڑتے پھرتے اور چنتے ہیں، ان کی طرف بڑھیں تو وہ پروا کا دائرہ بنتے اور پھریری لیتے ہیں، ہم داخل ہوئے تو نماز عصر کی صفیں کھڑی ہو رہی تھیں اور یہی پہلی نماز حرم نبوی ؐ میں ادا ہو رہی تھی ظاہر ہے کہ جو درجہ نماز کا یہاں ہے وہ مسجد الحرام کے سووا اور کہیں نہیں؟ خود جبیں رسالت ؐ یہاں بار گاہ ایزدی میں جھکتی رہی ہے یہاں کی ایک نماز ہزار نمازوں کے برابر ہے یہاں کا ہر ذرہ جنت ہے، جنت اور کیا ہوگی کہ سامنے رسولﷺ خدا سو رہے ہیں۔ کوئی لمحہ درود و سلام اور تسبیح و تکبیر سے خالی نہیں یہ تسبیح و تہلیل قرآن و حدیث، ذکر و افکار، نوافل و وظائف اور دُعا و صفا کی دنیا ہے اس کی بنیادیں وہی ہیں جو رسول اللہﷺ کی روح ہے امہات المومنین کی حیا چاروں طرف محیط ہے۔ صحابہؓ کی آوازیں گندھی ہوئی ہیں اور اہل بیت بولتے چالتے ہیں، صرف محسوس کرنے کی ضرورت ہے اور احساس کسی کسی کو ملتا ہے۔

نماز کعبتہ اللہ کی ہو یا مسجد نبوی ؐ کی طویل نہیں ہوتی، ہمارے ہاں کی مسجدوں کے امام طول کھینچتے ہیں، لیکن حرمین میں ہر نماز اختصار سے ہوتی ہے اور خضوع و خشوع پیدا کرتی ہے۔ کعبتہ اللہ میں محسوس ہوتا ہے کہ اللہ کے سامنے کھڑے ہیں۔ مسجد نبوی ؐ میں معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اللہ کا رسولﷺ دیکھ رہا ہے وہ شورو شغب نہیں، جو ہمارے ہاں مسجدوں میں نماز کے بعد عام ہوتا ہے۔ ایک عجیب سکون ہے، جو نماز سے پہلے نماز کے دوران اور نماز کے بعد چھایا رہتا ہے، بعض ٹکڑیوں میں دورۂ حدیث ہوتا ہے اس عرض سے مختلف ممالک کے علماء حلقہ باندھ کر درس دیتے ہیں لیکن ہمارے طرح کے واعظوں کی طرح نہیں جو حلقہ درس کو سر پر اٹھا لیتے ہیں اور دھنیں تراش کر بزعم خویش قرآن، حدیث کا درس دیتے ہیں۔۔۔ ہمارے واعظ قرآں و سنت پڑھانے سے زیادہ اپنے علم اور گلے کی دھاک بٹھاتے ہیں،لیکن حرمین میں اللہ محمد ؐ کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے باقی سبھی کچھ عجز و الحاح ہے یا سوزو گداز، یہاں کوئی اکڑ نہیں، کوئی تمکنت نہیں، کوئی شاہی نہیں، کوئی دولت نہیں۔ یہاں وہی سب سے زیادہ اکڑ والا ہے جو سب سے زیادہ عاجز ہے۔ وہی باتمکین ہے جو سب سے زیادہ منکسر ہے۔ دیہ شاہ ہے جو گدا اور وہی دولت والا ہے جو اللہ کا بھکاری ہے۔

یہاں کسی دنیوی عزت کو ترجیح نہیں، یہاں ترجیح صرف عشق نبوی ؐ کو ہے، کسی کو کسی سے سروکار نہیں، سب کو ایک ہی چوکھٹ سے سروکار ہے جو آتا ہے اسی کا ہو کر آتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1