سرگودھا یونیورسٹی برق رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرنے لگی

سرگودھا یونیورسٹی برق رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرنے لگی

زندگی جسم اور روح کا مجموعہ ہے اور انسانی جبلتیں اسی کی فطرت ہے۔ جب جبلتیں خود سر ہوجائیں تو انہیں صحیح حالت میں لانے کے لئے تعلیم و تربیت کی ضرورت پڑتی ہے۔ تعلیم انسان کو کامیاب زندگی گزارنے کے گُر سکھاتی ہے کہ وہ انسانیت کی معراج تک پہنچ جائے۔ تعلیم ہی انسان کو زمین سے آسمان تک لے جاتی ہے۔ تعلیم سے مراد تربیت و راہنمائی ہے۔ تعلیم کی ایک قسم وہ ہے جو ہم والدین اور زمانے سے حاصل کرتے ہیں اور دوسری باقاعدہ (Farmal) تعلیم ہے جو ہم تعلیمی اداروں میں حاصل کرتے ہیں۔

سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس بھی ایک ایسا ہی تعلیمی ادارہ ہے جو بڑی محنت اور لگن سے علمی و فکری افق پر رنگ بکھیر رہا ہے۔ یہ سرگودھا یونیورسٹی کا سب کیمپس ہے جو پرائیویٹ پارٹنرشپ کی بنیادوں پر کام کر رہا ہے۔ لاہور کیمپس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری جو معاشیات جیسے تکنیکی علم میں پی ایچ ڈی ہیں،سے گزشتہ روز مکالمہ ہوا جس سے انہوں نے کئی اہم سوالات کے مناسب جواب دیئے۔ انہوں نے بتایا کہ ہم شبانہ روز محنت سے طلبا و طالبات کی علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔ یہ کیمپس بتالیس کینال پر مشتمل ہے۔ جس میں 70 کمرہ جماعت اور متعدد دفاتر برائے اساتذہ انتظامیہ، لیبارٹریز اور لائبریری موجود ہیں۔ ستمبر 2012ء میں قائم ہونے والے اس تعلیمی ادارے میں چار سالوں میں تقریباً ساڑھے پانچ ہزار طلبا و طالبات مختلف شعبہ جات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اکرم چودھری نے مزید بتایا کہ ہم بنیادی طور پر تعلیمی میدان میں حکومت کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اتنی بڑی تعداد میں طلبا و طالبات کی تعلیمی، علمی، ثقافتی ا ور فکری پیاس بجھانے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں صبح ساڑھے آٹھ بجے کلاس شروع ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ شام چار بجے تک چلتا ہے۔ بعض مضامین میں شام کی کلاسز بھی ہیں جو رات سات بجے تک جاری رہتی ہیں۔ ہم جہالت کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ہماری بیس (20) بسیں طلبا و طالبات کو صبح یونیورسٹی لاتی ہیں اور سہ پہر چھٹی پر بحفاظت واپس گھروں اور ہوسٹلوں میں پہنچاتی ہیں۔ زیادہ تعداد اپنی سواری اور لوکل بسوں اور رکشوں پر شہر سے دور تعلیم حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں۔

ڈائریکٹر محمد اکرم چودھری سے پوچھا کہ اساتذہ کے بارے میں بتائیں تو انہوں نے کہا تقریباً دو سو اساتذہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور انتہائی محنتی ہمارے کیمپس میں موجود ہیں۔ ان میں پچاس پی ایچ ڈی اساتذہ ہیں اور محض جز وقتی بھی کام کر دیتے ہیں جنہیں ان کی تعلیم اور تجربہ کے مطابق مناسب معاوضہ دیا جاتا ہے۔

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا

کہ صبح شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں

یہ تعلیمی ادارہ در اصل سرگودھا یونیورسٹی کا ذیلی ادارہ ہے جس کی حیثیت پرائیویٹ پارٹنرشپ کی ہے۔ کامیاب طلبا و طالبات کا رزلٹ کارڈ سرگودھا آفس سے جاری ہوتا ہے اور ڈگری بھی وہیں سے دی جائے گی ،ہم ان کی ہدایات کے اور دیئے ہوئے کورس کے مطابق تعلیم دیتے ہیں، بڑی دیانت داری سے امتحان لے کر نتائج تیار کرتے ہیں اور یہ صرف اور صرف اس لئے ممکن ہے کیونکہ انتہائی سنجیدہ اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی بڑی تعداد بڑی جانفشانی سے کمرِ ہمت باندھے ہوئے ہے۔ جدید علوم سے آراستہ یہ اساتذہ ملکی اور غیر ملکی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں سابقہ اداروں سے حاصل کردہ تجربہ سے وہ یہاں کے ماحول کو پوری طرح علمی انداز کا بنائے ہوئے ہیں انہی کی وجہ سے طلبا و طالبات میں جبلتِ تجسس کی تسکین ہوتی ہے اور تحقیق کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد اکرم چودھری ڈائریکٹر سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس نے بات جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ تحقیق کے میدان میں جلد ہی اہم کردار ادا کریں گے۔ دس علوم میں ایم فل کی تعلیم گزشتہ سال تک جاری تھی اب طلبا و طالبات مقالہ لکھنے میں مصروف ہیں جہاں ہمیں ضرورت ہوتی ہے ہم دیگر یونیورسٹیوں سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ کی جز وقتی خدمات حاصل کر لیتے ہیں وہ اپنی تحقیق سے ہمیں فکری مدد مہیا کرتے ہیں۔ خوبصورت عمارت اپنی جگہ لیکن افکارِ تازہ کی اپنی اہمیت ہے۔

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود

کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

چودھری محمد اکرم نے بتایا کہ ہمارے یہاں 33۔ڈسپلن اور 18 پروگرام ہیں۔ جنہیں مختلف گروپوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اتنے کم عرصہ میں دیگر ہم پلہ یونیورسٹیوں کی نسبت یہاں ہزاروں طلبا و طالبات کے لئے بہترین آموزش کا ماحول اور رہنمائی میسر ہے۔ بیس ہزار سے زائد کتابوں پر مشتمل خوبصورت لائبریری موجود ہے۔ ڈیجیٹل لائبریری بھی ہے۔ فوٹو کاپی کرانے اور انٹر نیٹ کی سہولت بھی موجود ہے۔ DPT میں طلبا و طالبات بڑے انہماک سے تعلیم حاصل کرتے ہیں ان کے لئے دو بڑی لائبریریز موجود ہیں جہاں جدید تحقیقی آلات دستیاب ہیں جبکہ دو اہم ہسپتالوں سے مشق کرنے کا الحاق کیا ہوا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے لئے یونیورسٹی کا ہونا نہایت ضروری ہے ہم نے ہر لحاظ سے انتظامی، علمی، لائبریری، لیبارٹری اور کمرہ جماعت کے امور کو بہتر انداز سے نپٹانے کے لئے بہترین انتظام کیا ہوا ہے۔ ڈائریکٹر کے بعد پروفیسر ڈاکٹر شہباز عارف ڈین آف سوشل سائسنز، پروفیسر ڈاکٹر محمد معظم ڈین آف سائنسز موجود ہیں جبکہ انتظامی امور سنبھالنے کے لئے پروفیسر افشی یحییٰ خاں رجسٹرار کی حیثیت سے کام کر رہی ہیں تمام مضامین کی مجالس بھی فعال ہیں جبکہ سپورٹس بورڈ، ڈرامہ ٹک سوسائٹی، میوزک سوسائٹی، سائنس سوسائٹی، ریاضی سوسائٹی اور دیگر کئی ایک مجالس طلبو طالبات کی ثقافتی تربیت کر رہی ہیں۔ ڈسپلن کے مسائل سے نپٹنے کے لئے ڈسپلن کمیٹی اور پراکٹوریل بورڈ جس کے چیئرمین ڈاکٹر جاوید اقبال ندیم (راقم) ہیں۔

اساتذہ کے علاوہ 125 دیگر ملازمین خدمت کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔ حال ہی میں قائم کی گئی ریسرچ سوسائٹی بھی موجود ہے جس کے انچارج ڈاکٹر سلیمان احمد لودھی انتہائی فعال ہیں۔ڈے کیئر آفیسر محمد کاشف اور ایڈمن آفیسر محمد بشیر ہر وقت کہیں نہ کہیں انتظامی امور سر انجام دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ مسٹر ابرار احمد اکاؤنٹس کے معاملات سنبھالے ہوئے ہیں۔

فارغ اوقات میں بہت بڑا لان، لائبریری اور کیفے ٹیریا سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ کوارڈینیٹر کا انتظام کیا گیا ہے جو پہلے پیریڈ سے لے کر آخری پیریڈ تک طلبا و طالبات اور اساتذہ کی مدد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ گارڈز، چوکیدار، غرضیکہ ہر کام کے لئے کوئی نہ کوئی خدمت گار ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔

ڈائریکٹر محمد اکرم چودھری نے بتایا کہ سرگودھا یونیورسٹی لاہور کیمپس میں ہم نصابی سرگرمیاں طلبا و طالبات کی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ہم یوم پاکستان، یوم قائد، یوم اقبالؒ ، یوم آزادی کے علاوہ کبھی سال میں ایک طلباء ہفتہ مناتے ہیں جس میں صبح سے شام تک طلبا و طالبات اساتذہ کی نگرانی میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ سیمینار کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔

اسلامک سوسائٹی، ایڈونچر کلب، کلچرل سوسائٹی، بلڈ ڈونیشن سوسائٹی اپنی اپنی تقریبات کا اہتمام سارا سال کرتی رہتی ہیں۔ جیتے والے طلباو طالبات بلکہ ہر حصہ لینے والے کو میرٹ سرٹیفکیٹ دیئے جاتے ہیں نگران اساتذہ کی حوصلہ افزائی کے لئے شیلڈ پیش کی جاتی ہیں۔ اساتذہ کے لئے سالانہ ڈنر اور رمضان المبارک میں یونیورسٹی کی طرف سے افطاری کا اہتمام کیا جاتا ہے۔طلبا و طالبات کی تعلیمی سیر کے علاوہ اساتذہ کے لئے صحت افزا مقام کی سیر کا انتظام کیا جاتا ہے۔

ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اکرم سے پوچھا گیا کہ اتنا اہم انتظام کرنے پر آپ کی فیس یقیناً زیادہ ہو گی کہ پرائیویٹ پارٹنرشپ میں سرمایہ لگا کر آپ کمانا بھی چاہیں گے۔ تو انہوں نے بتایا کہ ایسا ہرگز نہیں کیا ہم معاشی فائدہ کے بجائے تعلیمی خدمت کی طرف زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ ہماری فیس شہر میں موجود تمام نجی یونیورسٹیوں سے کافی کم ہیں۔ جبکہ ہر سال تقریباً 18 لاکھ روپے مستحق اور ضرورت مند طلبا و طالبات کی فیس معاف کر دی جاتی ہے۔ تقریباً تین سو طلبہ و طالبات کی ٹیوشن فیس امسال معاف کی گئی یونیورسٹی آف سرگودھا لاہور کیمپس میں ایسے طلبا و طالبات بھی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کا تعلق انتہائی غریب گھرانوں سے ہے۔ بلا تخصیص پرڈسپلنز میں جو طلبا و طالبات پہلی پوزیشن حاصل کرتے ہیں انہیں سکالرشپ دیا جاتا ہے۔ فیس تاخیر سے دینے یا دیگر وجوہات پر ہونے والے جرمانہ میں بھی انتہائی کمی کر دی جاتی ہے۔ کمپیوٹر سائنسز اور آئی ٹی کی تعلیم کے لئے لیبارٹریز موجود ہیں۔ قابل اور تجربہ کار انسٹریکٹرز کی مدد اور نگرانی میں طلبا و طالبات تجربات سے گزرتے ہیں۔ کیمپس خبرنامہ کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں مختلف اعلانات اور خبریں شائع کی جائیں گی۔

یونیورسٹی آف سرگودھا لاہور کیمپس کے مختلف مضامین کے طلبا و طالبات اور اساتذہ سے ملاقات رہتی ہے وہ اپنے علمی و فکری مسائل کا حل تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تمام مضامین میں کئی ایک ذہین طلبا و طالبات موجود ہیں گزشتہ سال DPT کے طلبا و طالبات نے اول، دوم اور سوئم پوزیشن حاصل کرتے ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

کھیلوں اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی دیگر تعلیمی اداروں میں مقابلہ جیت کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔

مزید : ایڈیشن 2