حج کے فوائد ثمرات۔۔۔! جب سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں

حج کے فوائد ثمرات۔۔۔! جب سارے گناہ معاف ہو جاتے ہیں

حج اسلام کا ایک اہم فریضہ اور عبادت ہے جس میں حکمتوں اور مصلحتوں کے خزانے بھرے پڑے ہیں‘ جو انسان کے لیے دنیا اور آخرت کی سربلندی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اس لیے حج ہر کلمہ گو‘ صاحب حیثیت مسلمان پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے‘ جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا: 

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی شہادت اور رسول اکرمؐ کی رسالت کی شہادت‘ اقمت صلوٰۃ‘ زکوٰۃ کی ادائیگی‘ رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔‘‘ (بخاری‘ مسلم)

مختلف احادیث میں اس کی مزید وضاحت موجود ہے۔ حج کی فرضیت سن نو یا دس ہجری میں ہوئی۔ حج کے اہم فائدوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اس کی وجہ سے دنیوی الائش سے اپنے آپ کو پاک وصاف کر سکتا ہے‘ جیسے کہ فرمان نبوی ہے جو اس گھر کی زیارت (چاہے عمرہ کے لیے ہو یا حج کے لیے) اس طرح کرے کہ اس دوران وہ ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچا رہے تو وہ ایسے واپس لوٹے گا جیسے کہ آج ہی اس کی پیدائش ہوئی ہو۔ (بخاری ومسلم)

نیز آپؐ نے فرمایا: ’’ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کے لیے کفارہ ہے اور حج مبرور کا صلہ لازمی جنت ہے۔‘‘ (بخاری ومسلم)

لیکن یہ عظیم صلہ اس بندہ خوش نصیب کے لیے ہے جو حج یا عمرہ شرعی اصولوں واحکام کی روشنی میں انجام دے‘ یقیناًوہ اس گھر کی عظمت اور یہاں کی دعاؤں کی برکت کے نتیجہ میں پاک وصاف ہو کر واپس اپنے وطن لوٹے گا‘ جو سب سے بڑی نعمت ہے۔ بلکہ انبیاء کرام کی دنیا میں بعثت کا اہم مقصد یہی ہے کہ وہ انسانوں کا تزکیہ کریں‘ انہیں اندرونی بیماریوں وعیوب سے پاک کریں اور اخلاقی بلندیوں پر فائز کریں۔ قلب ودماغ کے تزکیہ کے لیے ایک بڑا ذریعہ نمازوں کی پابندی‘ زکوٰۃ کی ادائیگی‘ روزوں کا اہتمام اور شرعی طریقہ سے حج کی انجام دہی ہے۔ چنانچہ ایک حاجی جب احرام کے سیدھے سادے لباس میں تلبیہ بلند کرتا ہے:

لَبَّیْکَ، اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ

’’حاضر ہوں میں میرے مولا! حاضر ہوں‘ تیرا کوئی شریک اور ساجھی نہیں۔‘‘

گویا لبیک کا ترانہ توحید الٰہی کی شہادت اور عظمت الٰہی کا اعتراف ہے کہ ہم ہر قسم کے شرک سے اپنے آپ کو بری کر رہے ہیں کہ الٰہی! تیرے سوا نہ کوئی اس قابل ہے کہ ہم اس کی بندگی کریں اور نہ ہی کوئی اس قابل ہے کہ ہم اپنی مصیبتوں میں اس کی طرف نظر اٹھائیں اور نہ ہی کوئی اس قابل ہے کہ ہماری کسی مصیبت کو دور کر دے۔ تلبیہ کو بلند آواز سے پڑھنے میں یہی حکمت ہے کہ اس توحید کو نہ صرف قبول کریں بلکہ اس کا اعلان کریں۔

