پنجاب پولیس اور نیا پاکستان( آخری حصہ)  

پنجاب پولیس اور نیا پاکستان( آخری حصہ)  
پنجاب پولیس اور نیا پاکستان( آخری حصہ)  

  

     گزشتہ دور حکومت میں   اٹھارویں ترمیم کے ذریعے لا اینڈ آرڈر کو صوبائی معاملہ قرار دے کر پولیس کو بھی صوبائی حکومت کے تابع کر دیا گیا تھا تاکہ اس میں بہتری آئے ۔اسی طرح تھانہ کلچر کو درست کرنے کےلئے کئی اقدامات تجویز کئے گئے  لیکن ان تمام تبدیلیوں کے باوجود پی ایس پی افسران کا اثرونفوذ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا اور فیڈرل پبلک سروس کمیشن پہلے سے زیادہ تعداد میں اے ایس پی کا انتخاب کئے جا رہا ہے ۔یاد رہے کہ پی ایس پی افسران کی ایسوسی ایشن ہے جبکہ صوبائی یا رینکر افسران کی کوئی ایسوسی ایشن یا تنظیم ہے  نہ  بننے دی جا رہی ہے جو کہ مظلوم پولیس افسران کے حق میں آواز بلند کر سکے جبکہ ایک پی ایس پی آفیسر محمد علی نیکو کارہ کو وزیراعظم نے سزا دی تو تمام پی ایس پی افسران نے یک جان ہو کر اس کے خلاف احتجاج کیا اور اس وقت تک دم نہیں لیا جب تک اسے بحال نہیں کروا لیا۔

پی ایس پی افسران کا ایک اور کمال دیکھیں۔ پنجاب میں  ڈی پی اوز  کے بعد ایس پی  کی  تمام  اچھی اور پرائم پوسٹیں بھی انہوں نے خود ہی اپنے لئے مختص کر لی ہیں ۔لاہور  ہی کی مثال لے لیں ۔یہاں پی ایس پی کسی نان پی ایس پی کو آپریشن میں لگانا اپنی توہین سمجھتے ہیں ،انوسٹی گیشن ایک لمبا اور  تھکا دینے والا کام ہے اس لئے یہاں یہ کم کم ہی لگتے ہیں۔ 

سابق صوبائی حکومت کی ہدایت پر ایڈیشنل سیکرٹری پولیس  ہوم ڈیپارٹمنٹ  سہیل اشرف نے صوبائی پولیس کیڈر کے قیام کے لئے ہوم ورک مکمل کر لیا تھا۔ صرف اسے لانچ کرنے کے لئے صوبائی حکومت کی منظوری باقی تھی لیکن پی ایس پی افسران نے اس پر عملدرآمد نہ ہونے دیا اور مذکورہ آفیسر کا تبادلہ بطور ڈی جی فورٹ منرو اتھارٹی  ہو گیا جس  کے بعد یہ معاملہ ٹھپ ہو کر رہ گیا۔

آج ملک میں سویڈش طرز  حکومت کی باتیں ہو رہی ہیں ،یہ تو جب ہوگا تب  دیکھیں گے مگر  کیا ہی اچھا ہو اگر پاکستان میں برطانیہ کی طرز پر بھرتی کا صرف ایک ہی چینل یعنی کانسٹیبل ہو ،اس کے علاوہ باقی رینک کی براہ راست بھرتی نہ کی جائے ۔یعنی پی ایس پی کیڈر کا خاتمہ کیاجائے اور صوبائی پولیس کیڈر کا قیام عمل میں لایا جائے۔

پولیس ملازمین اور    افسران کے لئے آرمرڈ فورسز کے ہم پلہ صحت، تعلیم اور رہائش کی معیاری سہولیات فراہم کی جائیں تا کہ وہ دلجمعی کے ساتھ اپنے فرائض منصبی سرانجام دے سکیں۔ شفٹ سسٹم یا پولیس کے ڈیوٹی کے اوقات کار کا تعین کیا جائے ہفتہ وارانہ  ریسٹ دی جائے اور مروجہ ماہانہ چھٹیاں بھی دی  جائیں۔ پی ایس پی افسران اپنے دفاتر میں بیٹھ کر صرف رینکرز کو برا بھلا کہتے ہیں ،فائل ورک کرتے ہیں، سارے کام رینکرز سے کرواتے ہیں ۔اس کے بدلہ میں ساری سہولیات (رہائش، گاڑی، پروٹوکول، پٹرول) سے استفادہ کرتے ہیں ،اس کے برعکس رینکرز افسران کو نہ ہونے کے برابر سہولیات میسر ہیں وہ ڈیوٹی بھی سرانجام دیتے ہیں ۔بے عزتی بھی کرواتے ہیں اور کرپشن سمیت نااہلی سستی کاہلی اور اس طرح کے دیگر الزامات کا سامنا بھی کرتے ہیں اور پی ایس پی افسران کی نظر میں ہمیشہ کرپٹ ہی رہتے ہیں۔ پی ایس پی افسران بنگلے، گاڑیاں اور بھاری بینک بیلنس ہونے کے باوجود ایماندار اور اہل ہیں۔

پنجاب میں تعینات ایس پی سے لے کر ایڈیشنل آئی جی کے عہدے کے افسران پر نظر دوڑائیں تو رینکرز افسران کہیں بھی نظر نہیں آئیں گے۔ یہ ناانصافی اور بے ضابطگی نہیں  تو اور کیا ہے؟۔ پنجاب کے 36 اضلاع میں سے 34 اضلاع میں پی ایس پی افسران بطور ڈی پی او  خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔کیا انہیں سرخاب کے پر لگے  ہیں یا وہ سقراط وبقراط   ہیں کہ جو عوام کے مسائل کے حل کا فوری ادراک رکھتے ہیں۔ انگلش زبان پر عبور  علیحدہ  بات، معاملہ فہمی اور حالات کو کنٹرول کرنا اور بات ہے ،ہو سکتا ہے انگریزی پر عبور رکھنے والا اچھا منتظم نہ ہو۔ اگر اچھی انگریزی ہی قابلیت کی علامت ہے تو انگلینڈ سے انگریز منگوا کر ڈی پی او   لگا لیں تا کہ وہ اور بہتر طریقے سے ضلع چلا سکیں۔اس ساری بحث کا مطلب یہ ہے کہ صوبائی پولیس افسروں کو اتنی ہی عزت دی جائے جتنی پی ایس پیز کو ملتی ہے بلکہ صوبائی پولیس افسروں کا حق کچھ سوا ہونا چاہئے۔

اگر کوئی رینکر کسی غلطی یا کوتاہی کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کو محکمہ کے لئے عبرت کا نشان  بنا دیا جاتا ہے جبکہ پی ایس پی افسر کی غلطی کوتاہی کو  قابل مواخذہ نہیں سمجھا جاتا  اور یہ کہا جاتا ہے کہ   اس نے ابھی ترقی کی کئی منازل طے کرنا ہوتی ہیں ۔ستم ظریفی یہ بھی ہے رینکرز پر E&D Rale 1975 جبکہ PSP پر Civil Servant Act قابل اطلاق ہے۔ Uniformity کسی بھی فورس کا لازمی حصہ ہے ۔ یہاں اس نام کی کوئی شے موجود نہیں دوسرے الفاظ میں پولیس فورس دو حصوں میں تقسیم ہے۔ PSP افسران اور نان پی ایس پی افسران۔پولیس کو ایک فورس بنانے اور تقسیم کو ختم کرنے کے لئے صوبائی پولیس سروس (کیڈر) کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے تا کہ صوبائی افسران کو مایوسی اور ناامیدی کی گہرائیوں سے نکالا جائے وہ بھی عزت کے ساتھ سر اٹھا کر جی سکیں اور نئے پاکستان میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔

 ۔۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -