وہ علاقہ جہاں پچھلے 3 دن میں 3ہزار مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور ہم سب خاموش بیٹھے ہیں

وہ علاقہ جہاں پچھلے 3 دن میں 3ہزار مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور ہم سب خاموش ...
وہ علاقہ جہاں پچھلے 3 دن میں 3ہزار مسلمانوں کو قتل کردیا گیا اور ہم سب خاموش بیٹھے ہیں

  

ینگون(مانیٹرنگ ڈیسک) خون مسلم کی ارزانی کا یہ عالم چشم فلک نے شاید پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا، صرف گزشتہ تین دن کے دوران میانمر کے راخین صوبے میں 3000 مسلمانوں کو قتل کیا جاچکا ہے۔

ویب سائٹ ڈیلی صباح کی رپورٹ کے مطابق یورپین روہنگیا کاﺅنسل کی ترجمان انیتا شوگ نے اناطولیہ نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے یہ لرزہ خیز انکشاف کیا کہ میانمر میں مسلمانوں کی نسل کشی انتہا کو پہنچ گئی ہے، جہاں گزشتہ تین دن کے دوران تین ہزار مسلمانوں کو قتل کیا جاچکا ہے اور اس سے کہیں زیادہ زخمی ہیں۔ ان میں سے تقریباً ایک ہزا رمسلمانوں کو اتوار کے روز صرف ایک دیہات سوگ پارا میں قتل کیا گیا۔

میانمر سے جان بچانے کیلئے فرار ہونے والے تقریباً 2000 مسلمان بنگلہ دیشی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ ایک جانب موت ان کے سر پر کھڑی ہے تو دوسری جانب بنگلہ دیش میں انہیں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی۔ راخین صوبے سے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جاچکا ہے۔ میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز روہنگیا مسلمانوں کو مارنے کیلئے مارٹر گولوں اور مشین گنوں کا استعمال کررہی ہیں۔ سکیورٹی فورسز تو ایک طرف، مقامی بدھ مت آبادی بھی مسلمانوں کے قتل عام میں پیچھے نہیں ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ میانمر میں مسلمانوں کا قتل عام اس بڑے پیمانے پر کیا جارہا ہے کہ جس کی تاریخ میں مثال ڈھونڈنا مشکل ہے لیکن اس کے باوجود عالمی برادری اور بالخصوص مسلم ممالک کے رہنما چپ سادھ کر بیٹھے ہیں۔

’یہ سرحدی علاقہ خالی کردو‘ روس نے اپنے شہریوں کو حکم دے دیا، جنگ کی تیاری مکمل کرلی، آج کی سب سے بڑی خبر آگئی

روہنگیا مسلمان اس وقت دنیا کی سب سے بڑی بے وطن کمیونٹی بن چکے ہیں اور ان جیسا بدترین استحصال بھی تاریخ میں شاید ہی کسی کا ہوا ہوگا۔ میانمر میں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے لیکن حکومت انہیں اپنے ملک کا شہری ماننے کو تیار نہیں۔ میانمر کا قانون کہتا ہے کہ 1823ءسے پہلے اگر کوئی اس ملک میں آباد نہیں تھا تو وہ اس کا شہری نہیں ہوسکتا، اور اسی قانون کو استعمال کرتے ہوئے روہنگیا مسلمانوں سے زندہ رہنے کا حق چھینا جا رہا ہے۔

اب ایک جانب میانمر میں ان مسلمانوں کی زندگی موت سے بدتر ہے تو دوسری جانب جو فرار ہوکر بنگلہ دیش پہنچ گئے ہیں وہ بھی پناہ گزین کیمپوں میں بے یارومددگار پڑے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اقوام متحدہ نے بھی روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو ان کی نسل کشی کے مترادف قرار دیا ہے لیکن اس کے باوجود پوری دنیا میں کوئی نہیں جو ان مظلوموں کی فریاد سنے۔

مزید :

بین الاقوامی -