برطانیہ میں مقیم پاکستانی والدین نے اپنی نوجوان بیٹی کو نافرمانی پر قتل کردیا، پولیس پکڑ نہ پائی لیکن پھر ایک ٹی وی انٹرویو میں غلطی سے باپ ایسا اشارہ کر بیٹھا کہ سارا پول کھل گیا، فوری پولیس نے گرفتار کرلیا، ایسا کیا کیا تھا؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

برطانیہ میں مقیم پاکستانی والدین نے اپنی نوجوان بیٹی کو نافرمانی پر قتل ...
برطانیہ میں مقیم پاکستانی والدین نے اپنی نوجوان بیٹی کو نافرمانی پر قتل کردیا، پولیس پکڑ نہ پائی لیکن پھر ایک ٹی وی انٹرویو میں غلطی سے باپ ایسا اشارہ کر بیٹھا کہ سارا پول کھل گیا، فوری پولیس نے گرفتار کرلیا، ایسا کیا کیا تھا؟ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

  


لندن(نیوز ڈیسک) نوجوان بیٹی کو نافرمان قرار دے کر قتل کرنے والے ایک پاکستانی جوڑے کے بھیانک جرم کا شاید کبھی انکشاف نہ ہو پاتا، مگر ایک حاضر دماغ باڈی لینگوئج ایکسپرٹ نے اس جوڑے کا ایک انٹرویو دیکھتے ہوئے مقتول لڑکی کے باپ کے محض ایک معمولی اشارے سے پتا چلا لیا کہ قاتل وہی ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق 17 سالہ لڑکی شفیلہ کو قتل کرنے والے اس کے والدین افتخار اور فرزانہ نے ڈرامہ رچارکھا تھا کہ ان کی بیٹی لاپتہ ہوگئی ہے اور انہیں اس کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ پولیس کو بھی ان پر شک نہ ہوا، لیکن ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران جب افتخار سے پوچھا گیا کہ وہ خود تو اپنی بیٹی کے لاپتہ ہونے میں ملوث نہیں ہے، تو اس کا کہنا تھا ” ہرگز نہیں۔میں کبھی اس کے بارے میں تصور بھی نہیں کرسکتا۔“

’تم لوگ میرے سے شرط لگا لو کہ۔۔۔‘ شادی کی تقریب میں دولہے کی ماں ہر میز پر جاکر مہمانوں سے کیا شرط لگاتی رہی؟ سن کر ہر پاکستانی ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجائے گا، ایسا واقعہ آپ نے پہلے کبھی نہ سنا ہوگا

باڈی لینگوئج ایکسپریٹ کلف لینسلی کا کہنا ہے کہ ”میں یہ انٹرویو دیکھ رہی تھی۔ جواب دیتے ہوئے اس شخص نے اپنے سر کو اثبات میں ہلایاجبکہ منہ سے وہ انکار کر رہا تھا، جس سے مجھے پتہ چل گیا کہ وہ صاف جھوٹ بول رہا ہے۔ا گرچہ وہ اپنی بیٹی کے لاپتہ ہونے سے خود کو لاتعلق ظاہر کررہا تھا لیکن انجانے میں اس کا سر ’ہاں‘ کہنے کے انداز میں جھکا تھا۔ باڈی لینگوئج کے ماہرین جانتے ہیں کہ جب کوئی شخص جھوٹ بول رہا ہو تو عموماً اس کی جسمانی حرکات اس کی زبان سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ اس کیس میں بھی یہی ہوا کہ وہ زبان سے انکار کررہا تھا لیکن اس کے سر کی معمولی جنبش ’ہاں‘ کہہ گئی تھی۔“

بادی لینگوئج ایکسپرٹ کے توجہ دلانے پر افتخار کو گرفتار کر لیا گیا اور تفتیش کے دوران اس نے اعتراف کر لیا کہ اس نے اپنی بیٹی کی سانس بند کرکے اسے ہلاک کیا تھا، جس کے بعد اس کی لاش کمبریا کے علاقے میں دریائے کینٹ میں پھینک دی تھی۔ مزید تفتیش کے دوران مقتولہ کی بہن الیشہ نے بھی بتایا کہ اس کے والدین شفیلہ کی زبردستی شادی کرنا چاہتے تھے جس پر وہ تیار نہ تھی۔ غالباً اس کے انکار پر برہم ہوکر ہی سفاک باپ نے اسے بے دردی کے ساتھ قتل کر دیا تھا۔

مزید : برطانیہ