چنانچہ حج کے اہم فائدوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی اپنی عبادت میں اخلاص اور للہیت پیدا کرنا سیکھے بلکہ کعبۃ اللہ کی بنیاد ہی اسی توحید پر ہے۔ جیسے کہ فرمان الٰہی ہے کہ جب ہم نے ابراہیم کو اس گھر کی تعمیر کا حکم دیا تا کہ کوئی میرے ساتھ شرک نہ کرے اور میرے گھر کا طواف کرنے والوں‘ قیام کرنے والوں‘ رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک وصاف رکھا جائے۔ لہٰذا اس گھر کی تعمیر کے بعد حضرت ابراہیمؑ نے ندا دی کہ لوگو! اس گھر کی طرف چلے آؤ اور اللہ نے اس ندا کو دور دور تک پہنچایا۔ چنانچہ اس وقت سے آج تک یہ گھر عبادت کرنے والوں سے ایسا آباد ہے کہ اس کی مثال کسی اور جگہ نہیں دی جا سکتی اور ہر آنے والا مختلف فائدوں سے مالا مال ہو کر واپس لوٹتا ہے۔ حج کے اہم فائدوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے سے ملاقات کر کے ان کے دکھ سکھ کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ایک دوسرے کے لیے خیر خواہی اور وعظ ونصیحت کا کام اور خیر بھلائی میں آپس میں تعاون کریں اور جو کچھ رشد وہدایت کی باتیں ہیں وہ ایک دوسرے کے درمیان عام کریں تا کہ دعوت وتبلیغ کا کام بھی انجام پا سکے۔ کیونکہ یہیں سے دینی دعوت پھیلی اور توحید کی کرنیں پھوٹیں‘ لہٰذا زائرین بیت اللہ کو چاہیے کہ کعبۃ اللہ اور مسجد نبوی میں موجود علماء کرام سے خصوصی طور پر استفادہ کریں اور علماء کرام کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ بطریق احسن انجام دیں۔ غرض یہ دن سیکھنے سکھانے کے ہیں چاہے قیام مکہ مکرمہ میں ہو یا وقوف منیٰ‘ عرفات یا مزدلفہ یا زیارت مسجد نبوی کے دن‘ ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں کے حق میں پیکر محبت بن جائے۔ درس وتدریس کے معاملات میں آدمی کو عجز وانکساری اختیار کرنی چاہیے کیونکہ تکبر علمی راستوں کو بند کر دیتا ہے اور متکبر شخص دینی خزانوں سے محروم ہو جاتا ہے۔ جیسے کہ مشہور تابعی حضرت مجاہدؒ فرماتے ہیں کہ علم شرمانے اور تکبر کرنے والے حاصل نہیں کر سکتے۔ لہٰذا اس میں مردوں اور خواتین کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ ویسے بھی علم دین کے حصول کی اس قدر فضیلت ہے کہ نبیؐ نے فرمایا: ’’جو علم کی تلاش میں چلے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دے گا۔‘‘ اور ایک صحیح حدیث میں علم کی بڑی عمدہ مثال بیان کی گئی ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے جو ہدایت اور علم دے کر مبعوث فرمایا ہے اس کی مثال اس بارش کی ہے جو زمین پر برستی ہے لیکن زمین اپنی صلاحیت کے مطابق مختلف اثر دکھاتی ہے۔ ایک حصہ زمین کا وہ ہے جو زرخیز ہے بارش کا پانی گرتے ہی وہاں سے سبزہ لہلہا اٹھتا ہے اور ایک حصہ ایسی نشیبی زمین کا ہے جہاں سبزہ تو نہیں اٹھتا لیکن پانی وہاں رک جاتا ہے‘ انسان اور مویشی اس سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔ اور ایک حصہ ایسی چٹیل زمین کا ہے جہاں نہ سبزہ اگتا ہے اور نہ ہی پانی وہاں رکتا ہے۔ بلکہ بہہ جاتا ہے۔۔۔ یہی مثال علم دین حاصل کرنے والوں کی ہے کہ کچھ خود بھی فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کے ذریعہ دوسرے بھی مستفید ہوتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو خود تو عمل نہیں کرتے لیکن دوسرے ان کے علم سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو نہ خود فائدہ اٹھاتے ہیں اور نہ ان سے کوئی دوسرا فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لہٰذا حج کے اس موقع پر علم دین کی نشر واشاعت کے لیے بھر پور فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن علم دین سے مراد وہ علم ہے جو خالص قرآن وسنت سے ماخوذ ہو۔ قرآن وسنت کو چھوڑ کر شخصی آراء اور لوگوں کے نظریات اور خیالات پر اصرار کا یہ موقع نہیں اور وہ لوگ صحیح معلومات کے بغیر دوسروں کے لیے مسائل بیان کرتے ہیں یہ بھی سخت غلطی ہے‘ کیونکہ مطلوبہ علم کے بغیر مسائل بیان کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ حج کا ایک اہم فائدہ نوافل‘ تلاوت قرآن مجید‘ طواف بیت اللہ اور ذکر واذکار کی کثرت ہے‘ لہٰذا تمام حجاج اور زائرین بیت اللہ کو چاہیے کہ قیام مکہ کے دوران زیادہ سے زیادہ اپنا وقت نوافل‘ طواف‘ ذکر واذکار اور تلاوت قرآن مجید میں لگائیں تا کہ نیکیوں میں اضافہ کر سکیں اور چلتے پھرتے تسبیح وتہلیل کا ورد جاری رکھیں اور عجز وانکساری کے ساتھ کثرت سے دعائیں کرتے رہیں۔ اور یہی وہ جگہ ہے جہاں آدمی اپنی نذریں جو اللہ کی اطاعت کے لیے مانی گئی ہوں پوری کرے۔ گو کہ نذر ماننے کا کوئی فائدہ نہیں جیسے کہ رسول اکرم ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ ’’نذر کوئی خیر نہیں لا سکتی۔۔۔ تا ہم اگر کسی نے اچھے کام کی نذر کی ہو تو اسے چاہیے کہ وہ پوری کرے۔‘‘ لہٰذا جس نے یہاں نماز یا طواف یا کسی اور عبادت کی نذر مانی ہو وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قیام مکہ کے دوران پوری کر لے۔

حج کے اہم فائدوں میں سے ایک دنیا کے مختلف علاقوں اور گوشوں سے آنے والوں کی ممکنہ حد تک خبر گیری اور تعاون کرنا ہے۔ یہاں آنے والے کبھی اتفاقیہ حادثات یا مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں جیسے کبھی کسی کے پیسے گم ہو جائیں‘ کوئی راستہ بھٹک جائے یا بیمار ہو جائے یا اس کے ضروری کاغذات گم ہو جائیں تو کوشش کی جائے کہ اس کی مدد کریں تا کہ وہ اپنے آپ کو تنہا اور بے سہارا نہ سمجھ بیٹھے‘ بلکہ حج سے آدمی یہ سبق حاصل کرنے کی کوشش کرے کہ اس سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے‘ چاہے وہ طواف کے وقت ہو یا قیام عرفات ومزدلفہ یا منیٰ میں ہو۔

اگر اس طرح ہر شخص دوسروں کو آرام پہنچانے کا جذبہ پیدا کرے تو ہر ایک کو فائدہ ہو گا اور کسی کو کوئی تکلیف نہیں ہو گی اور ضرورتمندوں کی خبر گیری کا ایک طریقہ قربانی ہے۔ اگر کوئی شخص ضروری قربانی جو حج تمتع یا قِران کا حصہ ہے اس کے علاوہ بطور نفل کے زیادہ دینا چاہے تو اس کے لیے یہ بہترین وقت ہے تا کہ اس گوشت سے دوست احباب اور ضرورتمند فائدہ اٹھا سکیں۔ خود رسول اکرم ؐنے منیٰ میں سو اونٹ قربان فرمائے تھے۔

میں اس موقع پر اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں اخلاص عمل اور دینی معلومات میں گہرائی عطا فرمائے‘ حق کو دلیل کے ذریعے پہچاننے اور عمل کرنے کی توفیق بخشے‘ تمام حجاج اور زائرین بیت اللہ کی محنتیں قبول فرمائے اور وہ اس طرح اپنے گھر واپس لوٹیں کہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوں اور نیکیوں سے ان کے نامۂ اعمال بھرے ہوئے ہوں۔

مزید : ایڈیشن 1