قربانی کا صحتمند جانور کیسے خریدا جاسکتا ہے؟

قربانی کا صحتمند جانور کیسے خریدا جاسکتا ہے؟
قربانی کا صحتمند جانور کیسے خریدا جاسکتا ہے؟

  

پاکستان میں لوگ وہی جانور خریدتے ہیں جو ان کی رینج میں آتا ہے، ورنہ بڑے جانور میں حصہ ڈال دیتے ہیں ۔عید کے سیزن میں بیوپاری بڑے بڑے اور موٹے موٹے اور چربی شدہ جانوروں کو مارکیٹ میں لاتے ہیں۔ جن میں بھینس گائے اونٹ بھیڑ اور بکریاں شامل ہوتے ہیں۔ یہ جانور غریبوں سے سستے داموں خرید کر منڈی میں بھاری بھر رقم میں بیچ دیئے جاتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں ناجائز منافع ۔ اس ناجائز منافع کو بہت سے لوگوں نے کاروبار کا نام دے رکھا ہے۔ یہ کاروبار پورے ملک میں جاری و ساری ہے۔ اسکی کئی مثالیں موجود ہیں۔ بیوپاری حضرات چرواہے سے دنبہ اور بکرا زیادہ سے زیادہ پندرہ ہزار روپے میں خریدتے ہیں اور وہی دنبہ، بکرا کراچی کی منڈی میں ایک لاکھ روپے سے زائد قیمت میں فروخت کر دیتے ہیں۔ جبکہ فی گائے چرواہے سے چالیس ہزار روپے میں بیوپاری خریدتے ہیں اور وہی گائے کراچی کی منڈی میں پانچ لاکھ روپے میں فروخت کر دیتے ہیں۔ اسی طرح بیل پچاس ہزار روپے میں خریدا جاتا اور وہی بیل کراچی کی منڈی میں تین سے چار لاکھ روپے میں فروخت کیا جاتا ہے۔

بیوپاری کبھی کسی کا احساس تک نہیں کرتے اسلیئے ان لوگوں نے فی جانور پہ لاکھوں کا منافع رکھا ہوتاہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر بندہ قربانی اپنی استطاعت کے مطابق کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ قیمتی خوبصورت جانور اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے ۔

بڑی عید کے موقع پر قربانی کے ہزاروں جانوروں کی خرید و فروخت پورے ملک میں جاری و ساری ہے ان قربانی کے جانوروں میں اکثر میں بیماریاں بھی پائی جاتی ہیں جو عام لوگوں کو نظر نہیں آتیں ۔ ہم نے ان بیماریوں کے بارے میں ستر سالہ بیوپاری سے پوچھا تو اس نے وہ چیزیں بتائیں جو آپ کو کبھی کسی جانوروں کے ڈاکٹروں نے بھی نہیں بتائی ہوں گی۔

اس کا کہنا ہے کہ پھولے ہوئے پیٹ یا بھرے بھرے پیٹ نظر آنے والے جانور کی کمر کے پچھلے حصے پر ہلکہ سا زور دے کے دیکھیں ،اگر جانور کمر نیچے کرلے تو مطلب اْسے انجکشن وغیرہ لگا کر اْسکے پیٹ کو پھولا دیا گیا ہے۔ کمر دبانے پر آگے نکلنے کی صورت کا مطلب جانور بالکل تندرست ہے۔

زیادہ موٹے جانوروں کی جسامت فطری نہیں ہوتی ہے بلکہ یہ جانور مختلف کیمیکل شدہ ادویات کے ساتھ پال پوس کے بڑے کئے گئے ہیں جن میں سر فہرست کھاد ، گھی ، ملٹی وٹامن، کی اداویات اور انجیکشن شامل ہیں۔ یہ ادویات وقت سے پہلے جانوروں کی جسامت میں اضافہ کر دیتی ہیں ۔ان جانوروں کے گوشت کا ذائقہ بھی بد مزہ ہوتا ہیں۔

دیسی پہاڑی بکرے کی پہچان یہ ہے کہ وہ قد کا چھوٹا ہوتا ہے اور اس کے جسم پہ مختلف رنگ اور سینگ بڑے ہوتے ہیں ،ان بکروں میں بیماریاں کم ہوتی ہے۔

جانور ہمیشہ دن کی روشنی میں خریدیں کیونکہ کچھ جانور پہاڑوں پہ چڑھتے ہوئے پہاڑوں سے گر بھی جاتے ہیں جن کی آنکھ یا کوئی اور اعضا ضائع بھی ہوسکتا ہے ۔جو رات کی روشنی میں نظر نہیں آئے گا۔ایسے جانوروں کی قربانی جائز نہیں ہوتی ہے۔

بیمار جانور کو جانچنے کیلئے کسی بھی جانور کے کان کے نچلے حصے اور زبان کے ایک طرف ہاتھ ضرور لگائیں۔ اگر بہت زیادہ گرم ہے تو وہ جانور بیمار ہے اور اس جانور کو ادویات دے کر زبردستی ٹھیک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

جو جانور زبان باہر نکال کے ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھر رہا ہو تو وہ جانور بھی بیماری کا شکار ہیں ۔ایسے جانوروں کی خریداری نہ کریں ۔ایسے جانور گھر تک بھی بڑی مشکل سے پہنچ پاتے ہیں اور موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔

ہمیشہ کسی بھی جانور کو خریدنے سے پہلے گردن کے نیچے والہ حصہ ضرور دیکھیں کیونکہ اکثر جانوروں کو گردن کے نیچے رسولی بھی ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ جانور ہمیشہ بیمار رہتے ہیں۔

جانور کھانے پینے میں سست ہو تو ان کی خریداری سے اجتناب کریں۔ بات در اصل یہ ہے کہ بیوپاری حضرات ملک بھر کے دیہی علاقوں میں جاتے ہیں اور وہاں سے انتہائی سستے داموں بیمار جانور خرید کر منڈی میں لاتے اور ان جانوروں کے فلمی نام رکھ کر مارکیٹ میں لاکھوں کے دام میں بیچ دیتے ہیں۔

لڑائی اور جھگڑا کرنے والے جانورو ں سے احتیاط ضرور کریں ورنہ یہ جانور آپ کو نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں۔

بلوچستان کے مشہور بیل بھاگ ناڑی کے ہوتی ہیں جو قد کے لمبے ہونے کے ساتھ ساتھ وزن میں بھی بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ یہ بیل وقت سے پہلے بڑے ہوتے ہیں تو ان کے دانت زبردستی توڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان میں اگر کسی بھی جانور کا دانت زبردستی توڑ دیا جاتا ہے تو اس کے دانت والی جگہ چیک ضرور کریں اس جگہ سے پانی نکلے گا۔ اور انکے دانت والی جگہ پرجیسے ہی ہاتھ رکھیں گے تو ان کی آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ہو جائے گا۔ ایسے جانوروں کو خریدنے سے اجتناب کیا جائے تو اچھا ہے، ان جانوروں کو دوندا تصوّر نہیں کیا جاتا ۔

اگر کوئی جانور سیدھا کھڑا ہے اور حرکت نہیں کر رہا، تب بھی اس جانور میں کچھ نہ کچھ بیماری کی امید کی جا سکتی ہے۔ ایسے جانوروں کی ٹانگ ٹوٹی ہوتی ہے جسے جوڑنے کی بھر کوشش کی گئی ہے۔

کسی بھی قربانی کے جانور کو خریدنے سے پہلے اس کو گھما پھرا کے دیکھ لیں تاکہ جانور کے وزن کے ساتھ بیماری بھی پہچان سکیں۔

قربانی کا گوشت ضرور کھائیں مگر احتیاط سے زیادہ گوشت کھانے سے آپ فوڈ پوائزن کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔

سندھ اور پنجاب کے دیہاتوں سے کچھ لوگ چربی کے پہاڑ لاکر کراچی کے پڑھے لکھے لوگوں کو لاکھوں روپے کے عوض فروخت کرکے چلے جاتے تھے جن کے کھانے سے خود انسان کی بھی چربی بڑھتی ہے ،اسلیئے چرجی والے جانوروں کی خریدنے سے اجتناب کریں۔

کوشش کریں کسی بھی جانور کو خریدنے سے پہلے کسی قصائی کو دکھادیں تو وہ جانور سستے داموں میں آپ کو خرید کے دے سکتا ہے، اسلیئے ہمیشہ قصائی کی دوستی فائدہ دیتی ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -